کراچی کے عوام شدید لوڈ شیڈنگ کا عذاب بھگت رہے ہیں

یاسمین طہٰ
———

گزشتہ ہفتے بارہ سو تینتالیس ارب روپئے کا سندھ کا بجٹ مراد علی شاہ نے پیش کیا،جس میں کراچی کے لئے ایک بھی ترقیاتی منصوبے کا اعلان نہیں کیا گیا،اوریہ غالباً پہلا موقع ہے کہ کراچی کو کوئی نیا ترقیاتی منصوبہ نہیں دیا گیا یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ تقریباً پچانوے فیصد آمدنی حکومت سندھ کو ٹیکسوں اور محصولات کی مد میں کراچی سے ہوتی ہے،اور پینسٹھ فی صد آمدنی وفاق کو ٹیکسوں کی مد میں ہوتی ہے۔ایسا محسوس ہورہا ہے پی ٹی آئی کو ووٹ دینے کی سزا کراچی کو کسی بھی ترقیاتی منصوبے سے محروم کرکے دی جارہی ہے،گذشتہ تیرہ برس سے پی پی پی کی سند ھ میں حکومت ہے،لیکن کراچی کبھی بھی اس کی ترجیحات میں شامل نہیں۔رواں مالی سال کے اختتام پر تقریباً 235ارب روپئے کی آمدنی صوبائی ٹیکس کی مد میں سندھ حکومت کو حاصل ہوگی،جس میں 210 ارب روپئے کراچی سے حاصل ہوں گے،جو تقریباً کل ٹیکس کا نوے فیصد ہے۔کماؤ پوت کے ساتھ امتیازی سلوک مین سندھ حکومت اور وفاق برابر کی شریک ہے۔ پاک سر زمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے کراچی کو مسلسل نظر انداز کرنے کے باعث عوام میں احساس محرومی بڑھ رہا ہے جسکا فائدہ الطاف حسین جیسے دہشتگرد اٹھاتے ہیں۔کراچی کو اس پی ٹی آئی کی جھولی میں ڈال دیا گیا جو کراچی سے لاتعلق ہے۔ پیپلز پارٹی کی متعصب حکومت میں روزگار کے دروازے شہری سندھ کی عوام پر مکمل بند ہیں۔ اس سب کے بعد کے الیکٹرک کو دی جانے والی سبسڈی کو مزید آدھا کر دیا گیا ہے، وفاقی حکومت کے اس فیصلے سے جولائی کے بعد سے بجلی کے بلوں میں اوسطاً 20 فیصد تک اضافہ متوقع ہے۔ کراچی کا کاروبار پہلے ہی سست روی کا شکار ہے جبکہ کے الیکٹرک بھی کراچی کی عوام کے لیے سستی بجلی فراہم کرنے میں ناکام ثابت ہوا ہے۔زرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب میں 400 یونٹ بجلی کا بل پانچ ہزار روپئے جب کہ سندھ میں 400 یونٹ بجلی کا بل دس ہزار روپئے لیا جارہا ہے اور افسوسناک بات یہ کہ جون کے پورے مہینے میں کراچی کے عوام شدید لوڈ شیڈنگ کا عذاب بھگت رہے ہیں جب کہ لاک ڈاؤن کی باعث شہر بھر کی مارکیٹیں شام سات بجے بند بند ہوجاتی ہیں۔اس کے باوجود بجلی کی بندش سمجھ سے بالاتر ہے،لیکن شہریوں کا کوئی پرسان حال نہیں شہر قائد کے مختلف علاقوں میں بجلی کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے اور بجلی کی طویل بندش سے سخت گرمی کے موسم میں شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے،جس کی باعث شہریوں نے شاہراہ قائدین پر واقع کے الیکٹرک کے دفتر کے باہر احتجاج کیا اور دھرنا دیا، دوسری جانب کے الیکٹرک نے فرنس آئل اور گیس کی فراہمی میں کمی کو لوڈ شیڈنگ کا سبب قرار دے دیا ہے۔ترجمان کے الیکٹرک کا کہنا ہے کہ ایندھن کی مطلوبہ مقدار میں فراہمی متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے۔ادارے کا یہ بھی کہنا ہے کہ لوڈشیڈنگ ایسے علاقوں میں کی جا رہی ہے جہاں سے بل ادا نہ کی شکایات زیادہ ہوں جو سراسر جھوٹ ہے۔ سندھ کی وزیر صحت نے خبردار کیا کہ کرونا کا خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے۔اگست سے اکتوبر کے دوران ایک نئی لہر آنے کا امکان ہے۔ان کا کہناتھاکہ مجھے کسی کے داد وتحسین کی ضرورت نہیں ہے،میں کرونا وائرس پر اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہوں، جبکہ اپوزیشن کی جانب سے کرونا کی وبا کے دوران وزیر صحت کی کارکردگی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ گھر سے باہر نکلیں اور اسپتالوں کا دورہ کریں۔مبصرین کا کہنا ہے کہ کرونا کے حوالے سے اسپتالوں کے قیام کے بارے میں سندھ حکومت کی کارکردگی محض اعلانات کی حد تک ہے اور منصوبہ بندی کا یہ عالم ہے کہ کراچی کی عوام تین ماہ سے اسپتالوں کے قیام کی صرف خبریں ہی سن رہے ہیں۔کرونا کے مریضون میں مستقل اضافہ ہورہا ہے اور اسپتالوں میں گنجائش ختم ہو چکی ہے۔کرونا کی باعث لاک داؤن کئے گئے علاقے،دھوارجی کالونی میں مبینہ طور پر پولیس ہفتے کے دن دکانوں کا شٹر بندکرکے کاروبار کرنے کے کم از کم تین ہزار روپئیے فی دکان لے رہی ہے۔اس طرح پولیس خود لاک داؤن ناکام بنانے میں برابر کی شریک ہے۔کراچی میں کرونا کی وجہ سے مہنگائی کا اثر میت کی آخری رسومات پر بھی ہوا ہے اور صرف تدفین کے اخراجات میں ہی اضافہ نہیں ہوا بلکہ شمشان گھاٹ میں بھی لکڑیاں بھی مہنگی کر دی گئیں۔ بلدیہ عظمی کراچی کے قبرستانوں میں سرکاری نرخوں کی بجائے قبروں کیلئے منہ مانگی رقم وصول کی جارہی ہے ، اور کراچی کے مختلف علاقوں میں کرونا یا دیگر واقعات میں مرنے والے افراد کی تدفین کا عمل انتہائی مشکل ترین بنا دیا گیا۔ شہر میں صرف کفن 2000 روپے میں فروخت ہورہا ہے۔ کراچی میں تقریباً 94 قبرستان ہیں یہاں قبروں کے نرخ علاقے کی مارکیٹ ویلیو کے حساب سے مقرر کئے جاتے ہیں طارق روڈ قبرستان کراچی کا مہنگا ترین قبرستان ہے جہاں قبر کی قیمت 50ہزار سے 2لاکھ تک بتائی جاتی ہے جب کہ سخی حسن، پاپوش نگرمیں قبر کا ریٹ 40ہزار سے ڈیرھ لاکھ تک ہے شہر کے دیگر قبرستانوں میں میوہ شاہ چکراگوٹھ، یوسف گوٹھ اور محمد شاہ قبرستانوں میں قبریں 30ہزار تک فروخت کی جارہی ہیں کراچی میں ہندو برادری کیلئے شمشان گھاٹ میں صرف لکڑیوں کی خریداری کیلئے 12000 روپے ادا کئے جارہے ہیں۔ایک کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کے قاتلوں کی گرفتاری پر ایم کیو ایم اور ان سے علیحدہ ہونے والوں کی خاموشی پر کراچی کے شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ خاموشی بہت کچھ بیان کررہی ہے۔اور اس شک کو تقویت دے رہی ہے کہ ان لوگوں کا الطاف حسین سے اب بھی تعلق ہے۔پاکستان کی عدالتی تاریخ میں پہلی مرتبہ برطانیہ سے شواہد حاصل کرنے کے بعد ان کی معاونت سے ایک ایسے قتل کا فیصلہ جو پاکستان میں نہین ہوا،سامنے آیا جس میں کرائے کے قاتلوں نے بتایا کہ یہ قتل انھوں نے پارٹی کے سربراہ یعنی الطاف حسین کے کہنے پر کیا تھا۔