امریکی سپریم کورٹ کا الیکٹرول کالج کے نمائندگان سے متعلق اہم فیصلہ

امریکا کی سپریم کورٹ نے متفقہ طور پر فیصلہ سنایا ہے کہ الیکٹرول کالج کے نمائندگان کو ریاست کے ووٹرز کی پسند کا ہر صورت خیال رکھنا ہوگا۔ یہ دعوی مسترد کردیا گیا ہے کہ الیکٹرز کو آئینی حق حاصل ہے کہ وہ ریاست کی مرضی کے برخلاف اپنی پسند کے صدارتی امیدوار کو چن لیں۔

امریکا میں صدارتی انتخاب براہ راست عوام کےووٹوں سے نہیں ہوتا بلکہ ریاست کے الیکٹرز صدر کو منتخب کرتے ہیں، سپریم کورٹ نے رولنگ دی ہے کہ یہ الیکٹر جس ریاست کی نمائندگی کر رہے ہوں تو ریاست انہیں پابند کرسکتی ہے کہ اسی امیدوار کو چنیں جسے ریاست کے عوام نے پاپولر ووٹ دیے ہوں۔

جسٹس ایلینا کیگن نے کہا کہ الیکٹرز آزاد ایجنٹ نہیں، الیکٹرز کو اسی امیدوار کو ووٹ ڈالنا ہوگا جسے ریاست کی عوام نے چنا ہو، جج نے مزید کہا کہ آئین کا آرٹیکل ٹو اور بارہویں ترمیم ریاست کو الیکٹرز کےمقابلے میں وسیع تر اختیارات دیتی ہےجبکہ الیکٹرز کو کوئی حق حاصل نہیں ہے۔

امریکا میں الیکٹرول کالج کے نظام کو دقیانوسی، غیرمنصفانہ اورغیر جمہوری قرار دے کر اسکا مذاق اڑایا جاتا رہا ہے، پچھلے 5 صدارتی انتخابات میں سے دو میں صدرارتی الیکشن جیتنے والی شخصیات امریکا بھر میں عوام کی جانب سے حاصل ووٹوں میں دوسرے نمبر پر تھےتاہم صرف اس لیے الیکشن جیت گئے کیونکہ وہ ایسی ریاستوں سے جیتنے میں کامیاب ہوگئے تھے جو زیادہ الیکٹرول ووٹوں کی حامل ہیں۔

پچھلے برس امریکا کے ٹنتھ سرکٹ کورٹ آف اپیلز نے الیکشن حکام کو اس وقت حیران کردیا تھا جب رولنگ دی گئی تھی کہ 1787 ءمیں لکھا گیا آئین یہ تصور کرتا ہے کہ الیکٹراپنی پسند کے امیدوار کو ووٹ دے سکتے ہیں اور یہ بھی اگر یہ بات اس وقت درست تھی تو آج بھی ٹھیک ہے۔

آئینی اسکالرز کا موقف تھا کہ ملک کے قیام کے وقت ممکن ہے الیکٹرز کو خود مختاری حاصل ہو مگر 1900ءکے اوائل سے وہ پابند ہیں کہ اسی پارٹی کے امیدوار کو چنیں جسکی جماعت نے ریاست کے عوامی ووٹ حاصل کیے ہیں۔

جج کیگن نے کہا کہ 1804ء میں بارہویں ترمیم نے واضح کردیا تھا کہ الیکٹرز صدر اورنائب صدر کے لیے علیحدہ علیحدہ ووٹ ڈالیں گےجو یہ واضح کرتا ہے کہ الیکٹرول کالج غورو خوض کے لیے نہیں پارٹی لائن پرووٹ دینے کے لیے ہے

Courtesy jang news