وزیراعلیٰ سندھ کا 8672 آئسولیشن بیڈز کو ایچ ڈی یو بیڈز میں تبدیل کرنے کا فیصلہ

وزیراعلیٰ سندھ کا 8672 آئسولیشن بیڈز کو ایچ ڈی یو بیڈز میں تبدیل کرنے کا فیصلہ
کراچی (4 جولائی):
کراچی (4 جولائی): وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے 8672 آئسولیشن بیڈز کو دو سے زائد مراحل میں ایچ ڈی یو بیڈز میں تبدیل کرنے اور زیادہ وینٹی لیٹرز اور معیاری آکسیجن انتظامات والے ایچ ڈی یو بیڈز خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ بات انہوں نے ہفتے کے روز وزیراعلیٰ ہاؤس میں COVID-19 کے ٹاسک فورس کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں وزیر صحت ، وزیر بلدیات ، وزیر تعلیم ، وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ، مشیر قانون ، میئر کراچی ، چیف سیکرٹری ، اے سی ایس ہوم ، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری، ڈی جی رینجرز ، آئی جی سندھ ، کور 5 کے بریگیڈ حسین ، کمشنر کراچی ، صوبائی سیکرٹریز ، ڈبلیو ایچ او ، ایف آئی اے ، پاکستان نیوی ، یونیسف کے نمائندے ، ڈاکٹر فیصل ، ڈاکٹر باری ، مشتاق چھاپرہ اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ واضح رہے کہ اس وقت سندھ حکومت کے پاس 503 آئی سی یو بیڈز ہیں جن میں وینٹی لیٹر اور 1810 ایچ ڈی یو بستر ہیں۔ مراد علی شاہ نے بتایا کہ ان کی حکومت نے یکم جون سے 23 جولائی تک 300247 ٹیسٹ کئے ہیں جس کے نتیجے میں کورونا وائرس کے 62476 کیسز کا پتہ چلا ہے جبکہ اسی عرصے کے دوران پنجاب میں 286049 ٹیسٹ کئے اور 54057 کیسز کی تشخیص ہوئی، کے پی کے میں 93377 ٹیسٹ کئے اور 17479 کیسز کا پتہ چلا ، اسلام آباد 90557 ٹیسٹ کئے اور 10703 کیسز ظاہر ہوئے، گلگت بلتستان 5100 ٹیسٹ کئے اور 825 کیسز کی تصدیق کی، بلوچستان میں 26008 ٹیسٹ کئے گئے اور 6324 کیسز ظاہر ہوئے اور آزاد کشمیر میں 10351 ٹیسٹ کرنے سے 959 کیسز کا پتہ چلا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت نے دیگرصوبے کے مقابلے میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ دوسرے صوبوں کے ساتھ موازنہ کرنے کا مقصد ان پر تنقید کرنا نہیں بلکہ حکومت سندھ کی کارکردگی کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یکم جون سے 3 جولائی 2020 کے دوران آزاد جموں و کشمیر میں 28 ، بلوچستان میں 75 ، گلگت بلتستان میں 17 ، اسلام آباد میں 102 ، کے پی کے میں 529، پنجاب میں 1347 اور سندھ میں 987 ہلاکتیں ہوئیں۔ یہ بات واضح ہے کہ ہماری اموات کی شرح مریضوں اور آبادی کے لحاظ سے صوبے میں کم ہیں۔ انہوں نے کہا اور سندھ میں کورونا سے صحتیابی کی شرح دیگر صوبے سے بہتر ہے جیسا کہ مذکورہ عرصے کے دوران آزاد جموں و کشمیر میں 518 ، بلوچستان میں 3824 ، گلگت بلتستان میں 689 ، اسلام آباد میں 8441 ، کے پی کے 12608 ، پنجاب 35833 اور سندھ میں 37098 مریض صحتیاب ہوئے ہیں۔ ہماری اموات کی شرح 1.57 فیصد ریکارڈ کی گئی جبکہ پنجاب میں 2.49 فیصد ، کے پی کے میں 3.03 فیصد ، گلگت بلتستان میں 2.06 فیصد ، بلوچستان میں 1.19 فیصد اور آزاد کشمیر میں 2.2 فیصد ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر اموات کی شرح کا موازنہ صوبے کے مریضوں اور آبادی کی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے تو بہتر صحت کی دیکھ بھال کے نظام کی وجہ سے سندھ میں سب سے کم شرح ہے۔ خطے کے فی ملین آبادی کے ٹیسٹ کا تقابلی تجزیہ کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے سندھ حکومت سے موازنہ کیا تو پتہ چلا یہ دیگر ممالک سے آگے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم (سندھ) نے 100 ملین افراد کا فی ملین ٹیسٹ کیا ہے جبکہ پاکستان کے ہر ملین ٹیسٹ 6115 ، بھارت 6737 ، بنگلہ دیش 4981 ، سری لنکا 5160 اور افغانستان 1908 میں آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیسٹ کی تشخیص جو فروری 2020 میں صرف 80 دن تھی اسے بڑھا کر 300 ، پھر 1200 ، 4200 ، 6500 ، 8750 ، 11450 اور اب 14050 کردیا گیا جوکہ خود کم وسائل رکھنے والی صوبائی حکومت کا ریکارڈ ہے۔ مراد علی شاہ نے جون کے تین ہفتوں کا تجزیہ دیتے ہوئے کہا کہ جون کے دوسرے ہفتے میں 51086 ٹیسٹ کئے گئے جن سے 15221 کیسز کا پتہ چلا اور 8916 مریضوں کا علاج کیا گیا جبکہ جون کے تیسرے ہفتے میں 67534 ٹیسٹ کئے گئے جن سے 15095 کیسز کی تشخیص ہوئی اور 10702 مریضوں کا علاج کیا گیا۔ جون کے چوتھے ہفتے میں 34344 ٹیسٹ کئے گئے جن کے نتیجے میں 7975 کیسز ظاہر ہوئے اور 7110 مریض صحتیاب ہوئے۔ مراد علی شاہ نے جولائی کے پہلے ہفتے سے متعلق بتایا کہ 18934 ٹیسٹ کئے گئے جس سے 4806 کیسز کا پتہ چلا اور 3988 صحتیاب ہوگئے ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ہم نے ٹیسٹنگ کی استعداد کار کو بڑھایا، ایس او پیز سے متعلق لوگوں میں آگاہی میں اضافہ ہوااور تشخیصی شرح کو کم کرنے اور صحتیابی کی شرح میں اضافہ کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ یہ ہماری پالیسی اور صحت کے بہتر نظام کی کامیابی کی داستان ہے۔ چیلنجز سے متعلق وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ موجودہ پھیلاؤ کے تحت یہ اندازہ لگانا ناممکن تھا کہ ایک جغرافیائی علاقے میں کتنے کیسز موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ تر کیسز غیر متزلزل (80 فیصد سے زیادہ) ہیں اور انہوں نے مزید کہا کہ ہر ملک کو ایس او پیز کے نفاذ اور نرمی کے عملدرآمد کیلئے مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہم سب کو اسکرین نہیں کرسکتے لہذا ٹارگٹ اسکریننگ کی پالیسی اپنائی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ون ٹائم اسکریننگ کوئی آپشن نہیں تھا لیکن مستقل نمائش کے ساتھ ون ٹائم اسکریننگ کبھی بھی کافی نہیں ہوسکتی ہے۔ ہمارے پاس لامحدود وسائل نہیں ہیں لہذا ہمیں ایسے وسائل مختص کرنے ہیں جہاں صحت پر کم سے کم اخراجات کو یقینی بنایا جاسکے۔ مراد علی شاہ نے ضلع وسطی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ گلشن ٹاؤن میں 247 اور جمشید ٹاؤن میں 214 ایسے کیسز کا پتہ چلا جب منتخب لاک ڈاؤن شروع کیا گیا تھا۔ 2 جولائی کو جب منتخب لاک ڈاؤن کو ختم کیا گیا تو گلشن ٹاؤن میں 283 اور جمشید ٹاؤن میں 90 کیسوں کا پتہ چلا۔ لاک ڈاؤن کے دورانیے کے دوران گلشن ٹاؤن میں 66 اور جمشید ٹاؤن میں 187 مریض صحتیاب ہوئے۔اس کا مطلب ہے کہ کیسز پر قابو پانے کیلئے لاک ڈاؤن واحد آپشن بن گیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے مزید وینٹی لیٹرز ، مزید ایچ ڈی یو بیڈ اور ہائی آکسیجن انتظامات خریدنے کا فیصلہ کیا۔ اجلاس میں 8672 آئسولیشن بیڈز کو دو مرحلوں میں ایچ ڈی یو بیڈز میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے وزیر صحت پر زور دیا کہ وہ اسٹورکس، پلمونری ایمبالزم اور سیزرز سے اموات کو کم کرنے کیلئے ضروری اقدامات کریں۔
CoVID-19 صورتحال رپورٹ:
قبل ازیں روزانہ کورونا وائرس کی صورتحال رپورٹ سے متعلق وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس سے 42 مزید مریض لقمہ اجل بنے جس کے بعد اموات تعداد 1501 تک بڑھ گئی ہے جبکہ 1585 نئے کیسزسامنے آئے جب 10718 ٹیسٹ کئے گئے جسکے بعد مثبت کیسز کی تعداد 92306 ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وائرس کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے گزشتہ 24 گھنٹوں میں 42 مریض اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اب کورونا وائرس کی وجہ سے جان بحق مریضوں کی تعداد 1501 ہوگئی ہے جوکہ 1.6 فیصد اموت کا تناسب بنتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 10718 ٹیسٹ کئے گئے جن سے 1585 نئے کیسز کا پتہ چلا جو 15 فیصد شرح بنتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اب تک سندھ بھر میں 491768 ٹیسٹ کئے جاچکے ہیں جن سے 92306 کیسز کی تشخیص کی گئی اور مجموعی طور پر پتہ لگانے کا تناسب 19 فیصد ہو گیا ہے۔ مراد علی شاہ نے بتایا کہ اس وقت 38417 مریض زیر علاج ہیں جن میں سے 36515 گھروں میں ، 299 آئسولیشن مراکز میں اور 1603 مختلف اسپتالوں میں شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت 733 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے ان میں سے 98 وینٹیلیٹروں پر ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ 1480 مزید مریض گزشتہ 24 گھنٹوں میں صحتیاب ہوئے اور اب تک صحتیاب ہونے والے مریضوں کی تعداد 52388 تک پہنچ چکی ہے جوکہ 57 فیصد صحتیابی کی شرح ہے۔ مراد علی شاہ نے بتایا کہ 1585 نئے کیسوں میں سے 928 کا تعلق کراچی سے ہے ان میں ضلع شرقی 262 ، ضلع جنوبی 221 ، ضلو کورنگی 121 ، ضلع وسطی 116 ، ضلع ملیر 105 اور ضلع غربی 103 شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سکھر میں 107 ، حیدرآباد 76 ، گھوٹکی 65 ، مٹیاری 31 ، ٹھٹھہ 16 ، خیرپور 14 ، جیکب آباد 13 ، بدین 13 ، نوشہروفیروز 12 ، سانگھڑ اور عمرکوٹ9-9 ، قمبر 8، میرپورخاص 7، جامشورو 6، لاڑکانہ 4اور دادو ، کشمور ، شکارپور اور شہید بینظیر آباد 1-1 نئے نئے کیسز ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے صوبے کے عوام سے اپیل کی کہ وہ منتخب لاک ڈاؤن کے نفاذ میں انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں اور سب کو محفوظ رکھنے کیلئے ایس او پیزپر عمل کریں۔
عبدالرشید چنا
میڈیا کنسلٹنٹ وزیراعلیٰ سندھ