قائد حزب اختلاف فردوس شمیم نقوی کی ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو

آج ہمیں عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑرہا ہے رولز 43 بات کرتا ہے کہ بجٹ سے پہلے تمام ممبران سے مشورہ مانگے جائیں۔ ہم سے بجٹ کے متعلق جان بوجھ کر مشورہ نہیں لیے جارہے۔ اگلے سال کے آنے والے بجٹ میں اپوزیشن سے ان کی رائے لی جاتی ہے۔ سیشن 6 جنوری کو شروع ہوا اب تک چل رہا ہے۔ آواز باختہ اسپیکر اسمبلی اور وزیر اعلیٰ سندھ رولز 43 بھول چکے ہیں۔ سندھ اسمبلی کی ستر سالہ تاریخ میں ایڈجرمنٹ دی گئی۔ پیپلز پارٹی خوف زدہ ہے کہ پاپا پکڑے جائینگے پھپو پکڑی جائیگی۔ اسمبلی کو پروروگ نہیں کر رہے۔ ایڈجرنڈ منٹ سیشن کو اپوزیشن کال نہیں کرسکتی۔ 40 فیصد ہمارے لوگ اسمبلی میں موجود ہیں۔ ہم انہیں مشورہ دینا چاہتے ہیں بجٹ میں۔ سندھ مین لوٹ مار کی جارہی ہے۔ لوگوں کا پانی بند کرکے اپنی زمینوں پر پانی فراہم کیا جاتا ہے۔ شرجیل انعام میمن کو پبلک اکاوئٹ کمیٹی کا حصہ بنایا گیا۔ حکومت سندھ جس طرح چل رہی ہے تو جے آئی ٹی پر جے آئی ٹی تو بنے گی۔ ایشن ملتوی ہے اسے اپوزیشن کال کیسے کریں۔ بے نظیر انکم سپورٹ کا نام وہی رکھے گیں کارڈ پر نام تبدیل کرینگے۔ ہمیں بے نظیر سے کوئی مسئلہ نہیں وہ ایک عظیم لیڈر تھیں۔ عمران خان کراچی والوں کو خوش خبری دے رہے تھے بعد میں پیٹرولیم مصنوعات بڑھافی گئی؟ سوال۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر بار بار استفسار پر فردوس شمیم ٹال مٹول کرتے رہے۔ فردوس شمیم کی میڈیا سے گفتگو۔ دوران گفتگو عوام کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے پر غصے کا اظہار فردوس شمیم نقوی اپنی گفتگو بھی مکمل نہ کرسکے دوران گفتگو عوام اپنے جذبات بیان کرنے لگے رمضان آنے والا ہے اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھادی فردوس شمیم نقوی بار بار پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر جواب دینے سے بھی گریز کرتے رہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں