پروفیسر وارث میر: ایک باغی کی کہانی

مارشل لاادوار ، خصوصاً ضیاء الحق کے دور میں پاکستان کی ’’پابند صحافت اور سیاست ‘‘کے عام رجحانات سے بغاوت کر کے اپنے نظریات کو جرأت اور سچائی کے ساتھ بیان کرنا اور پھر ان پر قائم رہنا کس قدر دشوار اور جان سے گزر جانے والی دیوانگی تھی، اس کا ادراک ضیاء دور میں قیدو بند کی صعوبتیں برداشت کرنے اور کوڑے کھانے والے صحافی حضرات اچھی طرح رکھتے ہیں۔

چونکہ ملک کے نامور دانشور، استاد اور صحافی پروفیسر وارث میر نے اپنی زندگی آزادئ اظہار اور حریت فکر کی جنگ لڑتے ہوئے گزاری، اس لئےجمہور اور سچ گوئی سے کمٹ منٹ ان کی تحریروں میں جا بجا نظر آتی ہے۔ وارث میر کے اپنے الفاظ میں ’’زندہ قوم کی ایک نشانی یہ ہے کہ اس کے لکھنے اور پڑھنے والوں کو پابندیوں اور قدغنوں کی کتنی ہی بیڑیاں کیوں نہ پہنا دی جائیں ، ان کے منہ پر کتنے ہی تالے کیوں نہ لگا دئیے جائیں ، وہ کسی نہ کسی طریقے سے آہ یا سسکی بھر کر احتجاج کا اظہار کر ہی دیتے ہیں۔

زنجیروں میں جکڑے ہوئے صاحب قلم و مطالعہ کے دل میں زنجیروں کو توڑ دینے کی خواہش، نیت کی پوری قوت اور اخلاص کے ساتھ موجود ہو تو اس سے ہر حلقۂ زنجیر کو زبان ملتی ہے۔ ویسے بھی ایک سچا لکھنے والاکسی کا ایجنٹ یا آلۂ کار نہیں بن سکتا، کیونکہ لکھنے والے کا تعلق انسانیت اور اپنے معاشرے کے بہتر مستقبل سے ہوتا ہے ۔ وہ اعلیٰ انسانی قدروں، حسن، خیر ، امن، اعتدال اور وطن سے محبت کا پرچارک ہوتا ہے اور وہ انقلاب کے لئے کلاشنکوف یا میزائل چلانے کی بجائے اپنا قلم چلاتا ہے جسے وہ عوام کی امانت سمجھ کر استعمال کرتا ہے‘‘۔

پروفیسر وارث میرکا مؤقف تھا کہ کسی بھی قوم کی ترقی و تنزلی میں اس کے اہل فکر و دانش کا کردار بنیادی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ وہ سمجھتے تھے کہ یہ طبقہ جس قدر عصری تقاضوں کو سمجھنے اور تاریک راہوں میںچراغ جلانے والا ہو، اسی قدر تیزی سے وہ قوم ترقی کی منازل طے کرتی ہے لیکن جس قوم کا دانشور طبقہ اپنے کردار سے غافل ہو جائے یا اس کی ادائیگی سے پہلو تہی کرے ، اس قوم کے زوال کے امکانات بھی اسی قدر بڑھ جاتے ہیں۔وارث میر کی تحریروں میں پڑھنے والوں کو جگہ جگہ حریت فکر کے علمبرداروں سے ملنے کا موقع ملے گا۔

بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ خود بھی حریت فکر کے ایک راہی تھے اور فکر اور سوچ پر پہرے کسی بھی صورت برداشت کرنے کو تیار نہیں تھے۔ حریت فکر سے متعلق ان کی تحریروں میں ان دانشوروں کی جدوجہد کے قصے پڑھنے کو ملتے ہیں جنہوں نے اپنے ذہن و ضمیر پر پہرے قبول کرنے سے انکار کردیا حالانکہ انہیں اس عمل کی بھاری قیمت اد ا کرنا پڑی۔

یہ وہ دانشور اور لکھاری تھے جنہوں نے اپنے اپنے عہد میں وقت کے جبر کے خلاف فکر، شعور اور عزم و ہمت کی تلوار سے جنگ لڑی اور ضمیر کی شمع کو ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں تھمانے کا فرض ادا کرتے رہے ، انہی میں ایک معتبر نام وارث میر کا بھی ہے جنہوں نے بے لاگ اور بے باک صحافت کی آبیاری خون دل سے کی اور اس کونئی جان و جہت عطا کی۔

آج تین دہائیوں بعد بھی وارث میر کی تحریروں کا جائزہ لیا جائے تواُن میں ہمیشگی کا عنصر نمایاں نظرآتا ہے اور وہ آج کے حالات میں بھی تازہ محسوس ہوتی ہیں۔

وارث میر نے جہاں ان خوشامدی سیاستدانوں ، صحافیوں اور ادیبوں کے بارے میں لکھا ہے جنہوں نے دنیاوی عہدوں اور آسائشوں کے حصول کے لئے اپنے ضمیر کا سودا کیا وہیں ماضی کے ان باضمیر اور باکردار دانشوروں ، ادیبوں اور صحافیوں کے بارے میں بھی طبع آزمائی کی ہے کہ جو حریت فکر کے راہی ٹھہرے اور جنہوں نے تمام ترلالچ اور دبائو کے باوجود ببانگ دہل سچ لکھا اور کسی بھی دنیاوی مصلحت کا شکار ہونے سے انکاری رہے۔

وارث میر کی زیادہ تر انقلابی تحریریں جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا دورہی کی تخلیق ہیں جب صحافت پابند سلاسل تھی اورترقی پسندی، حریت اورخرد سے متعلق لکھنے والوں کو ملک دشمن اور غدار قرار دیا جاتا تھا۔ غداری کی یہ تہمت پروفیسر وارث میر پر بھی لگائی گئی لیکن جون 2020 میں سندھ اور پنجاب کی صوبائی اسمبلیوں نے ان کے خلاف ایسے بیہودہ فتوؤں کو مسترد کرتے ہوئے ان کے حق میں قراردادیں منظور کر کے ان کے نظریاتی مخالفین کو جھوٹا ثابت کر دیا۔

یاد رہے کہ وارث میر جامعہ پنجاب کے شعبہ صحافت سے وابستہ تھے لیکن جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنے سے باز نہیں آتے تھے۔ یہ بھی سچ ہے کہ صحافت پر پابندیوں کے حوالے سے ضیاء دور بدترین گردانا جاتا ہے، یہ وہ زمانہ تھا جب سیاسی سرگرمیوں پربھی پابندی عائد تھی، اخبارات و رسائل سنسرشپ کا شکار تھے۔ باضمیر صحافیوں کو کوڑے مارے جاتے تھے اور بے ضمیروں کو معتبر مانا جاتا تھا یعنی صحافیوں کو پالنے پوسنے اور ان سے خوشامدی تحریریں لکھوانے کا حکومتی عمل اپنے عروج پر تھا۔تاہم تمام تر حکومتی دبائو کے باوجود، وارث میرکلمہ حق کہنے سے باز نہ آئے۔

اس دوران ضیاء جنتا کے دباؤ کے پیش نظر نوائے وقت میں ان کی تحریروں پر سنسر شپ کی قینچی زیادہ تیزی سے چلنا شروع ہوئی تو پروفیسر وارث میر 1985 میں روزنامہ جنگ سے وابستہ ہو گئے اور نوید فکر کے عنوان سے مستقل کالم لکھنا شروع کر دیا۔ سنسرشپ کے اس دور میں چونکہ براہ راست حکومت پر تنقید سنسر کی نذر ہوجاتی تھی ،چنانچہ وارث میرماہر ابلاغ کا ربن کر استعاراتی تحریروں کے ذریعےاپنا پیغام مخاطبین تک پہنچاتے۔

پروفیسر وارث میر حریت فکر کے پُر خطر سفر میں پیش آنے والے مسائل سے بخوبی آگاہ تھے لیکن حق اور سچ گوئی کی جنگ میں پیچھے ہٹنا ان کا شیوہ نہیں تھا۔ وارث میر جس راستے پر سفر کر رہے تھے، وہ پر خار اور دشوار تھا لیکن وہ اس پر گامزن رہے، چونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ سچائی کا راستہ تھا۔

چنانچہ وہ سچائی کے پر خطر سفر پر اپنے نظریات کے مطابق پوری کمٹ منٹ سے گامزن رہے اور 9 جولائی 1987 کو وہ پُراسرار حالات میں صرف 48 برس کی عمر میں اچانک انتقال کر گئے۔ تاہم اس باغی کی کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی کیونکہ وارث میر اپنی انقلابی تحریروں کی صورت میں آج بھی زندہ ہیں
—–
by-amir-mir-jang