گاڑی اب عمران خان ہی چلا سکتے ہیں

کوئی شخص بھی مجسم شر یا مجسم خیر نہیں ہوسکتا۔ سیاست حق و باطل یا خیر و شر کی لڑائی نہیں ہوتی۔ عمران خان جیسے تیسے کچھ ووٹ لے کر، کچھ محکمہ زراعت کی مدد سے یہاں پہنچے۔ مولانا فضل الرحمن کے علاوہ سب نے انہیں وزیرآعظم مانا اور مولانا کے لوگوں نے بھی حلف اٹھا لیے۔ ان کا پانچ سال اقتدار کا حق سب تسلیم کرتے ہیں۔

یوں تو پارلیمانی نظام میں ایک ووٹ کی بھی عددی اکثریت کافی ہوتی ہے لیکن عمران خان کی حکومت اتحادی جماعتوں کی مرہون منت ہے، اتحادی بھی وہ جنہیں وہ کبھی پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو اور کسی کو زندہ لاشیں کہا کرتے تھے،ان کے اس انتہائی رویے کا انہیں ہمیشہ نقصان ہوا کیونکہ انتہائی رویہ سیاست کا وصف نہیں،زندگی سفید اور سیاہ میں نہیں ہوتی بلکہ ہمیشہ ملگجی ہوتی ہے۔

عمران خان نے کچھ بنیادی غلطیاں کیں جنہیں سدھارنا ضروری ہے،اگر وہ نہیں سدھاریں گے تو ان کے بعد آنے والے کو سدھارنی پڑیں گی۔
عمران خان ہورے تیقن سے یہ بات کہتے اور سمجھتے ہیں کہ ان کے تمام سیاسی مخالفین بدکردار ہیں،لیکن وہ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ وہ آج تک عوام کی اکثریت کو یہ بات ماننے پر قائل نہیں کر سکے،بالفرض اگر وہ سمجھتے ہیں کہ نواز شریف نے ملک کا پیسہ کھایا ہے تو اس بات کو عوام کا ایک معتد بہ طبقہ سچ نہیں سمجھتا اور اس کی وجہ بالکل واضح ہے کہ عمران خان کی ٹیم کی اکثریت انہی لوگوں کی ہے جو نواز شریف کے ساتھ تھے،دوسری وجہ یہ ہے کہ نواز شریف کو جن عدالتوں سے سزا سنائی گئی ہے ان کی سرے سے کوئی ساکھ ہے ہی نہیں،ساکھ کے اس بحران کی ایک وجہ انہی عدالتوں کا ماضی بھی ہے جس میں قیوم ملک،مشتاق مولوی،جسٹس نسیم حسن شاہ اور ارشد ملک جیسی مثالیں موجود ہیں اور دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ ان کو یہ سزائیں مروجہ طریق کار سے ہٹ کر سنائی گئیں،جیسے سپریم کورٹ کا نگرانی کرنا،وقت کی پابندی کروانا وغیرہ شامل ہیں۔

اب عمران خان کی جگہ کوئی بھی عملی انسان ہوتا تو وہ اس حقیقت کو تسلیم کر لیتا اور کوشش کرتا کہ سیاسی پولرائزیشن کو کم کیا جائے تاکہ استحکام کا تاثر ابھرے،لیکن سیاسی محاذ پر وہ بری طرح ناکام رہے۔
اب بھی وہ اس کام کا آغاز کرسکتے ہیں اور نہ کیا تو ان کے بعد آنے والے کو کرنا پڑے گا گویا اس ہڑبونگ(پولرائزیشن) کو ختم کرنا از حد ضروری ہے۔

معاشی محاذ پر عمران خان نے بلاوجہ سرمایہ کار کو ڈرا دیا اور اس خوف کی وجہ سے سرمایہ اور ذہن پاکستان سے نکل گیا اور جو بچا کھچا ہے وہ بینک کے لاکرز میں بیرونی کرنسی اور سونے کی صورت میں موجود ہے لیکن کسی کے کام نہیں آ رہا،معاشی سرگرمی کم ہونے سے معیشت اکیاون ارب ڈالر سکڑ گئی اور یوں عوام کی اکثریت کی زندگی پہلے سے بدتر ہوگئی۔

معاشی میدان میں اپوزیشن سے مل کر ایک لمبی پالیسی دینے کی ضرورت ہے اور ٹیکس چوروں کو بڑکیں مارنے کی بجائے خاموشی سے بذریعہ ٹیکنالوجی شکنجے میں لانے کی ضرورت ہے اور غیر ضروری خوف کو ختم کرنا پہلی ترجیع ہونا چاہیے۔
یہ کام بھی اگر عمران خان نہیں کریں گے تو کسی آنے والے کو کرنا ہوگا اور اس کے لئے بھی اولین شرط یعنی ہڑبونگ میں کمی اور سیاسی ہم آہنگی ضروری ہے جس کے لئے نسبتاً زیادہ لچک کی ضرورت ہے۔
حکومت دماغ ہوتی ہے اور بیوروکریس پٹھے،یہ برین اور مسل کا ربط ہی نظام حکومت چلاتا ہے،لیکن بدقسمتی سے یہاں نہ تو دماغ یکسو ہے اور نہ پٹھے کام کر رہے ہیں۔

جب تک پٹھے کو یہ شبہ رہے گا کہ دماغ صرف منفی سوچ کا ہی اہل ہے اور عمران حکومت کا بنیادی اصول” تم چور ہو حتیٰ کہ اپنے آپ کو سعد ثابت کرو” ہی رہے گا تو گاڑی چل ہی نہیں سکے گی۔
یہ کام بھی عمران خان کے کرنے کا ہے کہ وہ بیوروکریسی کو یہ یقین دلا دیں کہ وہ صرف منفی ہی نہیں کبھی مثبت بھی سوچ سکتے ہیں وہ کام نہیں کریں گے۔
گویا حکومت کیسے کی جانی ہے اس کا روڈ میپ تو سامنے ہے بس اس سفید چھڑی کی ضرورت ہے جس سے عمران خان اس راستے کو ٹٹول سکیں۔

Kamran-Tufail-Pakistan24.tv