گورنر ہاؤس اپوزیشن جماعتوں کا سیاسی مرکز بن گیا۔

کراچی(اسٹاف رپورٹر)

گورنر ہاؤس اپوزیشن جماعتوں کا سیاسی مرکز بن گیا۔
گورنر سندھ عمران اسماعیل کو انتظامیہ اور اپوزیشن کے مابین ان کے مسائل حل کرنے کے لئے کردار ادا کیا جارہا ہے۔
پیپلز پارٹی کے رہنما گورنر پر گورنر ہاؤس سے متوازی حکومت چلانے کا الزام عائد کررہے ہیں۔
وفاقی حکومت کی بیوروکریسی حزب اختلاف کے امور کو سنبھالنے میں گورنر سندھ کے اصل حامی ہیں

گورنر ہاؤس کراچی میں وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب کے ساتھ ویڈیو لنک پر اجلاس، گزشتہ روز ہونے والے اجلاس کی

اندرونی کہانی سامنے آگئی۔ اجلاس میں پی ٹی آئی کی اتحادی گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے رہنماؤں نے کراچی میں بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ پر شدید تنقید کی اور کے الیکٹرک کی اجارہ داری ختم کرنے کے لئے دیگر ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کا بھی تقرر کیا جائے زرائع کے مطابق اجلاس میں کے ای،سیپکو اور ہیسکو کے چیف آپریٹنگ آفیسرز بھی موجود تھے اجلاس میں پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کے علاوہ جی ڈی اے کے وفد میں ترجمان جی ڈی اے سردار رحیم، ایم پی اے حسنین مرزا ، ایم پی اے نصرت سحر عباسی اور ایم پی اے نند کمار گوکلانی شامل تھے زرائع کے مطابق جی ڈی اے رہنماوں نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے خلاف شکایات کے انبار لگائے جی ڈی اے رہنماؤں نے بدترین لوڈشیڈنگ، اوور بلنگ، کے الیکٹرک انتظامیہ کے غیر ذمہ دارانہ سلوک پر شدید برہمی کا اظہار بھی کیا اور کہا کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نااہلی اور بدعنوانی کا عمل جی ڈی اے کو سڑکوں پر احتجاج کرنے والے عوام کے ساتھ کھڑا ہونے پر مجبور کردیگا۔ زرائع کے مطابق جی ڈی اے رہنماؤں نے واضح کیا کہ بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ اور اوور بلنگ کی صورتحال پی ٹی آئی کے ساتھ جی ڈی اے کے اتحاد کو کمزور کرسکتی ہے رہنماؤں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت تاحال کوئی تبدیلی نہیں لاسکی عوام شدید کرب کا شکار ہیں، زرائع کے مطابق جی ڈی اے رہنماؤں نے اجلاس میں کہا کہ اب بھی پیپلزپارٹی رہنما خورشید شاہ کے حواریوں کے ذریعے سیپکو اور ہیسکو کا انتظام چل رہا ہے کے الیکٹرک کراچی کے شہریوں کی کھال اُتارنے کے ساتھ انہیں زہنی اذیت سے دوچار کر رہی ہےاور کوئی اس پر کوئی قابو نہیں پاسکتا زرائع کے مطابق ترجمان جی ڈی اے
سردار رحیم نے وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب کو اجلاس میں کہا کہ وہ” وفاقی وزرات مہنگائی اور عوامی ازیت” کے وزیر ہیں انہوں نے واضح کیا کہ یہ حساس وزارت ہے وزارت پانی و بجلی حکومت قائم اور حکومت کو گرا بھی سکتی ہے۔ زرائع کے مطابق جی ڈی اے کی جانب سے طویل احتجاج اور گفتگو کے بعد وفاقی وزیر بجلی عمر ایوب نے حیسکو اور سیپکو کے سربراہان کو ایک ہفتے کے اندر شکایات کا جائزہ لیکر انہیں حل کرنے کا حکم دیا اور گورنر ہاؤس سے اس سے متعلق آنے والی تمام شکایات کو نمٹانے کی بھی ہدایت کی زرائع کے مطابق وفاقی وزیر نے 15 یوم کے اندر بہتر کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرنے والے عملے کو ہٹانے کی ہدایت کی۔ زرائع کے مطابق جی ڈی اے کی جانب سے وفاقی وزیر سے درخواست کی گئی کہ نیپرا میں سندھ کے ممبر کو تبدیل کرنے کے بعد نیپرا کے ذریعے کے الیکٹرک کو کنٹرول کیا جائے اور کے الیکٹرک کی اجارہ داری کو ختم کرنے کے لئے کراچی میں دیگر ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کا بھی تقرر کیا جائے دنیا کے کئی ممالک میں ایک سے زیادہ یوٹیلیٹی کمپنیوں کا ہونا ایک معمول ہے۔گورنر سندھ عمران اسماعیل نے بھی عوامی شکایات کو وفاقی وزیر کے سامنے رکھا۔