بیرونی قرضوں میں ریلیف

قرضہ لینا، انفرادی ہو یا اجتماعی، فرد لے یا ریاست، دنیا کے کسی بھی معاشرے میں معاشی، سیاسی، سماجی اور اخلاقی اعتبار سے کبھی اچھا نہیں سمجھا گیا۔ اس کے باوجود قدیم زمانوں سے عصری تقاضوں کے تحت ذاتی مصرف کیلئے یا معاشی و تجارتی لین دین میں قرضوں کا استعمال ایک مجبوری رہی ہے جو آج کی عالمی معیشت کے ارتقا اور ترویج میں روایت بن چکی ہے۔ امریکہ کی معیشت دنیا میں اس وقت سب سے بڑی اور مضبوط ترین تصور کی جاتی ہے مگر قرضے امریکہ بھی لیتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ سب سے زیادہ قرضے اس نے اپنے سب سے بڑے معاشی حریف چین سے لے رکھے ہیں۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان جیسے ترقی پزیر ملک کیلئے غیر ملکی قرضے کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہیں۔ قیام پاکستان ہی سے ہر حکومت اپنے منصوبوں کی فنڈنگ کیلئے قرضے لیتی رہی ہے۔ نواز لیگ حکومت کے خاتمے تک ملک پر 95.4بلین ڈالر قرضے واجب الادا تھے۔ آئی ایم ایف نے ایک سال پہلے پیش گوئی کی تھی کہ 2022-23ء میں موجودہ حکومت کی مدت مکمل ہونے پر قرضوں کا حجم 130بلین ڈالر ہو جائے گا یعنی ان میں 36.3فیصد اضافہ ہوگا۔ پھر یہ قرضے چکانے بھی ہیں جن کیلئے مزید قرضے چاہئیں۔ ایسے حالات میں جب ملکی معیشت پہلے سے خراب ہے اور رہی سہی کسر کورونا وائرس کی تباہ کاریوں نے نکال دی ہے تو ضروری ہو گیا ہے کہ پاکستان ان غیر ملکی قرضوں کی ادئیگی کیلئے قرضے دینے والے ممالک اور اداروں سے ریلیف کیلئے رابطہ کرے۔ پاکستان کی یہ کوششیں کامیاب رہی ہیں اور اسے جی 20ملکوں میں سے 15کی جانب سے 2ارب ڈالر کے مجموعی ریلیف میں اپنا کردار ادا کرنے کا اشارہ مل گیا ہے۔ قرض ریلیف کی ڈیڈ لائن 31دسمبر 2020ہے مگر حکومت کی کوشش ہے کہ 30ستمبر تک تمام امور نمٹائے جائیں اور ہر ملک سے الگ الگ معاہدہ کر لیا جائے۔ ریلیف کا معیار مقرر کرنے کے لیے عالمی بینک سے رجوع کیا گیا تھا جو بار آور نہ ہو سکا۔ اس پر اقتصادی امور ڈویژن نے اسٹیک ہولڈرز اور وزارتِ قانون کی مشاورت سے طریق کار خود مرتب کر لیا ہے۔ پاکستان اس وقت سب سے زیادہ چین کا مقروض ہے جس نے سی پیک اور دوسری مدوں میں اسے 9بلین ڈالر کا قرضہ دے رکھا ہے اس کے بعد جاپان کا نمبر آتا ہے جس کے 5بلین ڈالر ہمیں ادا کرنے ہیں ان کے بعد دوسرے ملکوں اور اداروں کا نمبر آتا ہے۔ فنانس ڈویژن کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ قرض ریلیف کے حصول کے معاملے میں پیش رفت ہو رہی ہے۔ عالمی بنک، آئی ایم ایف اور قرض دینے والے ملکوں کی حوصلہ افزائی کی وجہ سے جی 20ممالک نے غریب ممالک کے لیے سرکاری قرضوں کی ادائیگی موخر کر دی ہے صحت، سماجی تحفظ اور غربت میں کمی کے لیے عالمی بنک گروپ مالی مدد کے لیے تیار ہے، پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جو کم آمدنی والے ہیں اور جنہیں بیرونی قرضوں کی ادائیگی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ اس کے لیے پرانے قرضوں کی ادائیگی میں ریلیف اور نئے قرضوں کے حصول میں نرم شرائط انتہائی ضروری ہیں۔ حکومت کی کوششوں سے ایسا ہونا ممکن دکھائی دیتا ہے 2ارب ڈالر کا ریلیف پاکستان کی معیشت کے لیے بڑی اہمیت رکھتا ہے تاہم یہ بھی ضروری ہے کہ حکومت اتنے بیرونی قرضے لے جنہیں اتار سکے۔ جہاں تک ہو سکے قرضوں سے اجتناب کیا جائے نیز پچھلے قرضوں کی ادائیگی کے لیے جو ریلیف مانگا جا رہا ہے وہ صرف حکومت کے لیے نہیں ہونا چاہئے اس کے ثمرات عام لوگوں تک پہنچنے چاہئیں تاکہ ان کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا ہوں۔ پاکستان اس وقت جن معاشی مشکلات سے گزر رہا ہے ان کا تقاضا ہے کہ ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھایا جائے