لوڈ شیڈنگ پرقومی اسمبلی میں گرماگرمی ،کورم پورانہ ہونے پراجلاس ملتوی

قومی اسمبلی سیشن کے آغازپر وفاقی وزیرعمرایوب نے پیپلز پارٹی کے توجہ دلاو نوٹس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت نے کراچی میں بجلی کی فراہمی بہتر بنانے کےلئے اقدامات کئے ہیں تاکہ صوبائی دارالحکومت کے عوام کو در پیش مسئلہ حل کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک کا معاملہ کئی برسوں سے ہے، کے الیکٹرک کو نیشنل گریڈ سے مزید بجلی درکار ہے، سندھ سے نیپرا میں موجود ممبر اپنےاختیارات استعمال نہیں کر رہے،کراچی میں دو مزید گریڈ سٹیشن بنائے جائیں گے۔ راجہ پرویز اشرف اورخواجہ آصف دونوں بجلی کے وزیر رہے انہوں نے کے الیکٹرک کے خلاف ایکشن کیوں نہیں لیا ۔ماضی میں حکمرانوں نے کراچی میں بجلی کی ضرورت کے مطابق پیداوار نہیں بڑھائی، پاکستان میں بجلی کے کارخانے بڑھے لیکن کراچی ان کارخانوں سے بجلی نہیں لے سکتا۔
پیپلزپارٹی کے رہنما راجہ پرویز اشرف نے ان خیالات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ آج کی تقریر سن کرسوال گندم جواب چنا کے مفہوم کا علم ہوگیا،انہوں نے کہا کہ اقتدار میں آ کردو تین مہینے یہ فقرے چلتے ہیں کہ سابق حکمرانوں نے یہ کام نہیں کیا ،حکومت دوسال بعدکہہ رہی ہے 2سال میں مسئلہ حل ہوگا۔سوال کے جواب میں ملبہ گزشتہ حکومتوں پر ڈالا جاتا ہے ۔سوال کرنے پر آپ سیخ پا ہوجاتے ہیں ۔
کے الیکٹرک کےمعاملے پر قومی اسمبلی میں ہنگامہ آرائی کے دوران پیپلز پارٹی کے ارکان کی وفاقی وزیر عمر ایوب اور اسلم خان کے ساتھ تلخ کلامی ہوئی ، اس موقع پر رکن قومی اسمبلی اسلم خان نے خواتین ارکان کے ساتھ سخت جملوں کا تبادلہ کیا۔
قومی اسمبلی میں مراد سعید نے عذیر بلوچ کا 164کا بیان پڑھ کر سنایا ، جس کے مطابق بھتہ خوری کی رقم آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور کو بھیجی جارہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عذیر بلوچ نے پولیس مقابلوں ، اغوا برائے تاوان اور پولیس اسٹیشن پر حملوں کا اعتراف کیا ہے۔دوسری طرف جب کورم کی کمی کی نشاندہی کی گئی تو ڈپٹی اسپیکر نے ارکان کی گنتی کا حکم دیا۔ ڈپٹی اسپیکر نے اراکین اسمبلی کی مطلوبہ تعداد موجود نہ ہونے کی وجہ سے ایوان کی کارروائی معطل کردی۔ تاہم ، ایوان اب بھی کورم کے بغیر بھی کارروائی جاری رکھ سکتا ہے، اگر کسی ممبر کی طرف پوائنٹ آؤٹ نہیں کیا گیا ہے ۔ایوان کی کارروائی کل صبح 11 بجے تک ملتوی کردی گئی

Courtesy Gnn News