ماتحت پاور ڈویژن اور دیگر ماتحت اداروں کی ناقص کارکردگی کا ملبہ سندھ حکومت پر گرانے کے بجائے اس بات کا جواب دیں کہ کہ کراچی جو پاکستان کا معاشی حب ہے اس شہر میں گھنٹوں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ, بجلی کے تار لوگوں کے سروں پر گرنے اور بجلی کے کھمبوں میں کرنٹ دوڑنے کی ذمہ داری کے الیکٹرک اور اس کمپنی کو لائسنس جا ری کر نے والوں کی ہے یا کسی اور کی اور وفاقی وزیر یہ بھی بتائیں کہ کے الیکٹرک کی بدترین کارکردگی پر کارروائی کے اختیار کے باوجود وفاق کی جانب سے کےالیکٹرک کے خلاف اب تک کیا کارروائی کی گئی

سندھ کے وزیر توانائی امتیاز احمد شیخ نے وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب خان کی آج قومی اسمبلی میں تقریر کے مندرجات پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی وزیر اپنے ماتحت پاور ڈویژن اور دیگر ماتحت اداروں کی ناقص کارکردگی کا ملبہ سندھ حکومت پر گرانے کے بجائے اس بات کا جواب دیں کہ کہ کراچی جو پاکستان کا معاشی حب ہے اس شہر میں گھنٹوں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ, بجلی کے تار لوگوں کے سروں پر گرنے اور بجلی کے کھمبوں میں کرنٹ دوڑنے کی ذمہ داری
کے الیکٹرک اور اس کمپنی کو لائسنس جا ری کر نے والوں کی ہے یا کسی اور کی اور وفاقی وزیر یہ بھی بتائیں کہ کے الیکٹرک کی بدترین کارکردگی پر کارروائی کے اختیار کے باوجود وفاق کی جانب سے کےالیکٹرک کے خلاف اب تک کیا کارروائی کی گئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت کے الیکٹرک کے 26 فیصد شیئرز کی مالک ہے اور کے الیکٹرک کے بورڈ میں بھی وفاقی حکومت کے نمائندے موجود ہیں لہٰذا وفاقی حکومت کسی طرح بھی کے الیکٹرک کے امور سے بری الزمہ نہیں۔
وزیر توانائی سندھ امتیاز احمد شیخ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ھم نے لوڈ شیڈنگ کی شکایات کے حوالے سے وفاقی وزیر توانائی اور چیئرمین نیپرا کو خطوط بھی لکھے جن کا ابھی تک جواب بھی نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ لوڈ شیڈنگ کی ایک اور بڑی وجہ وفاقی حکومت کی جانب سے لگائی گئی فرنیس آئل کی درآمد پر پابندی کے ساتھ ساتھ وفاقی حکومت کی ناقص حکمت عملی اور بد انتظامی ہے۔
سندھ کے وزیر توانائی امتیاز شیخ نے اپنے ردعمل میں وفاقی وزیر کی قومی اسمبلی میں تقریر کے مندرجات کو سراسر غلط بیانی قرار دیتے ہوۓ کہا کہ حالیہ بارشوں میں اموات سڑکوں پر پانی کھڑا ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ بجلی کے تاروں کے لوگوں کے سروں پر گرنے کی وجہ سے ہوئی ہیں انہوں نے کہا کہ محکمہ بلدیات سندھ کے موثر انتظامات کے سبب کسی بھی مصروف شاہراہ پر پانی کھڑا نہیں ہوا. انہوں نے واضح کیا کہ نیپرا میں سندھ کا نمائندہ اپنا کردار ادا کر رہا ہے مگر اس کی کوئی شنوائی نہیں ہوتی کیونکہ نیپرا میں فیصلے ایک اکیلا ممبر نہیں بلکہ پوری اتھارٹی کرتی ہے جس میں تمام اراکین اور چیئرمین شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر اپنی ناکامیوں کا ملبہ سندھ حکومت پر ڈالنے کے بجائے اپنی کارکردگی بہتر بنانے کی کوشش کریں۔

ھینڈ آؤٹ نمبر۔(ایس۔اے۔این)