بھٹو کا تختہ کیوں الٹا گیا؟ جنرل ضیاء بھٹو سے خوف زدہ تھے یا یہ کوئی بین الاقوامی شازش تھی؟

4اور 5جولائی1977 کی درمیانی شب ایک ملازم نے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو نیند سے بیدار کیا اور انہیں بتایا گیاکہ فوج آگئی ہے۔ بھٹو اور انکے اہل خانہ وزیر اعظم ہاؤس کے وسیع و عریض لان میں جمع ہو ئے۔ انہیں چائے پیش کی گئی پھر بھٹو نے پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل ضیاء الحق سے ٹیلی فون پر دریافت کیا کہ یہ سب کیا ہے؟54سالہ فوجی جنرل کا جواب تھا ”سر میرے پاس اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں رہ گیا تھا“۔ علی الصبح بھٹو کو ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے مری کے اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس پہنچا دیا گیا۔ چند روز بعد جنرل ضیاء الحق نے حفاظتی تحویل میں موجود بھٹو سے ملاقات کی، یہ ایک جذباتی ملاقات تھی۔ اس میں بھٹو کا لہجہ تلخ تھا اور وہ فرط جذبات میں مغلوب ہو کر بہت کچھ کہہ گئے۔
پندرہ روز بعد بھٹو کو آزاد کر دیا گیا،رہائی کے بعد بھٹو جب پہلی بار لاہور تشریف لائے تو ان کا فقید المثال استقبال کیا گیا۔ اس دوران چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل ضیاء نے ایک اہم پریس کانفرنس کی۔ اس کانفرنس میں ٹیلی گراف کے نمائندے پیٹر گل نے لکھرسٹ کے تربیت یافتہ جنرل ضیاء سے سوال کیا کہ اگر آپکے اعلان کے مطابق 90دن بعد انتخابات کے نتیجے میں بھٹو کی پیپلز پارٹی نے کامیابی حاصل کر لی، جس کا غالب امکان موجود ہے تو آپ کا رد عمل کیا ہو گا؟ پاکستانی فوج کے پہلے آرائیں جنرل نے برجستہ جواب دیا، انتخابات کے نتیجے میں منتخب اسمبلی جس کو بھی وزیر اعظم منتخب کرے گی، میں پوری تکریم کے ساتھ اسے سلیوٹ کرونگا اور پھر جی ایچ کیو میں جا کر اپنے متعلق حکومت کے فیصلے کا انتظار کرونگا۔یہ بات ریکارڈ پر موجود ہے کہ جس وقت جنرل ضیاء مارشل لاء کے نفاذ کے فرمان افروز پر دستخط کر رہے تھے، امریکہ اور سعودی عرب کے سفیر ان کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔اس وقت اقتدار کی تبدیلی کے عمل کی تکمیل کے لئے با قاعدہ ایک آپریشن سینٹر بنایا گیا تھا۔فوج کی نقل و حرکت سے قبل جنرل ضیاء آپریشن سینٹر پہنچے تو انہوں نے کور کمانڈر راولپنڈی لیفٹیننٹ جنرل فیض علی چشتی کو مخاطب کرتے ہوئے پنجابی میں کہا کہ مرشد کہیں مرو ا نہ دینا۔
پھر بعد میں حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے جنرل ضیاء نے الیکشن ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا۔ بھٹو کو دوبارہ المرتضیٰ لاڑکانہ سے گرفتار کر لیا گیااوررضا قصوری کے قتل کے الزام میں سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا گیا۔ سندھ سے تعلق رکھنے والے نامور قانون دان اے کے بروہی نے جنرل ضیاء کو بتایا کہ اس مقدمے میں اتنے مضبوط شواہد اور گواہیاں مل سکتی ہیں کہ جس کی بنیاد پر بھٹو کو پھانسی کی سزا ہو سکتی ہے۔
میں نے بھٹو کی پھانسی کے بعد پاکستان کے سابق وزیر خارجہ جناب آغا شاہی سے دریافت کیا کہ آپ یا جناب غلام اسحق خان صاحب نے جنرل ضیاء کو 4جولائی کی سہہ پہر یہ خبر پہنچائی تھی کہ بھٹو آئندہ 72گھنٹے میں آپکو برخاست کرنے والے ہیں یا ایسے اقدامات سے جنرل ضیاء کو آگاہ کیا جو بھٹو کی فکر کا حصہ تھے، جس میں اس وقت گوادر جیسے کئی حساس معاملات تھے۔ جس پر امریکی بھٹو سے سخت نالاں تھے تو انہوں نے جوابا ً کہا تھا کہ اول تو جنرل ضیاء بار بار سینے پر ہاتھ رکھ کر بھٹو کو یقین دلا رہے تھے کہ فوج حکومت کے ہر اقدام کی تائید کرے گی لیکن بھٹو ایک زیرک سیاستدان تھے اور میں یہ بات یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ وہ خطرہ بھانپ چکے تھے لیکن انہیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ فوج اتنی جلدی انہیں اقتدار سے الگ کر دے گی۔
پھر پیش آنے والے واقعات اور احتجاج نے بھٹو صاحب کو ایک کمزور پوزیشن پر لا کھڑا کیا تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر وہ جنرل ضیاء کو برخاست کرنے کی کوشش کرتے تو بھی شاید کامیاب نہ ہوتے کیونکہ جنرل ضیاء تمام کور کمانڈرز کو اس بات سے آگاہ کر چکے تھے کہ ملک کی خراب صورت حال کے پیش نظر اگر اشد ضرورت ہوئی تو بھٹو کو آپریشن فیئر پلے کے تحت اقتدار سے الگ کر دیا جائے گا۔اگر اس وقت ذوالفقار علی بھٹو دو یا تین ہفتے قبل نئے انتخابات کے انعقاد کا اعلان کر دیتے تو شاید جنرل ضیاء کے لئے یہ اقدام اٹھانا اتنا آسان نہ ہوتا۔
پھر جنرل ضیاء کیا اس خوف کا شکار رہے کہ قبر ایک ہے اور بندے دویا پھندہ ایک ہے اور گردنیں دو۔ اگر یہ نہیں تھا تو انصاف کی تاریخ میں کوئی ایسی مثال نہیں ملتی کہ اتنے منتقم فیصلے کے نتیجے میں ایک مقبول لیڈر کو پھانسی دے دی جائے۔ یا پھر یہ کوئی بین الاقوامی شازش تو نہیں تھی؟ کیونکہ یہ تو کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ جب پاکستان نے ایٹم بم بنانے کا اعلان کیا توہینری کسنجر نے لاہور ائیر پورٹ کے وی آئی پی لاؤنج میں بھٹو کے رو برو کھڑے ہو کر کہا تھا! مسٹر پرائم منسٹر میں تسلیم کرتا ہوں کہ آپ مجھ سے اچھی انگریزی بولتے ہیں لیکن اگر آپکا خیال ہے کہ آپ تباہی کے اس ٹیکنالوجی کو پورے عرب میں پھیلا دینگے تو نہیں پرائم منسٹر! ہم آپکو دنیا میں عبرت ناک مثال بنا دینگے۔
بحر حال یہ ایک لمبی داستان ہے، بہت سی گھتیاں سلجھ چکی ہیں اور بہت سی باقی ہیں۔کسی اورمناسب وقت پر تفصیل سے اس موضوع پر گفتگو کریں گے۔فی الحال میں یہ اہم بات بتاتا چلوں کہ جسٹس دراب پٹیل نے اپنے 283صفحات پر مشتمل اختلافی نوٹ میں لکھا تھا کہ ایف ایس ایف کے سابق سربراہ مسعود محمود جیسے بے ہودہ شخص کی گواہی پر بھٹو کو پھانسی کیسے دی جاسکتی ہے؟ میں سوچتا ہوں کہ اگر بھٹو کو پھانسی نہ ہوتی تو کیا پاکستان کی تاریخ مختلف ہوتی۔ ذرا سوچیئے! کیونکہ ذہن میں آنے والے بعض سوال اپنے جواب سے ذیادہ جامع، ذیادہ مکمل اور ذیادہ بلیغ ہوتے ہیں