جلد وزارت پورٹ اینڈ شپنگ میں ہونے والی اربوں کے کرپشن پر وائٹ پیپر جاری کیا جائے گا۔- پیپلز پارٹی

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر تعلیم و محنت سندھ سعید غنی اور پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی عبدالقادر پٹیل نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے چول وزیر جن کا کام جھوٹ اور الزام تراشیاں ہی رہ گیا ہے، جلد وزارت پورٹ اینڈ شپنگ میں ہونے والی اربوں کے کرپشن پر وائٹ پیپر جاری کیا جائے گا۔ قومی اسمبلی کے فلور پر جھوٹی اور من گھڑت جے آئی ٹی رپورٹ لہرا کر پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت اور ارکان قومی و صوبائی اسمبلی پر الزام لگانے والے اس بے شرم وزیر کو حقیقی جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد ان ارکان اور قوم سے معافی مانگنی چاہیے۔ علی زیدی کو کھلا چیلنج دیتا ہوں کہ وہ کسی ٹی وی چینل کے ٹاک شو میں میرے مدمقابل آئیں اور مجھ سے مناظرہ کریں تو انہیں تمام حقائق کا پتہ چل جائے گا۔ قومی اسمبلی میں اسپیکر کا رویہ انتہاہی جاندرانہ ہے اور اس کے خلاف پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) تحریک عدم پیش کرنے کا سوچ رہی ہے۔حکومت فوری طور پر کے الیکٹرک کو سرکاری تحویل میں لے اور عوام کو مکمل بجلی کی فراہمی کو یقینی بنائے۔ ان خیالات کا اظہار ان دونوں رہنماؤں نے ہفتہ کے روز کراچی میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ ہم نے پی ٹی آئی کے وزراء کے مطالبے پر عذیر بلوچ کی جے آئی ٹی کو ظاہر کردیا ہے اور پیر کے روز یہ محکمہ داخلہ کی آفیشل ویب سائیڈ پر موجود ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ کچھ روز قبل پی ٹی آئی کے ایک چول وزیر جن کا کام صرف جھوٹ اور من گھڑت الزامات لگانا ہے نے اسمبلی فلور پر کھڑے ہوکر ایک جھوٹی جے آئی ٹی رپورٹ ایوان میں لہرا لہرا کر پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت اور ہمارے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی پر الزامات عائد کئے۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ جے آئی ٹی میں ہمارے کسی رکن کا نام نہیں اور بے بنیاد الزامات لگائی گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایوان کے پلیٹ فارم پر الزام لگانے پر ان کو کوئی شرم نہیں ہے کیونکہ اگر انہیں کوئی شرم ہوتی تو ملک کا یہ حال نہ ہوتا اوراگر شرم ان کو ہوتی تو ایسے الزام نہ لگائے جاتے۔ سعید غنی نے کہا کہ مجھ پر الزام لگائے گئے اور پولیس افسر کی توسط سے میرے بھائی کا نام استعمال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی پولیس افسر کا کام رپورٹ بنانا نہیں ایف آئی آر داخل کرنا ہوتا ہے اور گرفتاری کی جاتی ہے اور اگر ایسا افسر کاروائی نہیں کرتا تو وہ یا تو بزدل ہے یا ان فٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی اس جھوٹے وزیر نے سندھ حکومت پر صنعتین کھولنے پر پیسے لگانے کا الزام لگایا۔ہم نے الزام لگانے پر ثابت کرنے کا مطالبہ کیا اور چیئرمین کے پی ٹی کو بلانے کا بھی مطالبہ کیا۔ چیئرمین کے پی ٹی کا نام سنتے ہی ان کو نجانے کیوں آگ لگتی ہے۔ اس موقع پر رکن قومی اسمبلی عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ قومی اسمبلی میں بداخلاقی کا طوفان شروع کیا گیا ہے۔ ہمای قیادت پر الزام لگائے جاتے رہے۔ ہم ڈیڑھ سال تک خاموش رہے کہ ایوان کا ماحول خراب نہ ہو لیکن ان کی جانب سے مسلسل ہماری قیادت پر جھوٹے اور بے بنیاد الزامات لگانے کا سلسلہ جاری رہا اور جب ہم اب ان کو ان کی زبان اور انداز میں جواب دینا شروع کیا ہے تو ہمیں قومی اسمبلی میں بات کرنے پر مائیک بند کردیئے جاتے ہیں۔ قادر پٹیل نے کہا کہ جب میں لندن میں تھا تو اس دوران رینجرز کا خط موصول ہوا عزیر کے کیس میں سوال کرنے تھے۔ رینجرز نے تحقیقات یا جواب کے لیئے طلب کیا۔واپس لوٹا تو رینجرز کے تمام جواب دیا رینجرز نے کلیئر کردیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عاصم کیس میں جیل گیا تھا تھااور ابھی کیس زیر سماعت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں قومی اسمبلی میں نہیں بولنے دیا جاتا تو شاید یہ سمجھتے ہیں کہ ہماری زبان بندی کردیں گے لیکن ہم اب خاموش نہیں رہیں گے، انہوں نے کہا کہ ہم جلد ہی محکمہ پورٹ اینڈ شپنگ کی وزارت پر وائٹ پیپر شایع کریں گے اور ان کی کھربوں روپے کی کرپشن کو نے نقاب کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ علی زیدی بڑا سائنسدان ہے اور کیماڑی میں گیس کے معاملے پر شراب کی بھٹی کے الزام لگایا گیا۔اس سائنسدان نے کیماڑی سے گیس نکلنے کا الزام بھی لگایا۔ ان اس سانحہ کے ورثاء ہائی کورٹ گئے ہوئے ہیں تو تمام حقائق بھی سامنے آجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 24لاکھ روپے سے علی زیدی نے اپنا آفس بنایا ہوا ہے۔ 20 لاکھ روپے اس گھر پر خرچ کئے گئے ہیں جسے اس نے کرایہ کا ظاہر کیا ہوا ہے اور اس کے باہر کنٹینر بھی لگایا جس کا خرچہ کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر، وزیر اعظم، گورنر اور وزیر داخلہ کے علاوہ کسی کو بھی نیول کا حاضر سروس افسر اے ڈی سی لگانے کا اختیار نہیں ہے لیکن علی زیدی نے نیول کے ایک حاضر سروس افسر کو اے ڈی سی تعینات کررکھا ہے، جن کا اختیار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ چئیرمین کے پی ٹی اور اس کے مابین70 ملین کا ایک ایم او یو مخالفت کا باعث بنا ہوا ہے کیونکہ یہ ایک کمپنی سے 12 ملین کی بجائے 70 ملین کا معاہدہ کرنے پر بضد ہیں، جو 10 سال میں کام مکمل کرے گی جبکہ 12 ملین کے معاہدے میں ایک سال میں کام مکمل ہونا ہے۔ انہوں نے کہا کہ علی زیدی بتائیں کہ دو سال سے ویسٹ وہارف میں لیز پر پابندی ہے تو پلاٹ نمبر 16 کی کس طرح لیز کی گئی۔کے پی ٹی کے بورڈ ممبر کون ہیں معیار کیا ہیں مقرر کیوں کیئے گئے اس پر بھی تحقیقات کیوں نہیں کی جاتی۔ برتھ نمبر چودہ سے سترہ سے کون سی کمپنی مستفید ہورہی ہے کس کا بھائی اس سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔ کلین کراچی کے کروڑوں روپے لیئے گئے نہ آڈٹ ہے نہ رولز فالوو ہوئے۔ایک این جی او سے کام کروایا گیا اس میں کون سی خاتون تھیں ان کو کیا فائدہ دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ کے پی ٹی ایکٹ میں ترمیم کرانے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ جو اختیار بورڈ کے ہیں ان کے کامپیٹنٹ أتھارٹی کو متقل کیا جاسکے۔ قادر پٹیل نے مزید کہا کہ نیب نے جب اربوں کی کرپشن کا نوٹس دیا تو علی زیدی چیئرمین نیب سے ملاقات کرنے چلے گئے،کیا چیئرمین نیب اپوزیشن سے ملیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اربوں روپے کی کرپشن کے بعد یہ حرام جانور کی بجائے پورا حرام جانور کھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ الزامات میں نہیں لگارہا بلکہ یہ الزام کے پی ٹی کی یونین نے لگائے ہیں اور اس تمام کے شواہد بھی انہوں نے نیب کو فراہم کئے ہیں۔ ایک سوال پر قادر پٹیل نے کہا کہ مجھ پر اسمبلی میں الزام لگایا گیا اس پر میری تو تحریک استحقاق بنتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ علی زیدی جب تقریر کرتے ہیں تو علامہ اور مولانا بھی سامنے آجاتے ہیں۔ قادر پتیل نے کہا کہ قومی اسمبلی کے اسپیکر کا رویہ جارہا نہ اور جانبدارانہ ہوتا جارہا ہے۔ اس لئے ہم جلد اسپیکر کے خلاف تھریک عدم اعتماد لائیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں اسمبلی میں تقریر کرتا ہوں تو وہ بھاگ جاتے ہیں، جب ان کو پتا چلتا ہے کہ اپوزیشن بائیکاٹ کیا ہے تو واپس آتے ہیں اور تقریر بھی کرتے ہیں۔ انہوں نے ایوان کو سرکس بنادیا ہے۔ ایک سوال پر سعید غنی نے کہا کہ کراچی میں شدید گرمی ہے اور کے الیکٹرک اس وقت میں زیادتی کررہی ہے۔ ریحام خان نے عمران خان کے دونوں الیکشن کے ساٹھ فیصد اخراجات ادا کرنے والے کا نام ظاہر کردیا ہے اور وہ عارف نقوی ہیں، جو اس وقت کے الیکٹرک کے مالکان میں سے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کے ای نے لوڈشیڈنگ ختم نہیں کی ہے اور ٓئین پاکستان کی خلاف ورزی کررہا ہے اور غریبوں کو بجلی سے محروم کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیا کراچی واٹر بورڈ اگر بل نہ ملنے پر لوگوں کو پیاسا مارے تو عوام خاموش رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ بجلی ضرورت ہے آسائش نہیں ہے اس لیے ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت فوری طور پر کے الیکٹرک کو سرکاری تحویل میں لے اور عوام کو مکمل بجلی کی فراہمی کو یقینی بنائے۔

جاری کردہ: زبیر میمن، میڈیا کنسلٹینٹ، وزیر تعلیم و محنت سندھ، سعید غنی، فون 03333788079