ایک انڈے کو نکالنے سے کچھ نہیں ہو گا،مائنس آل کی بات کریں:فضل الرحمان

جمعیت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ 2018 کے الیکشن کو بہت بڑا فراڈ سمجھتے ہیں،اس الیکشن کو تمام سیاسی جماعتوں نے مسترد کیا ہے،آج بچے بچے کی زبان پر ہے کہ یہ الیکشن فراڈ اور جعلی حکمران ہیں،موجودہ حکومت سےپوری قوم پریشان ہے، موجودہ وزیراعظم ملک پر بوجھ ہیں، ریاست کی بقا کا دارومدار معاشی خوشحالی پر ہے،ملک کی معاشی صورتحال پر فکر لاحق ہے،سیاسی جماعتیں ریاست کے بقا کی جنگ لڑرہی ہیں،حکومت کی کوئی پالیسی کامیاب نہیں،عوامی مسائل میں معاشی مسئلہ اولین ضرورت ہوتا ہے، ریاستوں کا بقا کا مدار معاشی خوشحالی ہوتا ہے، پاکستان میں پہلی بار ہمارا بجٹ صفر سے نیچے چلا گیا ہے،پہلی دفعہ ہوا آئندہ سال کا بجٹ پچھلے سال کے بجٹ سے کم کیا گیا،اس ملک کو مزید کتنا تباہ کرنا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک انڈے کو نکالنے سے کچھ نہیں ہو گا مائنس آل کی بات کریں، پانچ سال پورے کرنے کے معنی ہیں آپ پوری قوم کو بددعا دے رہے ہیں،آپ کووڈ 19 کی بات کر رہے ہیں ہم کووڈ 18 سے نبردآزما ہیں،ووٹ قوم کی آمانت ہے اسے واپس عوام کو دیا جائے، ایک دفعہ شفاف انتخابات قوم کو دیئے جائیں اورقوم جو فیصلہ کرے گی اسے ہم مانیں گے۔
مولانا فضل الرحمان نے مزید کہاکہ جس طرح فاٹا کا انضمام کیا گیا،اس طرح کشمیر کا انضمام کر لیا گیا، کشمیر کے محاذ پر جنگ ہے اور کرتارپور کے محاذ پر دوستی ہے،کوئی ایک پالیسی نہیں پوری قوم پریشان ہے،وزیراعظم کچھ اور فوج کچھ کہتا ہے، ریاست اور ریاستی ادارے ایک پیج پر نہیں ہیں، وفاق اور سندھ ایک پیج پر نہیں ہیں،تین صوبے کچھ کہتے ہیں ایک صوبہ کچھ کہتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وبا ہے، ہم نے کہا وبا پر ہم نے کوئی سیاست نہیں کرنا،مدارس کو ہم نے کھولنے کا فیصلہ کیا ہے، دینی مدارس کے چھٹیوں کے مہینے رمضان شوال ہوتے ہیں جو گزر گئے، حفظ کرنے والے بچے تو ایک ہفتہ نہ پڑھیں تو پچھلا بھول جاتے ہیں، عیدالضحی کے بعد مدارس کھولنے کی ہم بھی بات کر رہے ہیں اور حکومت بھی کر رہی ہے ، کسی اختلاف میں نہیں جانا چاہتے

Courtesy GNN News