دیکھا جو آنکھوں نے’

دیکھا جو آنکھوں نے’ اتوار 05 جولائی 2020ء
تحریر: طارق اقبال۔ کویت
5 جولائی ، کو جو ہوا نہ ہوتا تو کیا ہوتا

آج 5 جولائی 2020ء ہے، أج سے 43 سال پہلے 5 جولائی 1977ء کو پاکستان میں ایک حادثہ رونما ہوا، اس وقت میں بہاولپور میں چھٹی جماعت کا طالب علم تھا، اور ریڈیو پاکستان بہاولپور میں بطور چائلڈاسٹار سرائیکی پروگرام بھی کر رہا تھا ،سیاسی شعور اتنا ہی تھا کہ چار ماہ سے قومی اتحاد کی تحریک کے باعث اسکول بند تھے، بغیر امتحان کے پاس بھی ہو چکے تھے، ایک چھوٹے شہر میں رہنے کی وجہ سے سیاسی ہلچل سے زیادہ واقف نہ تھے، 5 جولائی کی تبدیلی کا علم بھی ظہر کی نماز کے وقت ہوا،مسجد کے باہر گرما گرم حلوہ اور نان بانٹے جارہے تھے، حلوہ کی خوشبو ہی ایسی تھی کہ لے کر فورا گھر پہنچا، فوری طور پر یہ سوچنے کی زحمت گوارا نہ کی کہ یہ حلوہ کس خوشی میں بانٹا جا رہا ہے، اپنے بڑے بھائی خالد چغتائی کے بتانے پر علم ہوا کہ ملک میں ایک بار پھر مارشل لاء نافذ ہو چکا ہے،اسی شام ریڈیو پر مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل ضیاء الحق کی تقریر نشر ہوئی جس میں انہوں نے بڑے پرخلوص انداز سے کہا کہ ان کا حکومت کرنے کا کوئی ارادہ نہیں وہ صرف الیکشن کرانے آئے ہیں، 90 روز میں الیکشن کرا کے واپس لوٹ جائیں گے۔ خیر90 روز میں الیکشن کا وعدہ تو پورا نہ ہوا ، عالم تصور میں سوچتا ہوں کہ 5 جولائی کو جو ہوا نہ ہوتا تو کیا ہوتا، حالانکہ یہ ایک بچگانہ سوچ ہے کیونکہ جو ہونا تھا وہ ہو چکا ہے، مجھے علم ہے کچھ دوست میرے خیالات سے اتفاق نہیں کریں گے، اختلاف رائے ہر کسی کا حق ہے مگر گالی گلوج نہیں ہونی چاہیے، اللہ تعالیٰ گواہ ہے میں نے زندگی میں کسی کو گالی نہیں دی، یہ تحریر اپنے ایک استاد اشفاق احمد مرحوم کی طوطا کہانی سے متاثر ہو کر لکھ رہا ہوں جس میں وہ بھی عالم تصور میں کوچ کر گئے تھے اور ہیر رانجھا کے زمانہ میں پہنچ کر انہوں نے فرض کر لیا کہ اگر ہیر رانجھا کی شادی ہو جاتی تو کیا ہوتا؟ بہت اچھی تحریر تھی ،اس پر ڈرامہ بھی بنا ، میں بھی عالم تصور میں جاکر سوچتا ہوں کہ 5 جولائی 1977ء کا مارشل لاء نہ لگتا اور 18 اکتوبر 1977ء کو پر امن انتخابات ہو جاتے جن کا اعلان بھٹو صاحب کر چکے تھے،اور جس پر اپوزیشن بھی متفق تھی، متوقع نتائج یہی ہوتے کہ اپوزیشن جماعتوں پر مشتمل پاکستان قومی اتحاد زیادہ سے زیادہ 50 نشستیں حاصل کر لیتا،یہ بھی زیادہ بتا ریا ہوں کیونکہ جنرل ضیاء الحق حکومت کے جاری کردہ وائٹ پیپر میں دعوی کیا گیا تھا کہ مارچ 1977ء کے انتخابات میں گیارہ نشستوں پر منظم دھاندلی ہوئی تھی،وہ نشستیں پاکستان قومی اتحاد جیت لیتا تو تقریباً 50 نشستیں بنتیں،چلو 60 کر لیں، 10 کے قریب آزاد اور دوسری جماعتیں بھی جیت جاتیں تو بھی 207 کے ایوان میں پیپلز پارٹی کی 130 سے زائد نشستیں ہوتیں۔ ذوالفقار علی بھٹو بہ آسانی دوبارہ وزیراعظم بن جاتے، اندرونی سطح پر بلاشبہ مہنگائی اور بےروزگاری جیسے چیلنجز موجود رہتے اور یہ بعد میں کسی بھی دور میں کم نہیں ہوئے مگر خارجہ محاذ پر حالات یکسر مختلف ہوتے، ہو سکتا ہے اسلامی بلاک ،اسلامی بینک جیسے منصوبے کامیاب ہو جاتے، اور عالم اسلام آج بہتر پوزیشن میں ہوتا ،کم ازکم ذفغان جنگ میں پاکستان کا کردار مختلف ہوتا اور شائد امریکہ اتنی آسانی سے دنیا کی واحد سپرپاور بھی نہ بنتا، پاکستان ہرافعان جنگ کا اثر اتنا ہی ہوتا جتنا دوسرے پڑوسی ملک ایران پر ہوا، مہاجرین ایران میں بھی گئے تھے، پاکستان میں اگر تیس لاکھ افغان مہاجرین تھے تو بیس لاکھ ایران میں بھی تھے مگر وہاں وہ ایک علاقے تک محدود رہے، نہ تو کلاشنکوف ان کے ساتھ گئی نہ ہیروئن کلچر عام ہوا، نہ ہی ان میاجرین نے تہران میں مہنگی ترین جائدادیں خریدیں، 1988ء میں روسی فوجوں کے انخلاء کے بعد افغان مہاجرین بھی ایران سے چلے گئے، ہماری طرف یہ عالم ہے کہ 32 سال بعد بھی افغان مہاجرین ہمارے ملک سے جانے کا نام نہیں لے رہے،ہمارے ملک میں کلاشنکوف اور ہیروئن کلچر عام کرنے کے بعد افغان حکومت اور عوام پاکستان کے بدترین دشمن ہیں،افغان جنگ کے بعداب تک پاکستان ایک لاکھ سے زائد فوجی اور سول شہریوں کی قیمتی جانیں قربان کرنےکے بعد بھی یہ عالم ہے کہ پاکستانی فوج بھی یہ جانتی ہے کہ انڈیاجنگ کی صورت میں افغانستان کی طرف سے پاکستان پر حملہ کرے گا، روس کے جانے کے بعد جتنی حکومتیں افغانستان میں آئیں وہ انڈیا نواز تھیں، انڈیا نے پاکستان کے خلاف کارروائیوں کیلئے افغانستان میں 18 قونصل خانے قائم کئے حالانکہ امریکہ جیسے بڑے ملک میں جس کی 52 ریاستیں ہیں انڈیا کے 18 قونصل خانے نہیں ہیں۔افغانیوں کی پاکستان سے نفرت کا عملی مظاہرہ کرکٹ میچز میں دیکھا جا سکتا ہے جب افغان کھلاڑی جو پاکستان میں مہاجر کیمپوں میں کھیل کر کھلاڑی بنے ہیں ،کسی بھی پاکستانی کھلاڑی کو آؤٹ کر کے کتنے گندے اور غلیظ اشارے کرتے ہیں، یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ 5 جولائی 1977 والا واقعہ نہ یوتا تو نہ تو ہمیں ایک لاکھ ماوں کے لعل شہید کرانے پڑتے اور نہ آج افغانیوں کی اتنی نفرت سمیٹنا پڑتی۔تمام تجزیہ کار متفق ہیں کہ 5 جولائی 1977ء کو ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت ختم نہ ہوتی تو پاکستان نے جو کارنامہ 28 مئی 1998ء کو آنجام دیا ہے وہ 1978 یا 1979ء میں انجام دے چکا ہوتا۔ملکی معیشت کا حال اس لحاظ سے ضرور بہتر ہوتا کہ اس دور میں خلیجی ممالک میں سبز پاسپورٹ کی بڑی عزت تھی اور دھڑادھڑ پاکستانی ملازمتوں کیلئے خلیجی ممالک جارہے تھے، ان کی وجہ سے معیشت بہتر رہتی جس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ بھٹو کے دور میں روہے کی قدر ڈالر کے مقابل ہمیشہ مستحکم رہی۔ہیروئن نہ اتی تو کوئی ملک پاکستان کے ویزے بند نہ کرتا اور نہ ائیرپورٹ پر کسی کے کپڑے اترتے۔ 5 جولائی 77 کو جمہوریت کا خون نہ ہوتا تو آج جمہہوریت اتنی بے بس اور لاغر نہ ہوتی کہ دو تہائی اکثریت والی اسمبلی کے قائد ایوان کو ایک لیفٹیننٹ کرنل گرفتار کر کے لے جاتا۔ ملک اج بھی جمہوریت کے چاہنے والوں کی آواز مدیم اور کنٹرولڈ جمہوریت کے حامی بڑا اکڑ کر بات کرتے ہیں تو اس کی وجہ 5 جولائی کا سانحہ ہے۔
لیکن
یہ سب خیالی باتیں ہیں ہونا وہی ہوتا ہے جو سپر پاور چاہتی ہے،یہ تو سابق امریکی صدر جارج بش کہہ بھی چکے ہیں کہ انہیں پاکستان میں جمہوریت کی بجائے آمریت ،،سوٹ،، کرتی ہے جس میں صرف ایک شخص سے معاملات طے کرنا پڑتے ہیں،ایک فون کال سے 22 سالہ خارجہ پالیسی رول بیک کر دی جاتی ہے،یہ اتفاق نہیں حقیقت ہے پاکستان میں جمہوری حکومتوں کا خاتمہ بین الاقوامی حالات کے پیش نظر ہوتا رہا ہے، 1971 میں مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانا تھا،دوسال پہلے یحییٰ خان کا مارشل لاء آگیا ،1979ء میں افغان جنگ کے آغاز سے دوسال پہلے پاکستان میں مارشل لاء آگیا، 2001 میں 9/11 اور افغانستان میں دوبارہ حملہ کی منصوبہ بندی ہوئی تو اس سے دو سال پہلے پاکستان میں فوج نے اقتدار سنبھال لیا اور پھر وہی ہوا جو سنگل سپرپاور چاہتی تھی۔حتمی طور پر یہی کہوں گا کہ 5 جولائی کو جمہوریت ڈی ریل نہ ہوتی تو بے شک آج کسی بھی جماعت کی حکومت ہوتی پاکستان آج کم از کم خطے کی ایک بہت بڑی طاقت ہوتا،ہماری معیشت اس سے بہت اچھی ہوتی ،دنیا کو نہیں تو کم از کم اسلامی دنیا کو ہم لیڈ کر رہے ہوتےجمہوریت کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ ہمیشہ پیپلز پارٹی یا ن لیگ کی ہی حکومت ہو، یہ جماعتیں پرفارم نہ کریں تو عوام کو حق ہو کہ ان کو انتخابات میں یکسرمسترد کردیں ، سیاسی جماعتوں کو بھی جب احساس ہوگا کہ وہ صرف عوام کے ووٹوں سے ہی اقتدار میں آ سکتے ہیں تو وہ کسی اور در پر نہیں جائیں گی،انہیں ہر حال میں پرفارم کرنا ہوگا۔، کاش 71ء کے سانحہ سے ہم کچھ سبق سیکھ لیتے اور اب مسلسل جمہوریت کی نصف سنچری ہونے کو ہوتی تو پاکستان سپر پاور نہیں تو منی سپر پاور ضرور یوتا،
جمہوریت کا مطلب ہے