چئیرمین سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ سینیٹر رحمان ملک کا فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے صدر کو خط

سینیٹر رحمان ملک کا ایف اے ٹی ایف کے صدر سے پاکستان کا نام مستقل طور پرگرے لسٹ سے خارج کرنے کا مطالبہ،  پاکستان کا نام یا تو مستقل طور پر گرے لسٹ سے خارج کیا جائے یا گریس پریڈ میں ایک سال کا اضافہ کیا جائے،  پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کیطرف سے پانچ ماہ گریس پریڈ دینے پر شکریہ ادا کرتا ہوں، امپیریل کالج و ڈبلیو ایچ او کے مطابق جولائی اور اگست میں پاکستان میں کورونا مریضوں کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ ہوگا، کورونا وبا نے پارلیمنٹ کے انتظامی امور اور قانون سازی بری طرح متاثر کردیا ہے،  کورونا کیوجہ سے ایف اے ٹی ایف کا مطلوبہ قانون سازی موجودہ صورتحال میں بروقت ممکن نہیں ہے،  14 فروری 2019 کو آپکے نام خط میں مودی کے جرائم و منی لانڈرنگ میں ملوث ہونے کے ثبوت پیش کئے تھے،  وزیراعظم مودی کا منی لانڈرنگ و دیگر جرائم میں ملوث ہونے کے باوجود انکے خلاف اقدامات نہیں لئے گئے، پاکستان اقوم متحدہ و امریکہ کیساتھ ملکر دہشت گردی کیخلاف طویل جنگ لڑ چکا ہے،  دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کی ان گنت جانی و مالی نقصانات اٹھائے ہیں،  امید تو یہ تھی کہ ایف اے ٹی ایف پاکستان کی دہشت گردی کیخلاف قربانیوں کو تسلیم کرتا،  دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ملک ہے اور پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنا ناانصافی ہے۔  باور رہے کہ اس سے پہلے سینیٹر رحمان ملک نے ایف اے ٹی ایف کو گرے لسٹ سے خارج کرنے کیلئے خط لکھا تھا،۔ سینیٹر رحمان ملک کی اپیل پر ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کےلئے مدت میں توسیع کا اعلان کیا۔