ورکنگ وومن کے مسائل اور حقوق نسوا پر حکومت کی خاموشی

کس سے پوچھیں کس سے فریاد کریں کوئی پرسان حال نہیں ہے نچھلے طبقے کو تو ہر کوئی پوچھ رہا ہے یا وہ خود بھی ہر سمت سے امداد کی طرف دوڑ رہے ہیں مگر جو میڈل کلاس لوگ یا وہ خواتین جو معاشرے کے مختلف شعبوں میں اپنی خدمات انجام دی رہی تھیں اور اپنے گھر کا نظام چلارہی تھیں اس کرونا وائرس سے بہت مالی مشکلات کا شکار ہیں ، موجودہ حکومت نے جو منی بجٹ ۲۰۲۰ پیش کیا ہے اس میں بھی وومن خواتین کے حوالے سے کوئی اعلان نہیں کیا ، جن نجی ادارہ میں خواتین کام انجام دے رہی تھیں ان میں اسکول ٹیچر ، بیوٹی پالر ، فیشن ڈیزانگ ، یا صحافت سے وابستہ تھیں اب وہ مالی مشکلات کا شکار ہوئی ہیں اور حد یہ ہے کہ اگر کہی نوکری کے حصول کے لئے جاتی بھی ہیں تو لوگ طرح طرح کی نظروں سے دیکھتے ہیں اور ایسے سوالات کرتے ہیں کہ شریف گھرانے کی خواتین بہت زہنی کوفت کا شکارہیں ،ان حالات میں بھی لوگوں کے اندر خوف خدا نہیں ہے کہ کسی کی مجبوری سے فائدہ نہ اٹھائیں بلکل کسی مجبور کا ساتھ دیں مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑھتا ہے کہ لوگوں کو ان حالات میں بھی شرم و غیرت نہیں رہی ۔ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ احساس پروگرام میں ان خواتین کا بھی خیال کیا جائے ، بلکے ان خواتین کے لئے بھی کوئی اسپیشل امدادی پیکج کا اعلان کرے ، جب کہ سادات خواتین ان پیکچز سے استثنا ہیں، جس ایس او پی یا سوشل ڈسٹینس کی آج ہم بات کررہے ہیں اگر وقت سے پہلے خیال کرلیتے تو آج ہمیں ان پریشانیوں کا سامنا نہ کرنا پڑھتا ، اور اللہ تعالی تمام بہن بیٹیوں کو اپنے حفظ امان میں رکھے الہی آمین ،

تحریر : سیدہ سبین فاطمہ