کے الیکٹرک کا نیا نام بدمست پاگل ہاتھی رکھا جائے

کے الیکٹرک کا نیا نام بدمست پاگل ہاتھی رکھا جائے- وفاقی اور حکومت کے الیکٹرک کی من مانیوں کے سامنے بے بس نظر آتی ہیں – صارفین کو خود اپنے حق کا استعمال کرنا ہوگا- گھریلو، کمرشیل اور صنعتی صارفین ایک مہینے بجلی کے بلوں کی ادائیگی روک دیں – بجلی دو اور بل لو کی مہم شروع کی جاچکی ہے- اقتصادی رابطہ کمیٹی کا بجلی مہنگی کرنے کا فیصلہ مسترد کرتے ہیں -کوکب اقبال چیئرمین کنزیومر ایسوسی ایشن آف پاکستان


کراچی ( ) کے الیکٹرک کا نیا نام بدمست پاگل ہاتھی رکھا جائے کیونکہ اس بدمست پاگل ہاتھی کو نہ ہی وفاقی حکومت اور نہ ہی صوبائی حکومت قابو کرسکی ہے- شہر کراچی کے ہر علاقے میں کئی گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ عروج پر ہے، گلی کوچے اندھیروں میں ڈوبے ہوئے ہیں – اس کے باوجود وفاقی حکومت کے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبد الحفیظ شیخ اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں کے الیکٹرک کے نرخوں میں بلاجواز اضافہ بجلی صارفین کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے- صارفین کی نمائندہ تنظیم کنیزیومر ایسوسی ایشن آف پاکستان اس فیصلے کو کراچی کے بجلی صارفین کی جانب سے یکستر مسترد کرتی ہے- ہمارا مطالبہ ہے کہ بجلی کے نرخوں میں اضافہ نہ صرف فوری واپس لیا جائے بلکہ کے الیکٹر ک کے صارفین کو ریلیف فراہم کرنے کے لئے کے الیکٹرک کے نرخوں میں کم از کم 2 سے 3 روپے فی یونٹ کمی کی جائے- یہ بات کنزیومر ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین کوکب اقبال نے کیپ کے دفتر میں کے الیکٹرک نرخوں میں اضافہ اور بدترین لوڈ شیڈنگ پر لائحہ عمل بنانے کے لئے ہنگامی طور پر بلائے گئے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی- اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا اقتصادی رابطہ کمیٹی کو کے الیکٹرک کے بجلی کے نرخوں میں اضافہ کرتے ہوئے کراچی کے شہریوں کے بڑھتے ہوئے اقتصادی وسائل پر غور کرنا چاہئے تھا- کورونا کے پیش نظر نہ صرف کاروباری حلقے بلکہ نوکری پیشہ لوگ بہ مشکل تمام اپنے گھر کا خرچ چلارہے ہیں – ان کی آمدنی کا ذریعہ نہ صرف محدود ہوکر رہ گئے ہیں بلکہ سینکڑوں لوگ جو کرائے کے مکانوں میں رہائش پذیر ہیں وہ اس قابل بھی نہیں کہ وہ بجلی کے بل تو کیا اپنے مکان کا کرایہ بھی ادا نہیں کرسکتے- ایسا لگتا ہے کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے فیصلہ کرتے ہوئے نہ ہی متوسط طبقہ اور نہ ہی غربت کی لکیر سے زندگی گزارنے والوں کے بارے میں ایک لمحے کے لئے بھی نہیں سوچا کہ وہ کس طرح اپنے بجلی کے بلوں کی ادائیگی کی صلاحیت رکھتے ہیں – کوکب اقبال نے کہا کہ بجائے اس کے کہ بجلی کے بلوں میں اضافہ کیا جاتا مشیر خزانہ ڈاکٹر عبد الحفیظ شیخ کی سربراہی میں ٹیکنوکریٹس پر مشتمل کمیٹی بنائی جاتی جو کے الیکٹرک کے بگڑتے ہوئے معاملات کو حل کرنے کی کوشش کرتی تاکہ کراچی کے شہریوں کو بھی تاریکی میں کوئی امید کی کرن دکھائی دیتی- کوکب اقبال نے کہا کہ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ صرف کے الیکٹرک کو کراچی میں بجلی سپلائی و تقسیم کا ذمہ دار کیا دیا گیا ہے- کیا کراچی کے یہ ڈسٹرکٹ میں مختلف بجلی سپلائی اور تقسیم کرنے والی کمپنیاں قائم نہیں ہوسکتیں – انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک نے بجلی کے کھمبوں سے اتارا گیا تانبے کا تار جو اربوں روپے کا تھا اس کاکوئی حساب کسی ادارے کو نہیں دیا- انہوں نے SECP سے سوال کیا کہ اس ادرے نے کے الیکٹرک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز سے اس بارے میں پوچھا- کوکب اقبال نے کہا کہ ابھی تک کئی سال بیت گئے- کے الیکٹر ک کے ساتھ کئے گئے معاہدے کو پبلک نہیں کیا گیا جو کہ صارفین کا حق ہے- اس پر قانون سازی بھی ہوچکی ہیے کہ دستاویز تک رسائی ہر ایک کا حق ہے- انہوں نے کہا کہ کراچی کے شہریوں کی ہمدردی حاصل کرنے کے لئے حکومت جماعت پی ٹی آئی کے نیشنل و صوبائی اسمبلی کے ممبران نے کے الیکٹرک کے خلاف دھرنے کا عندیہ دیا ہے جو ایک مذاق لگتا ہے جو حکومت کررہے ہیں اور اقتصادی رابطہ کمیٹی خود حکومت کی بنائی ہوئی ہے وہ کے الیکٹرک کے خلاف احتجاج کا کہہ رہے ہیں – کیا حکومت کے پاس حکومتی رٹ نہیں کہ وہ کے الیکٹرک کے انتظامی امور میں مداخلت کرسکیں – انہوں نے کہا کہ حال ہی میں گورنر سندھ عمران اسماعیل نے گورنر ہاؤس میں کے الیکٹرک کے سی ای او مونس علوی کو طلب کرکے لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کا کہا اور انہوں نے میڈیا رپورٹس کے مطابق 48 گھنٹوں میں لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کا کہا مگر CEO کے الیکٹرک اپنے وعدے سے پھر گئے بلکہ پہلے سے بھی زائد بدترین صورتحال دیکھنے میں آرہی ہے جس کی وجہ سے صارفین کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا ہے- کنزیومر ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین کوکب اقبال نے کہا کہ اب صارفین کو خود اپنے حق کی آواز کے لئے کھڑا ہونا پڑے گا- کے الیکٹرک نے نہ صرف گھریلو صارفین بلکہ تجارتی مراکز اور صنعتوں کو اقتصادی طور پر تباہ و برباد کرکے رکھ دیا ہے- کورونا وائرس کی وجہ سے چند گھنٹوں کھلنے والے تجارتی مارکیٹیں اندھیرے میں ڈوبی ہوئی ہیں – صارفین ان مارکیٹوں میں جانے سے گریز کررہے ہیں جس کی وجہ سے کاروباری حلقے انتہائی پریشانی کے عالم میں گرمی اور حبس کے موسم میں بجلی نہ ہونے کے سبب نہ صرف ہزاروں لوگ مختلف بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں بلکہ گھریلو زندگی بھی اجیرن ہوگئی ہے- گھروں میں محصور طلبہ جو آن لائن کلاسز لے رہے ہیں اور جو دفاتر کے کام گھر بیٹھے انجام دے رہے ہیں ان کو لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے نہ ہی دن میں سکون ہے اور نہ ہی رات میں – یہ لوگ رات میں سڑکوں پر بیٹھ کر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں – انہوں نے کہا کہ اس صورتحال میں ایک واحل حل ہے کہ مجبوراً گھریلو، کمرشل اور صنعتی صارفین بجلی کے بلوں کی ادائیگی روک دیں – اس سلسلے میں میڈیا کے ذریعے کے الیکٹرک کو بھی نوٹس دیا جارہا ہے-