بلدیہ عظمیٰ کراچی کے زیر انتظام کراچی انسٹی ٹیوٹ آف کڈنی ڈیزیززمیں پیر سے کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کو ڈائیلیسز کی سہولت فراہم کرنا شروع

کراچی ( ) بلدیہ عظمیٰ کراچی کے زیر انتظام کراچی انسٹی ٹیوٹ آف کڈنی ڈیزیززمیں( پیر ) سے کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کو ڈائیلیسز کی سہولت فراہم کرنا شروع کی جا رہی ہے ، اس حوالے سے 14 مریضوں نے پہلے ہی سے اپنے ناموں کا اندراج کرا دیا تھا جنہیں آج ڈائیلیسز کے عمل سے گزارا جائے گا جس کے لیے اسپتال میں تمام تر ضروری انتظامات کر لیے گئے ہیں، کورونا سے متاثرہ مریضوں کو روزانہ کی بنیاد پر تین شفٹوں میں مفت ڈائیلاسز کی سہولت فراہم کی جائے گی، ہر شفٹ میں چار مریضوں کا مفت ڈائیلیسز کیا جائے گا جسے ضرورت پڑنے پر بڑھا کر چار شفٹوں تک بھی کیا جاسکتا ہے، اس طرح چار ڈائیلاسز مشینوں کے ذریعے روزانہ 16مریض استفادہ کر سکیں گے، یہ بات میٹرو پو لیٹن کمشنر ڈاکٹر سید سیف الرحمن نے کراچی انسٹی ٹیوٹ آف کڈنی ڈیزیز میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی، اجلاس میں انڈس اسپتال کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ( CEO ) ڈاکٹر عبدل باری خان ، کراچی انسٹی ٹیوٹ آف کڈنی ڈیزیز کے ٹرسٹیز منصور نواب ، محمد افضل، محمد اجمل، جاوید ستار، سرفراز ، سینیئر ڈائریکٹر میڈیکل اینڈ ہیلتھ سروسز ڈاکٹر بیر بل گینانی ، ڈاکٹر خرُم دانیال ، ڈاکٹر سلطان مصطفیٰ ،ڈاکٹر قیصر جمال ،ڈاکٹر خالد اشرفی اور دیگر نے بھی شرکت کی، میٹرو پو لیٹن کمشنر ڈاکٹر سید سیف الرحمن نے کراچی انسٹی ٹیوٹ آف کڈنی ڈیزیز میں کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کو ڈائیلیسز کی سہولت کی فراہمی کے آغاز پر ڈاکٹر خرم دانیال، ٹرسٹیز اور دیگر کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ کراچی انسٹی ٹیوٹ آف کڈنی ڈیزیز نے کو رونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کو ڈائیلیسز کی سہولت فراہم کر کے انسانیت کی خدمت کے لیے بڑا کام کیا ہے، انہوں نے کہا کہ بالخصوص اسپتال کے ٹرسٹی منصور نواب اور ان کے ساتھیوں نے جس طرح اس نیک کام میں ہماری مدد کی ہے اس کی جزا تو انہیں اللہ تعالٰی ہی دے سکتے ہیں، ہمیں یہ عزم کرنا ہوگا کہ اللہ تعالٰی نے ہمیں جو بھی صلاحیتیں دی ہیں وہ ہم انسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کریں ، انہوں نے کہا کہ اس وقت اسپتال میں 35 ڈائیلیسز مشینیں موجود ہیں جن میں سے چار مشینوں کو کورونا کے مریضوں کے لیے مخصوص کر دیا گیا ہے ، آنے والے وقت میں خصوصی وارڈ‘ہائی ڈیپینڈینسی یونٹ (HDU)اور آئی سی یو بھی کام شروع کر دیں گے، انہوں نے مزید کہا کہ شہرکے دو بڑے ہسپتالوں انڈس اور SIUTکے بعد کراچی انسٹی ٹیوٹ آف کڈنی ڈیزیزز تیسرا ہسپتال ہوگا جہاں کورونا کے مریضوں کو ڈائیلاسز کی سہولت میسر آئے گی، انہوں نے کہا کہ یہ بات وثوق سے نہیں کہی جا سکتی کہ کورونا کب تک لوگوں کو متاثر کرے گا مگر اتنا ضرور ہے کہ تمام تر حکومتی ہدایات پر عمل درآمد کر کے ہم خود کو اس وائرس سے محفوظ رکھ سکتے ہیں، انہوں نے کہا کہ مخیر حضرات اور پرائیویٹ سیکٹر نے ہمارے ہسپتالوں کے ساتھ ہمیشہ ہی تعاون کیا ہے، اس شہر کے رہنے والوں کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ کورونا وائرس کی وباء سے اپنے شہریوں کو بچانے کے لیے آگے آئیں اور اپنا اپنا کردار ادا کریں، انہوں نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی سے وابستہ پیرامیڈیکل اسٹاف میں وہ حوصلہ اور جذبہ موجود ہے جو کسی بھی محاذ پر جنگ جیتنے کے لیے انتہائی ضروری ہوتا ہے اور ہم ان شاء اللہ اس نیک کام میں ضرور کامیاب ہوں گے، انہوں نے پیرا میڈیکل اسٹاف کو ھدایت کی کہ وہ حکومت کے بتائے ہوئے تمام طریقوں اور اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر ( Sop, s ) پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں