ڈیری فارمرز کی جانب سے کھلے دودھ کی قیمتوں میں مزید 10روپے فی لیٹر اضافہ نا جائز منافع خوری ہے : کوکب اقبال

ڈیری فارمرز کی جانب سے کھلے دودھ کی قیمتوں میں مزید 10روپے فی لیٹر اضافہ نا جائز منافع خوری ہے۔ سرکاری ریٹ 94روپے فی لیٹر صارفین کو دودھ میسر نہیں پہلے ہی دودھ من مانے طور پر 110روپے فروخت ہورہا ہے مزید اضافہ سے دودھ 120 روپے فی لیٹر ہوجائے گا۔صارفین کی جیبوں پر 4ارب 20کروڑ روپے مہینہ ڈاکہ مارنے کی تیاریاں عروج پر ہیں۔کمشنر کراچی فوری ایکشن لیں۔ کوکب اقبال، چیئرمین کنزیومر ایسوسی ایشن آف پاکستان

کراچی:  ڈیری فارمرز کی جانب سے کھلے دودھ کی قیمتوں میں مزید 10روپے فی لیٹر من مانا اضافہ صارفین کی جیبوں پر ڈاکہ کے مترادف ہے۔ شہر کراچی میں دودھ 110 روپے فی لیٹر فروخت ہورہا ہے جبکہ کمشنر کراچی کے جارہ کردہ نرخوں کے مطابق کھلے دودھ کی سرکاری قیمت 94روپے فی لیٹر ہے جس پر عملدرآمد نہیں ہورہا۔ کمشنر کراچی افتخار شلوانی کے واٹس اپ نمبر پر کئی مرتبہ شکایات درج کرائی مگر شنوائی نہیں ہوئی یہ کہا جاتا ہے کہ آپ کی شکایات حل کردی جائیں گی ۔ یہ بات کنزیومر ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین کوکب اقبال نے دودھ کی قیمتوں میں بلا جواز اضافہ پر کیپ کے دفتر میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہی انہوں نے کہا کہ کئی ماہ قبل کمشنر آفس میں بلائے گئے اجلاس میں ڈیری فارمز، ہول سیلرز ریٹیلرز اور صارفین کی نمائندہ تنظےم کنزیومر ایسوسی ایشن آف پاکستان کی موجودگی میں دودھ فروشوں کی جانب سے دیے گئے لاگت اور منافع کو دیکھنے کے بعد کمشنر کراچی نے سرکاری نرخ 94روپے فی لیٹر کرنے کا اعلان کیا تھا اور اس پر عمل درآمد کے لیے کراچی کے تمام ڈسٹرکٹ کے ڈپٹی کمشنر کو کہا گیا تھا کچھ عرصے یعنی چند دنوں تک دودھ فروش ¶ں نے سرکاری احکامات کی پابندی کی مگر جیسے جیسے وقت گزرتا گیا وہ دودھ کی قیمتوں میں آہستہ آہستہ اضافہ کرتے گئے اور اب شہر کے کونے کونے میں کھلے دودھ کی قیمت 110روپے فی لیٹر ہوگئی ہے جب کبھی انتظامیہ کو میڈیا کے ذریعے زیادہ شکایات موصول ہوتی ہیں ۔ رسمی کارروائی کی جاتی ہے اور کروڑوں کی منافع خوری کرنے والے دودھ فروشوں پر چند سو روپے جرمانہ کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے ڈیری فارمز ہول سیلرز اور ریٹیلرز کے حوصلے بڑھ گئے ہیں اور وہ خود من مانے طور پر مزید 10 روپے کے اضافہ کا اعلان کررہے ہیں جو کہ کراچی کے شہریوں کے ساتھ نا انصافی ہے ۔ کوکب اقبال نے کہا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے ہوٹل ریسٹورینٹ اور دیگر آفس بند پڑے ہیں جہاں چائے کے استعمال میں دودھ کی طلب ہوتی تھی اسکا مطلب ہے دودھ کی ڈیمانڈ کم ہوگئی ہے انہوں نے کہا کہ کراچی کی آبادی پونے دو کروڑ سے تجاوز کرگئی ہے۔ تقریباً ستر لاکھ لیٹر روزانہ کھلے دودھ کی سپلائی ہوتی ہے اسکا مطلب ہے کہ گزشتہ کئی مہینوں سے 7کروڑ روپے روزانہ اور تقریباً 2ارب 10کروڑ روپے مہینے صارفین کی جیبوں سے نکل رہے ہیں اور اب اگر مزید 10روپے کا اضافہ ہوگا تو دودھ کی قیمت 110روپے فی لیٹر سے 120روپے فی لیٹر ہوجائے گی یعنی 14کروڑ روپے روزانہ اور 4ارب 20کروڑ روپے مہینے کا اضافی بوجھ دودھ کے خریداروں پر ڈالنے کی تیاری کی جارہی ہے۔ کوکب اقبال نے کہا کہ آج تک انتظامیہ دودھ کے من مانے اضافے پر خاموش کیوں ہے منافع خوری کے اربوں روپے کا حصّہ دار کون کون ہے جو ایک سوالیہ نشان ہے۔ ایک طرف تو لوگ اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے ذہنی طور پر مفلوج ہوکر رہ گئے اور دوسری طرف منافع خوروں کو کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔ حکومتی رٹ قائم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ کمشنر کراچی جو کنٹرولر جنرل آف پرائسز کا بھی عہدہ رکھتے ہیں وہ ڈپٹی کمشنرز کو وضع ہدایت جاری کریں تاکہ منافع خوروں کے خلاف بروقت کارروائی ہوسکے۔ کوکب اقبال نے کہا کہ دودھ غذائی اشیاءکا لازمی حصّہ ہے انہوں نے کہا کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی کی طرح سندھ فوڈ اتھارٹی غیر معیاری دودھ فروشوں کے خلاف کارروائی سے قاصر نظر آتی ہے جس کی وجہ سے مضر صحت اور ملاوٹ شدہ دودھ کراچی کے شہریوں کو م جبوراً پینا پڑتا ہے جس کی وجہ سے ان کی صحت متاثر ہورہی ہے۔