اس دشت میں اک شہر تھا

اس دشت میں اک شہر تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: عزیز سنگھور
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روزنامہ آزادی کوئٹہ
،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دشتِ مکران کا نام سنتے ہی ذہن میں امن و امان کی خراب صورتحال آتی ہے۔ آئے دن جھڑپوں اور مقابلوں کی خبریں آتی رہتی ہیں۔ لاشوں کا ملنا کوئی نئی بات نہیں۔ آج دشت مکران وار زون میں تبدیل ہوچکا ہے۔
موجودہ خراب صورتحال کے پیچھے لوگوں کی محرومیاں ہیں۔ کیونکہ احساس محرومی ایک انسانی کیفیت ہے جو کسی بھی احساسِ محرومی کےمریض میں جذبات، کسی پریشانی یا غصے کے نتیجے میں واقع ہوتے ہیں۔احساسِ محرومی وہ دماغی یا ذہنی ناخوشگوار کیفیت ہے جو اپنے مقصد یا خواہشات کے پورا نہ ہونے پر محسوس کی جاتی ہے۔
یہ محرومیاں ایک دن میں پیدا نہیں ہوتیں۔ اس کے پیچھے ایک طویل ماضی اورحالات ہوتے ہیں۔ ایک مشہور سیاسی تھیوری ہے کہ جب ریاست عوام کے مسائل حل اور ان کے ساتھ ہونے والے ناانصافیوں کو جمہوری طریقے یعنی پرامن انداز میں ازالہ نہیں کرتی ہے۔ تو وہاں لوگ ملیٹینسی (مزاحمت کاری) کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ جسے مسلح جدوجہد کہتے ہیں۔ بلوچستان کے عوام کے ساتھ ہونے والے ناانصافیوں کا ازالہ کبھی نہیں کیا گیا۔ اس کی کئی مثالیں ہیں۔ ان میں صرف ایک مثال میرانی ڈیم منصوبے کے قیام کا ہے۔ میرانی ڈیم کے متاثریں کو تاحال ان کی زمینوں اور باغات کا معاوضہ نہیں دیا گیا ہے۔ ڈیم کے پانی سے بے شمار بستیاں صفحہ ہستی سے مٹ گئیں۔ لوگ ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے۔ ڈیم بننے سے فوائد کم نقصانات زیادہ ہوگئے۔

میرانی ڈیم کیچ شہر سے مغرب کی طرف 43کلو میٹر دور واقع ہے۔ یہ ڈیم پرویز مشرف کے دور حکومت میں بنایا گیا۔ ڈیم کی تعمیر کا کام جون 2001ء میں شروع ہوا اور اکتوبر 2006ء میں اس کی تکمیل ہوئی۔ اس کا افتتاح نومبر 2006ء میں پرویز مشرف نے کیا۔ یہ ڈیم دریائے دشت پر میرانی گورم کے مقام پر بنایاگیا ہے۔ دریائے دشت دریائے نہنگ اور دریائے کیچ سے مل کر بنتا ہے۔ دریائے نہنگ ایرانی مکران سے نکل کر ناصر آباد کے مقام کور ھواران پر آکر دریائے کیچ سے مل جاتا ہے دونوں دریا بارانی دریا ہیں اور ان میں صرف بارشوں کی صورت میں پانی آتا ہے۔ 5.8 ارب روپے مالیت کا میرانی ڈیم منصوبہ کے ذریعے 33ہزار ایکڑ اراضی کو سیراب کرنا تھا۔ ۔ لیکن نامکمل کینال سسٹم کی وجہ سے صرف سات سے آٹھ ہزار اراضی ایکٹر کو پانی مل رہا ہے۔ اس طرح یہ ایک نامکمل منصوبہ ہے جس پر اربوں روپے لاگت آگئی اور سیاسی دوکانداری بھی چمکائی گئی۔

ڈیم کے ڈاؤن اسٹریم میں کسی زمانے میں ایک بڑی آبادی تھی۔ نوے ہزار ایکڑ اراضی پر زمینداری کی جاتی تھی۔ اور لوگ مال مویشی پالتے تھے۔ یہاں ایک خوشحال زندگی ہوا کرتی تھی۔ ہرطرف خوشحالی تھی۔ ڈیم کی تکمیل کے بعد پوری آبادی متاثر ہوگئی۔ پانی بند ہونے کی وجہ سے زمینیں بنجر ہوگئیں۔ مال مویشی مرنے لگے۔ خوشحالی بد حالی میں تبدیل ہوگئی۔

ڈیم کا پانی اسپل وے سے نکلنے کے بعد ڈاؤن اسٹریم کے دو مقامات پر چھوٹے چھوٹے بند تعمیر کرنے کی ضرورت ہے۔ تاکہ پانی جمع ہوسکے۔ بند نہ ہونے کے صورت میں پانی اسپل سے سیدھا جیوانی کے مقام پر سمندر میں گرجاتا ہے۔ اور پانی کا ضیاع ہورہا ہے۔ ضرورت ہےکہ ہجرت کرنے والے افراد دوبارہ آبادکاری کی جائے تاکہ وہ اپنے اپنے علاقے میں آباد ہوسکیں اور اپنی اراضی کوسرسبزبناسکیں۔

ایسا بھی واقعہ رونما ہوا جب ڈاؤن اسٹریم کا پورا علاقہ اچانک سیلابی ریلے میں بہہ گیا۔ اسپل وے سے پانی احتیاطی تدابیر کے بغیر چھوڑا گیا۔جس کی وجہ سے کئی دیہات زیر آب آگئے۔ مال مویشی بہہ گئے۔ جس پر متاثرین نے کئی بار احتجاج کیا۔ متاثرین کھلے آسمان تلے بے یارو مدد گار پڑے رہے۔ متاثرین کا کہنا تھا کہ ’حکومت کو ہم گزشتہ کئی سالوں سے کہہ رہے ہیں کہ ڈیم میں پانی بھر جانے سے جھونپڑیوں اور کچے مکانوں میں رہنے والے لوگوں کو جان اور مال کا خطرہ ہوگا اس لیے حفاظتی انتظامات کیے جائیں لیکن اس طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی۔‘

اپر اسٹریم کے مکینوں کے سینکڑوں ایکڑ زرعی اراضی میرانی ڈیم منصوبےکے زد میں آگئی۔ جنہیں حکومت کی جانب سے معاوضہ ملنا تھا،لیکن آج تک یہ مسئلہ جوں کا توں ہیں۔متاثرین کا کہنا ہے کہ علاقے میں ڈیم بننے سے کاریز ختم ہو گئے لوگوں کا روزگار ختم ہو گیا ہے،اوران کی زندگی اجیرن ہو گئی ہے۔

تحصیل دشت ضلع کیچ کی ایک تحصیل ہے۔ ان کی آبادی اسی ہزار کے لگ بھگ ہے اسی نام سے ایک اور تحصیل ضلع مستونگ میں بھی واقع ہے۔
دشت میں رہنے والوں کو دشتی بلوچ کہتے ہیں وہ اپنے نام کے آگے بہت کم قبائل کی شناخت لگاتے ہیں۔ حالانکہ وہ رند، ہوت، کھوسہ، جت، جام، کہدائی اور دیگر قبائل سے تعلق رکھتے ہیں۔ دشت نے نامور شخصیات پیدا کئے جن میں مولابخش دشتی، سینیٹر اکرم بلوچ، جان محمد دشتی، ڈی سی عبدالرحمان، حاجی فدا احمد دشتی، عبدالرشید سمیت دیگر شامل ہیں۔۔
دشت انتظامی اور تاریخی طور پر کیچ میں آتا ہے۔ کیچ اور دشت کا تاریخی رشتہ ہے۔
دشتیوں کا کیچ کے مستند سردار میر کہنر سنگھور (اول) کے خاندان سے قریبی رشتہ داریاں ہیں۔ کیچ سنگھور قبائل کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ سنگھور قبائل کا آخری سردار میر دوست محمد سنگھور نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) کی ٹکٹ سے کیچ سے رکن بلوچستان اسمبلی بھی رہ چکے اور ان کے چھوٹے بھائی ڈاکٹر حیدر بلوچ بھی کیچ سے رکن بلوچستان اسمبلی منتخب ہو کر بلوچستان کے صوبائی وزیر رہ چکے ہیں۔ ڈاکٹر حیدر آج کل لندن میں رہائش پزیر ہیں۔ سابق چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل تربت میر شیران سنگھور کی بڑی صاحبزادی ماہ جبین شیران موجودہ رکن بلوچستان اسمبلی ہیں۔ کیچ کے علاقے شاہی تمپ میں سردار میر کہنر سنگھور کا قلات (قلعہ) آج بھی موجود ہے۔

دشت مکران کی قدیم آبادیوں میں سے ایک ہے۔ کسی زمانے میں یہاں سے لوگ پنجاب تک تجارت کرتے تھے۔ اور کافی تعداد میں وہاں آباد بھی ہوگئے۔ جو اپنے نام کے سامنے دشتی کے بجائے دستی لکھتے ہیں۔ شاید وہ راوی کا پانی پی کر اپنے آبائی علاقے کی ہجے صحیح طریقے سے نہیں کرپارہے ہیں۔ راوی کے پانی نے انہیں خوشحال تو بنا دیا لیکن ساتھ ساتھ ان کی زبان کو بھاری کردیا۔ جبکہ دوسری جانب پنجابیوں نے بھی ان دستی بلوچوں کو گلے نہیں لگایا۔ آئے دن پنجاب پولیس ان کے خلاف بکری یا گاڑی چوری کرنے کی ایف آئی آر کاٹتی ہے۔ گزشتہ سال سابق رکن اسمبلی جمشید دستی کو آئل ٹینکر عملے کو اغواکرکے تیل چوری کرنےکا الزام لگا کر جیل بھیج دیا تھا۔

کہا جاتا ہے کہ ریاست عوام کی حفاظت کرتی ہے، لوگ ریاست کی اولاد ہوتے ہیں، ماں کبھی بھی اپنے بچوں کا برا نہیں سوچتی۔ لیکن بلوچستان میں ریاست باپ بن چکا ہے۔ آج کل بلوچستان میں حکمران جماعت بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) کی ہے۔ اور اس باپ کے ہاتھوں میں ایک چھڑی ہے۔ جس سے وہ اپنے بچوں کی خوب دھلائی کررہا ہے