ملک کے بڑے شہر پر بدستور اندھیروں کا راج

مطابق کراچی کے مختلف علاقوں میں بد ترین لوڈ شیڈنگ جاری ہے، مرکز میں حکومت کرنے والی پارٹی کے وزرا سمیت عدالتی احکامات اور سیاسی جماعتوں اور عوام کے احتجاج تک ہر تدبیر کے الیکٹرک کے آگے ناکام ہو چکی ہے۔

کراچی کے علاقوں کورنگی کراسنگ، لکھنؤ سوسائٹی، ناصر کالونی میں کئی گھنٹے سے بجلی غائب ہے، لانڈھی، قائد آباد، ملیر، کھوکھراپار، کالا پل میں بھی بجلی کی طویل بندش کا سلسلہ جاری ہے

طویل لوڈ شیڈنگ کے باعث گھروں میں پانی کی قلت کا سامنا ہے، اور شہری دوہری پریشانیوں میں مبتلا ہے۔ کے الیکٹرک ان علاقوں میں بھی لوڈ شیڈنگ کر رہی ہے جو مستثنیٰ قرار دیے جا چکے ہیں، جہاں کرونا وائرس کے مریضوں کو قرنطینہ کیا گیا۔

ایک طرف کراچی والے عذاب میں مبتلا ہیں اور مختلف علاقوں میں شہریوں نے رات جاگ کر گزاری، دوسری طرف کے الیکٹرک کا دعویٰ ہے کہ کراچی میں کہیں لوڈ شیڈنگ نہیں ہو رہی۔ ادھر ترجمان پاور ڈویژن نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں بجلی کا کوئی شارٹ فال نہیں، تقسیم کار کمپنیاں ضرورت کے مطابق سسٹم سے بجلی لے رہی ہیں۔

ذرایع پاور ڈویژن نے ملک میں بجلی کی مجموعی طلب اور رسد کہا ہے کہ ملک میں بجلی کی مجموعی طلب 18196 میگا واٹ ہے جب کہ مجموعی پیداوار 22000 میگا واٹ ہے، ملک میں بجلی کا شارٹ فال صفر ہو گیا، بجلی کی طلب میں نمایاں کمی کی وجہ بارشیں ہیں

Courtesy ary news