کراچی کی بارش کی تازہ ترین روداد

کل سے محکمہ موسمیات کی طرف سے کی گئی اس پیشگوئی نے جیسے کراچی والوں کو پرجوش کیا ہوا تھا کہ کراچی میں کبھی بھی آندھی طوفان اور گرج چمک کے ساتھ تیز بارش متوقع ہے- لہٰذا شہری تیاری کر لیں- یہ سب سن کر بس پھر کیا تھا، شہری تیاری میں لگ گئے… دکانوں پر رش لگ گیا… رش کی وجہ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ کریانہ کی دکانوں پر بیسن کی کمی ہو گئی ہے اور بیسن بلیک میں فروخت ہو رہا ہے-

بس جناب پیشن گوئی ہوئی نہیں اور ہر ٹی وی چینل پر جیسے اطلاع دینے کی دوڑ میں آگے رہنے کا مقابلہ شروع ہوگیا- ایک چینل نے تو کورونا کی تازہ ترین صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے، کراچی والوں کو تین دن کا راشن اسٹاک کرنے تک کی ہدایت کردی-
واٹس ایپ میسیجز کا ڈھیر لگ گیا- اور ساتھ ہی ساتھ فرمائشی پروگرام بھی شروع ہوگئے کہ برسات والے گانوں کی فہرست تو بھجوانا-
اللہ اللہ کر کے کل مغرب کے وقت بادل آئے… تیز ہوا کا ایک جھکڑ چلا اور پھر ہُوا کچھ نہیں بس سڑک کے دائیں طرف والا کچرا اُڑ کر سڑک کے بائیں طرف چلاگیا-

لڑکے بالے جو شارٹس پہن کر بارش میں بھیگنے کا پورا ارادہ کر کے نکلے تھے وہ منہ لٹکائے گھروں کو واپس لوٹ گئے- سوشل میڈیا پر جن گروپس میں بارش سے متعلق پوسٹ لگائی جانی تھیں وہ روک دی گئیں-

دیدہ و دل فرش راہ کر کے کراچی والے اگلے دن کے انتظار میں سو گئے کہ تاریخ بتاتی ہے کہ محکمہ موسمیات کی پیشگوئی اور ہونے والی بارش میں ہمیشہ ایک دن کا فرق بہرحال رہتا ہی ہے-
ہم نے بھی لگے ہاتھوں اپنی بہن کو واٹس ایپ کردیا تھا کہ رات کو بارش ہو تو ہمیں کال کر کے اٹھا دینا کہ یہ نادر موقع کراچی والوں کے ہاتھ خال خال ہی لگتا ہے- لیکن صد افسوس میسیج کے جواب میں اسکرین پر خرگوش بھاگتے دوڑتے ہوئے نظر آئے جو کہ وہ خود پکڑنے نکل چکی تھی-

بہرحال صبح ہوئی سورج سوا نیزے پر یوں چمکتا رہا جیسے محبوب کے ماتھے پر پیار-
صبح سے دوپہر ہوگئ.. آسمان پر دور دور تک بھی مجال ہو کہ ایک آوارہ بادل کی بھی جھلک دکھائی دی ہو-

لیکن پھر جیسے اللہ تعالیٰ کو کراچی والوں کی بےقراری پر رحم آ ہی گیا…. مشرق سے کالے بادلوں نے اٹھنا شروع کیا اور جیسے جیسے وہ بڑھ کر شہر کراچی پر اپنی حاضری لگاتے گئے شہریوں کے ان کے استقبال میں تیزی آتی گئی… دکانوں پر شٹر گرا کر بیسن فروخت کرنے والے دکاندار تک سڑک پر آکر منہ آسمان کی طرف کر کے کھڑے ہوگئے- جیسے آسمان سے بارش نہیں پکوڑے برسنے والے ہوں-

اور رہے ہم…. تو اپنے گھر کا سب سے بڑا بچہ تو ہم ہی ہیں جو سب کو بچہ بنا کر رکھتے ہیں- رم جھم برستی بارش میں خوب کرکٹ کھیلی اور جب ایک زوردار شارٹ لگانے پر بال پڑوسیوں کے چھت پر جا کر براجمان ہوگئی تو ہمیں مجبوراً کھیل کو روکنا پڑا… اتفاق سے نظر لان میں درختوں کے پیچھے چھپی فٹ-بال پر پڑی… بس پھر کیا تھا ہم نے فٹ-بال پر طبع آزمائی کا سوچا-

فٹ-بال کھیلی اور خوب کھیلی اور ہاں آج کی موسلادھار بارش میں ہم نے کچھ سیکھا نا سیکھا بس یہ سیکھا کہ بارش کے کھڑے پانی میں اگر فٹ-بال کھیلو تو کک مارنے پر بال اپنی جگہ ڈھٹائی سے رکی رہتی ہے البتہ آپ کی چپل دو سو چالیس کلومیٹر کی رفتار سے اڑتے ہوئے مدمقابل کو دن میں تارے دکھاتے ہوئے وقتی طور پر پر چاروں شانے چت کر دیتی ہے لیکن یہ حیرانگی اور پھر شرارتی کیفیت کچھ لمحوں تک ہی باقی رہتی ہے کیونکہ اس کے بعد آپ کے چت ہونے کی باری ہوتی ہے اور وہ بھی کراچی کے تین تین فٹ بارش کے کھڑے پانی میں جس میں زمانے بھر کی چیزیں ایسے تیر رہی ہوتی ہیں جیسے کسی دیوانے کا خواب-

مزیدار بات یہ رہی کہ مصالحتی انداز اپنانے اور کھیل جاری رکھنے کا لالچ دینے پر ہم نے جب دوسری کک ماری تو اب کی بار یہ خیال رکھا کہ چپل مضبوطی سے پاؤں میں جمی رہے لیکن فٹ-بال نے تو جیسے اپنی جگہ ڈٹے رہنے کی قسم کھائی ہوئی تھی کیونکہ اس بار کک میں پانی ہی تیز بوچھاڑ کے ساتھ اُڑا اور اپنے ساتھ زمانے بھر کا کچرا مدمقابل کے منہ پر ایسے ثبت کر آیا جیسے اس سے بہترین جگہ اور کوئی نہ تھی-

بس آگے کی روداد ناقابل بیان ہے- شرارتیں، مستیاں، تفریح….
اور ہاں اس سب میں سب سے مزیدار بات…. بارش ہوتے ہی سب سے پہلے جو چیز غائب ہوتی ہے، وہ ہے بجلی، تو جناب اس وقت بجلی کی غیرموجودگی میں پکوڑوں کی تیاری اپنے آخری مراحل میں ہے- حسین رم جھم برستے موسم میں شام کی گرما گرم چائے اور پکوڑے…. سبحان اللہ!!!!

یہ حقیقت ہے کہ بارشوں کو ترسے ہوئے کراچی کے شہریوں کے لیے اچانک ہونے والی بارش کا مزا الگ ہی ہوتا ہے- کئی مہینوں سے جاری کورونا کے ساتھ اعصابی جنگ میں ابرِ رحمت کا برسنا ایک بہت خوشگوار تبدیلی ہے

Courtesy ary news