بارش کی ہنگامی صورتحال میں نالوں کی صفائی کا کام پورے سندھ میں شروع ہوگیا، مرادعلی شاہ

ورلڈ بینک کے تحت سالڈ ویسٹ ایمرجنسی اینڈ ایفشنسی پروجیکٹس (ایس ڈبلیو ای ای پی) کے تحت 11 ملین ڈالر کے پری ڈرون سروے کے ایم سی کے تمام 38 نالوں کا گیا ہے جبکہ عالمی بینک کی ضرورت کے مطابق نالوں اور ڈمپ سائٹوں پر ماحولیاتی اور سماجی و اقتصادی انتظام سروے کیا جارہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں ہوا۔ اجلاس میں وزیر بلدیات ناصر شاہ ، چیف سکریٹری ممتاز شاہ ، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری ساجد جمال ابڑو ، سیکرٹری بلدیات روشن شیخ ، سیکرٹری خزانہ حسن نقوی، کمپی ٹیٹو اور لائیوئبل سٹی آف کراچی (کلک) کے پی ڈی زبیر چنا اور دیگر نے شرکت کی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ بارش کے ہنگامی انتظامات کے تحت انہوں نے 229 ملین روپے جاری کردیئے اور فنڈز تمام ڈویژنل کمشنرز کے اختیار میں رکھے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ میں نے چیف سیکریٹری کے ذریعہ تمام ڈی سیز اور ایم سیز کو ہدایت کی ہے کہ وہ نالوں کو صاف کریں اور بارش کے پانی کو کی نکاسی کیلئے ضروری انتظامات کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کمشنر کراچی نے 30 ملین روپے کے اضافی فنڈز کی درخواست کی جو جاری بھی کردیئے گئے ہیں۔ وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے بتایا کہ محکمہ بلدیات، کمشنرز دفاتر ، ڈپٹی کمشنرز کے دفاتر اور میونسپل کمیٹی کے تمام دفاتر میں بارش ایمرجنسی سیل قائم کردیئے گئے ہیں اور 1093 شکایات مرکز قائم کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ورلڈ بینک نے کراچی میں سالڈ ویسٹ سسٹم کی بہتری کیلئے 100 ملین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری پر اتفاق کیا ہے۔ واضح رہے کہ SWEEP پروجیکٹ کا تصور نومبر 2019 میں پیش کیا گیا تھا۔ اس منصوبے میں بین الاقوامی معیار کے مطابق کوڑے دان کی منتقلی کے اسٹیشنوں میں بہتری ، دھابیجی میں جدید لینڈ فل سائٹ کا قیام ، جام چاکرو لینڈ فل سائٹ کی اپ گریڈیشن ، کراچی کے نالوں کو صاف کرنے کیلئے ہنگامی اقدامات شامل ہیں جوکہ شہر کے اہم سیوریج کیریئر کے طور پر کام کرتے ہیں کام شروع کیا جارہا ہے۔SWEEP میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے 11.0 ملین ڈالر کی رقم مختص کی گئی ہے۔
سالڈ ویسٹ کو اکٹھا کرنے یا ڈسپوزل کرنے کا نظام:
وزیراعلیٰ سندھ کو بریفنگ دیتے ہوئے پی ڈی کلک پروجیکٹ زبیر چنہ نے کہا کہ منصوبہ بندی کمیشن نے 8 جون 2020 کو ایس ڈبلیو ای ای پی پروجیکٹ کے ابتدائی نوٹ کی منظوری دے دی۔ ورلڈ بینک کی سفارش پر اور اسٹاپ گیپ کے انتظام کے طور پر کلک کو ایس ڈبلیو ای ای پی کا کام سونپا گیا تھا۔ کلک کو نالوں کی صفائی کی مشق کرنے کا اختیار دیا گیا تھا جیسا کہ ایس ڈبلیو ای ای پی پروجیکٹ میں بیان کیا گیا ہے۔ اس پر وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ حکومت اپنے وسائل سے 8 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہی ہے جسے عالمی بینک کے ذریعہ موثر انداز میں کیا جائے گا۔ زبیر چنا نے بتایا کہ تفویض اکاؤنٹ کھولنے کی اجازت محکمہ فنانس کے ساتھ ساتھ اے جی سندھ نے بھی دی ہے۔ نیشنل بینک پیر تک اکاؤنٹ نمبر جاری کرے گا۔
طریقہ کار وضع دینا :
زبیر چنہ نے وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا کہ ٹھیکیداروں کو ادائیگی کیلئے جو طریقہ کار اپنایا گیا ہے وہ بالکل شفاف اور فول پروف ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ رقم ٹھیکیداروں کو نالوں سے نکالے جانے والے کچرے کی مقدار کی بنا پر نمٹانے یا پھینکنے کی بنیاد پر ادا کی جائے گی۔جام چاکرو میں 10 ایکڑ اراضی اور ٹی پی 1 (پرانے کیچڑ کے ٹینکوں) کی شناخت ڈمپ سائٹس کے طور پر کی گئی ہے۔ ڈمپ سائٹس کو ٹھکانے لگانے والے کیچڑ کی تھرڈپارٹی کی اہلیت نیسپاک کو نگرانی اور اسپاٹ چیکنگ اسائنمنٹ دی گئی ہے۔ ہر ضلع کیلئے مخصوص کیو آر کوڈڈ سلپس شایع کی جائیں گی۔ سلپ کی بنیاد پر نیسپاک دوبارہ ڈمپ سائٹ پر کیچڑ/کچرے کی مقدار طے کرے گا۔ صرف 38 بڑے نالوں کو ہی SWEEPمیں لیا گیا ہے۔ پی ڈی نے وزیراعلی کو بتایا کہ کے ایم سی کے تمام 38 نالوں سے پہلے ڈرون سروے کیا گیا ہے۔ عالمی بینک کی ضرورت کے مطابق ماحولیاتی اور سماجی و اقتصادی انتظامی سروے نالوں اور ڈمپ سائٹس میں کیا جا رہا ہے۔
کے ایم سی نالے:
واضح رہے کہ کے ایم سی میں 38 بڑے نالے ہیں ان میں محمود آباد نالہ ضلع شرقی، سونگل نور اللہ ضلع شرقی، منظور کالونی نالہ ضلع شرقی، چکورا نالہ ڈسٹر شرقی/ کورنگی ، گجر نالہ ضلع وسطی ، قلندریا ڈرین ضلع وسطی، اورنگی نالہ ضلع غربی ، مواچھ نالہ ضلع غربی، شیرشاہ نالہ ضلع غربی، سولجرنالہ ضلع جنوبی گارڈن ، سولجر نالہ ضلع جنوبی مکی مسجد ، سولجر نالہ پی آئی ڈی سی ضلع جنوبی، فریئر نالہ ضلع جنوبی، اکبر روڈ ضلع جنوبی، کلری اللہ ضلع جنوبی، پچر نالہ ضلع جنوبی، مہران کٹ ( سعدی ٹاؤن) ضلع ملیر ، مہران ہائی وے نالہ ضلع ملیر ، 8000 روڈ ڈرین ضلع کورنگی (شروع) اور 9000 روڈ ڈرین ضعل کورنگی (شروع) شامل ہیں۔
ضلع وسطی :
وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ شہر میں نالوں کی کھدائی یا صفائی شروع کردی گئی ہے۔ اب تک مختلف اضلاع میں واقع مختلف نالوں سے 295824 ٹن کچرا / کیچڑ نکالا گیا ہے۔ اس میں ضلع وسطی سے 64269 ٹن ، ضلع غربی سے 86333 ٹن ، ضلع جنوبی سے 55911 ٹن ، ضلع شرقی سے 77001 ٹن اور ضلع ملیر سے 12310 ٹن شامل ہیں۔ نالوں سے کیچڑ نکالنے کیلئے اس وقت مختلف اضلاع میں 33 کھدائی کرنے والی مشینیں اور 69 ڈمپرز کام پر لگے ہوئے ہیں۔ وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ کے الیکٹرک اور حیسکو کے ذریعہ بجلی کی بندش ڈسپوزل پوائنٹس پر مین پمپنگ اسٹیشنوں کی بندش مسئلہ پیدا کررہی ہے۔ اس پر وزیر اعلیٰ سندھ نے محکمہ توانائی کو ہدایت کی کہ وہ کے الیکٹرک اور حیسکو سے بات کریں اور انھیں پمپنگ اسٹیشنوں کو لوڈشیڈنگ مستثنیٰ کرنے کی ہدایت کریں۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ کراچی میں نالوں کی صفائی اور تعمیر نو کا معاملہ ایس ڈبلیو ای ای پی کے تحت بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے یہ معاملہ ایک بار حل ہوجائے گا اور پھر ان کی دیکھ بھال کے ایم سی کرے گی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کھلے نالوں میں پھینک دیا جانے والا 50فیصد فضلہ ایک مسئلہ تھا اور نالوں کے ساتھ غیرقانونی الاٹمنٹ اور تجاوزات بھی ایک مسئلہ تھا۔ انہوں نے چیف سکریٹری کو ہدایت کی کہ وہ متعلقہ محکموں اور اداروں کو ضروری ہدایات دے کر دونوں معاملات حل کریں۔
عبدالرشید چنا
میڈیا کنسلٹنٹ وزیراعلیٰ سندھ