جمہوری نظام بہتر ین ہے

تحریر افتخار حسین سید

پلیز خفا نہ ہونا! موجودہ جمھوری نظام حکومت حقوق انسانی کی طویل جدوجہد اور بیش بہا قربانیوں کے بعد قریب قریب پوری دنیا میں آج اپنی موجودہ شکل و صورت میں موجود ہے، اور ہر جگہ ایک بہترین نظام حکومت ثابت ہو رہا ہے لوگوں کا معیار زندگی بہتر بنانے کا باعث بن رہا ہے! مگر افسوس کہ میرے وطن میں اس نظام کو ایک دوسرے پر الزامات اور جوابی الزامات کا نظام بنا دیا گیا ہے،مہنگےآٹے کی بات کرو تو قصوروار پچھلے حکمران! پچھلے حکمرانوں سے سوال کیا جائے تو وہ کہتے ہیں ان سے پچھلے حکمران! ان پچھلے حکمرانوں سے سوال کرو تو وہ کہتے ہیں ان سے پچھلے حکمران! الغرض کسی سے بھی بڑھتے ہوئے عوامی مسائل اور مشکل ترین حالات کی ٹھوس وجوہات اور ذمہ دار کون کا سوال کیا جائے تو جواب پچھلے حکمران! ملک پر بے شمار اندورنی و بیرونی قرضے، جواب ! پچھلے حکمران! اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ، جواب! پچھلے حکمران!زندگی بچانے کی ادویات کی قیمتوں میں سینکڑوں فیصد اضافہ جواب پچھلے حکمران! تعلیم و صحت انتہائ مہنگی ترین، جواب! پچھلے حکمران! بجلی اور گیس اتنی مہنگی کہ ناقابل خرید، جواب! پچھلے حکمران! بارش آجائے تو سیلاب نہ ہو تو لوگ صاف پانی کو ترسیں، قصوروار پچھلے حکمران! یعنی سب اپنے اپنے دور حکمرانی میں بے قصور، معصوم اور فرشتہ صفت تھے ! اب میری قوم کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ اس پچھلے قصوروار حکمرانوں کی تلاش جاری رکھیں! جس کے ملنے کے چانسز بہت کم ہیں! اور کیوں نہ ہوں جب قوم کے 60 فیصد افراد الیکشن کے دن سوئے رہیں گے، اور 40 فیصد لوگ الیکشن،منشور اور الیکشن میں کھڑے ہونے والے لوگوں کی قابلیت اور ان کے کردار سے با خبر ہوئے بغیر صرف ان کی تقریریں سن کر ووٹ دیتے رہیں گے اور ٹیلی ویژن پر نتائج کا انتظار کریں گے تو ہماری آنے والی نسلوں کو بھی اس سے زیادہ بھیانک نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا! جن ملکوں کے عوام جمھوری نظام کےتحت اگر آج ترقی کر رہے تو اس کی صرف ایک ہی وجہ ہے کہ وہ الیکشن کےدن سب کام کاج چھوڑ کر پہلے ووٹ دینے جاتے ہیں اور اپنے ہی طبقے میں سے اپنے ہمدرد اپنے غم خوار اور باکردارامیدواروں کا انتخاب کرتے ہیں، اور اپنا اور اپنے آنی والی نسلوں کا مستقبل محفوظ بناتے ہیں! کیونکہ الیکشن کا دن محض ایک دن نہیں ہوتا اس دن ہم نے ان لوگوں کا انتخاب کرنا ہوتا ہے جو 5 سال تک ہمارے ٹیکس کے ہزاروں ارب روپوں کو استعمال کرنے کے آئینی حقدار بن جاتے ہیں! اس کے بعد 5 سال تک ہمارے ہاتھ میں کچھ نہیں رہتا! “سوائے فریاد اور چیخ و پکار کے!!!!