یادوں کے جھروکوں سے -عابد حسین قریشی-(12)

یادوں کے جھروکوں سے

عابد حسین قریشی

(12)

لاہور سے منٹگمری اور پھر لاہور

گھات پہ ہو منتظر چلّے پہ تیر
ہرنیوں کو چوکڑی بھرنی تو ہے
دوست یہ سب سچ ہے لیکن زندگی
کاٹنی تو ہے بسر کرنی تو ہے

(مجید امجد)

گزشتہ دو تین ماہ کے دوران جبری لاک ڈاؤن سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے اپنی ذاتی اور عدلیہ میں گزارے ہوئے ایک طویل عرصہ ملازمت کی یاداشتوں کو سپرد قلم کرنے کا عملی مظاہرہ شروع کیا تو فیڈ بیک حیران کُن کے ساتھ ساتھ خوش کُن بھی تھا۔ لہٰذا اس سلسلہ کو دراز کرنا پڑا۔ اس دوران سوشل میڈیا پر عملی طور پر بڑا حوصلہ افزا ردّعمل آیا مگر کہیں کہیں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ میں صرف اپنی یاداشتوں کے مثبت پہلوؤں کو اجاگر کر رہا ہوں۔ کیا میرے ساتھ کوئی نا خوشگوار واقعہ دوران سروس پیش نہیں آیا یا میں کسی ایسے واقعہ کا عینی شاہد نہ ہوں۔ یہ سوال کوئی حیران کُن نہ ہے بلکہ فطری بات ہے۔ مگر ہم نے یاداشتوں کا سلسلہ شروع کرتے وقت یہ تہیّہ کیا تھا کہ جہاں تک ممکن ہو سکے منفی باتیں یا کسی دوست یا کولیگ کی پگڑی اچھالنے سے پرہیز کرنا ہے۔ اس میں خاطر خواہ کامیابی بھی ملی۔ لیکن دوستوں کی تسلّی اور تشفّی کے لیے کچھ ہلکے پھلکے واقعات کا ذکر ضروری ہے۔

لہٰذا ابتدا اپنے آپ سے کرتے ہیں۔ نومبر 1999 میں ہماری ترقی بطور ایڈیشنل سیشن جج ہوئی اور پوسٹنگ لاہور میں ہو گئی۔ اس سے قبل میں یہاں بطور سول جج کام کرچکا تھا اور پھر ترقی کے بعد مجھے سول کام ہی تفویض ہو گیا۔ لہٰذا دیکھا بھالا ماحول تھا۔ کام کرنے میں بڑا مزا آیا۔ اُن دنوں مرحوم میاں جہانگیر پرویز صاحب لاہور کے سیشن جج تھے۔ اُنہیں اپنی ٹیم سے کام لینے کا گُر آتا تھا۔ انہوں نے حکم جاری کیا کہ جو لوگ فوجداری سائیڈ پر کام کر رہے ہیں وہ مہینہ میں کم از کم چھ مرڈر کیس فیصلہ کریں گے اور جو سول کام کر رہے ہیں وہ کم از کم پچاس سول اپیلیں فیصلہ کریں گے۔ اب لاہور میں یہ ٹارگٹ اتنا آسان نہ تھا۔ اچھی طرح یاد ہے کہ پہلے مہینہ ہی میں نے 48 اپیلیں اور 10 سول نگرانیاں فیصلہ کیں۔ مگر ماہانہ میٹنگ میں اس بات پر سرزنش برداشت کرنا پڑی کہ 50 اپیلیں نہ ہیں۔ بہرحال اسکے بعد ڈیڑھ سال سول سائیڈ پر کام کیا اور اپیلیں 60 سے لے کر 100 کے قریب یا اس سے زیادہ بھی ہر ماہ فیصلہ کیں اور ستائش ملتی رہی۔ ایک دفعہ اسی طرح کی میٹنگ کے دوران ایک سینئر ایڈیشنل سیشن جج صاحب کی ڈسپوزل پر سیشن جج صاحب نے اظہار ناراضگی کیا۔ میٹنگ ختم ہو گئی باہر نکلے تو اُن محترم جج صاحب نے جو سیدھی اور بے دھڑک بات کرنے کا ہُنر جانتے تھے فرمایا کہ “ یار قریشی کام مجھے سیشن جج نے سول دیا ہوا ہے اور بے عزتی فوجداری والی کرتا ہے۔” ایک سینئر قانون دان جنہیں اپنی فارن ڈگری پر بڑا ناز تھا وہ ایک دن میرے چیمبر میں جب کہ میں فیصلہ سٹینوگرافر کو لکھوا رہا تھا اندر آنا چاہتے تھے کہ انکا ایک ذاتی معاملہ بھی میرے پاس زیر سماعت تھا۔ میں نے انہیں کہا کہ صرف دس منٹ عدالت میں انتظار کر لیں کہ میں فیصلہ مکمل کر لوں۔ مگر وہ بُرا مان گئے اور اس وقت کے عزت مآب چیف جسٹس صاحب کو میری شکایت کر دی۔ بہرحال معاملہ سیشن جج صاحب کے علم میں آیا تو انہوں نے مجھے بتائے بغیر مجھے سول سے فوجداری کام پر لگانا مناسب سمجھا۔ میری ذاتی خواہش بھی تھی کہ فوجداری کام سیکھیں اور ویسے بھی ایک دیہاتی بیک گراؤنڈ کی وجہ سے عدالت میں فوجداری مقدمات سُننا اور مرڈر کیس میں براہِ راست ڈکٹیشن دینا بڑا مسحور کُن تھا۔ کچھ عرصہ گزرا تو ایک میٹنگ میں سیشن جج صاحب نے مجھ سے پوچھا کہ فوجداری کام کرتے ہوئے کیا احساسات ہیں۔ میں نے بے ساختہ کہا کہ سر سول سائیڈ پر تو کبھی مہینوں بعد بھی کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آتا تھا مگر ادھر فوجداری میں تو ہر وقت فوری اور مسلسل بے عزتی کا سو فیصد امکان ہوتا ہے۔ انہوں نے قہقہہ لگایا اور باقی ججز نے بھی انجوائے کیا۔

ایک دفعہ کسی بار عہدیدار کا تنازعہ کسی فاضل ایڈیشنل سیشن جج صاحب سے ہو گیا۔ سیشن جج صاحب بڑے پریشان نظر آئے کہ elevation کے بلکل قریب تھے اور اس مرحلہ پر ہمارے سیشن جج صاحبان عمومی طور پر گھبرائے ہوئے اور کمزور نظر آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ ہمارے ایک سینئر دوست جو اس بات کا بخوبی ادراک رکھتے تھے اور کسی سیشن جج کو خواہ اُسکا نمبر سنیارٹی لسٹ میں کافی پیچھے ہو اُسے ہائی کورٹ کا جج بنانے کا ہنر جانتے تھے۔ ایک دفعہ ایک سیشن جج صاحب نے اسے کافی سیریس لے لیا۔ مگر ہمارے دوست کی ذہانت اور حاضر جوابی کام کر گئی۔ جب انہوں نے یہ کہہ کر توپوں کا رُخ موڑ دیا کہ سر آپکا نام تو لسٹ میں شامل تھا مگر صدر پاکستان کے پاس جا کر shortlisting ہونے کی بنا پر ڈراپ ہو گیا کہ اُن دنوں جوڈیشل کمیشن والا مرحلہ درپیش نہ ہوتا تھا۔ بات تو سچ ہے مگر ذرا تلخ کہ elevation بعض اوقات درد سر بن جاتی ہے۔ اچھے خاصے دلیر اور معاملہ فہم سیشن جج کو بھی مصلحتوں کی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ یہ کمزوری نہیں بلکہ “چھیڑ” بن جاتی ہے۔ بہت سی کہی، سنی اور ان کہی اور ان سنی کہانیوں اور واقعات کا عینی شاہد ہوں۔


بہرحال بات متذکرہ بالا تنازعہ کی ہو رہی تھی۔ میاں جہانگیر صاحب مرحوم نے فوری ہنگامی میٹنگ تمام ایڈیشنل سیشن ججز جو 26 کے قریب تھے طلب کی۔ میاں صاحب بڑے بُردبار اور فہم و فراست والے جج تھے مگر اُس روز کافی غصّہ میں نظر آئے۔ بات جب کافی بڑھ گئی اور سیشن جج صاحب انتہائی جذباتی کیفیت سے سرشار جوڈیشل افسران کی نگرانی کے کچھ اختیارات بار عہدیداران کو تفویض کرنے کا عندیہ دے رہے تھے تو میں اگرچہ کافی جونیر ASJ لاہور تھا اور انکی کرسی کی پچھلی طرف بیٹھا تھا مگر طبیعت کے ہاتھوں مجبور ہو کر بول پڑا کہ “سر اگر جان کی امان پاؤں تو کچھ عرض کروں۔ انہوں نے غصّہ سے میری طرف گھورا اور حفظ مراتب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے گویا ہوئے۔ کہو۔ میں نے عرض کی “جناب کن سے مخاطب ہیں یہ شریف جج ہیں اور ان میں سے کوئی بھی جھگڑالو آدمی نہ ہے۔ یہ بچارے تو پہلے ہی ایک پہیہ پر سائیکل چلا رہے ہیں اور عدالت سے بے عزتی کرانے کے بعد گھر جا کر بھی کراتے ہیں” میں نے کہا “سر آپ ہمارے بڑے ہیں خود چیک کریں ہماری سرزنش کریں مگر یہ اختیار کسی دوسرے کو منتقل کرنے سے معاملات سلجھنے سے زیادہ الجھنے کا زیادہ امکان ہے اور جناب elevation پر بیٹھے ہیں۔” میاں صاحب کے چہرے کا ایک دم رنگ بدل گیا۔ غصّہ کافور ہو گیا اور قہقہہ لگاتے ہوئے کہا کہ “ یار عابد قریشی کی باتوں میں وزن ہے۔”

قبل ازیں ساہیوال کی پوسٹنگ بطور سول جج اور پھر سینئر سول جج کے دوران بے شمار خوشگوار اور قابل ذکر باتیں ہیں۔ ہمارے ایک بڑے ہی باوقار اور اعلٰی قوت برداشت کے حامل سول جج کہ جو عمر میں ہم سے بڑے تھے مگر ہماری محفلوں کی رونق تھے۔ انکے تبادلے پر ایک پُر وقار تقریب میں نظامت کے فرائض ادا کرتے ہوئے میں نے جب یہ کہا کہ ہمارے پیارے بڑے بھائی جو ٹرانسفر ہو کر یہاں سے جا رہے ہیں اُنکی عمر کے بارے میں مختلف غلط اندازے لگائے جاتے رہے مگر میں نے تحقیق کی ہے کہ موصوف دوسری جنگ عظیم میں اتحادی فوجوں کی طرف سے برما کے محاذ پر لڑے تھے البتہ یہ بات ذرا بحث طلب ہے کہ کیا وہ وہاں گرفتار ہوئے تھے یا بچ کر نکل گئے تو محفل جس میں جناب رانا عبدالغفار خان سیشن جج، انتظامیہ اور پولیس کے اعلٰی افسران اور جج صاحبان موجود تھے دیر تک قہقہوں سے گونجتی رہی۔

ساہیوال میں پہلے بطور سول جج اور پھر وہیں ترقی یاب ہو کر بطور سینئر سول جج مجھے رانا عبدالغفار خان سیشن جج کے ساتھ کام کرنے کا ایک منفرد، دلفریب، دلنشین اور مسحور کُن موقعہ ملا۔ میرے جذبات کو شاید میرے الفاظ بیان کرنے سے قاصر ہیں۔ رانا عبدالغفار خان ایک درویش منش، ہمدرد، غم گسار، بہی خواہ، دوست اور کمال کی خوبیوں سے مرصّع انسان ہیں۔ ہر سول جج کا خیال رکھنا اس سے شفقت سے پیش آنا بلکہ بعض اوقات اس شفقت اور ہمدردی میں ساری حدیں کراس کر جانا اُن کے لیے معمول تھا۔ ساہی وال جیسی پُر مغز، باشعور اور احساس تفاخر سے بھرپور بار میں تقریر کرتے ہوئے برملا کہا کہ اگرچہ ہائی کورٹ نے مجھے سیشن جج ساہیوال لگایا ہے مگر یہاں کا سیشن جج میرا سینئر سول جج عابد قریشی ہے۔ اور پھر عملی طور پر اسطرح کے اقدامات کہ بیان کرنا مشکل ہے۔ رانا عبدالغفار خان بنیادی طور پر ایک مخلص، دیانت و صداقت کے پیکر اور عشق رسول صلی اللہ و علیہ وسلم سے سرشار ایک ارفع اور اعلٰی انسان ہیں۔ اقبال عظیم کا یہ شعر شاید اُنہی کے لیے لکھا گیا۔

دامان توکّل کی یہ خوبی ہے کہ اس میں
پیوند تو ہو سکتے ہیں دھبّے نہیں ہوتے

اُن سے قبل جناب ایم۔اے۔شاہد صدیقی مرحوم جو بعد ازاں سپریم کورٹ کے جج بھی رہے اُنکے ساتھ بھی کام کرنے کا موقع ملا۔ بڑے ہی فراخ دل، با حوصلہ اور دلیر انسان تھے۔ بڑی ہی خوشگوار یادیں اُن سے جڑی ہیں۔ جناب شاہد صدیقی مرحوم کے ساتھ ہم سب کی بڑی بے تکلّفی تھی۔ میری کچھ زیادہ تھی۔ ان دنوں بڑے ہردلعزیز طاہر پرویز وہاں سینئر سول جج تھے اور ٹیم لیڈر کے طور پر اُنکا ایک نمایاں کردار تھا۔ جتنی گپ شپ، ہنسی مزاق اور قوت برداشت وہاں کے سول ججوں میں تھی نا قابل بیان ہے اور ہم سب کے لیے ساہیوال میں گزرے ہوئے وہ دن ناقابل فراموش ہیں۔ کسی کولیگ کے ہاں کوئی خوشی کا موقع ہوتا تو ہم اچھے کھانا کا بندوبست اسی کے ذمہ ڈال دیتے۔ جناب شاہد صدیقی صاحب نہ صرف کھانا میں شرکت کرتے بلکہ مجھے حکم بھی دیتے کہ اگلا شکار ڈھونڈو۔ الیکشن 1997 کے دوران جب رات کو دیر تک بیٹھنا پڑا تو ہر جج نے باری باری اپنے گھر سے اچھا پُر تکلف کھانا منگوانا شروع کر دیا۔ کھانوں میں کچھ وقفہ ہوا تو ایک دن سیشن جج صاحب کے چیمبر میں بیٹھے تھے کہ وہ فرمانے لگے عابد قریشی اب کوئی شکار نہیں رہا۔ میں نے کہا کہ سر ہے اور بلکل نظر میں ہے۔ کہنے لگے کون۔ میں نے کہا سر آپ۔ واہ، فوری طور پر گھر فون ملایا اور کہا کہ میں عابد قریشی کی زد میں آچکا ہوں اب کھانا کھلائے بغیر گزارا نہیں۔ اگلے ہی روز بہت عمدہ کھانا ہمیں کھلایا اور ساتھ مجھے شکار ڈھونڈنے کی داد بھی دی۔ ایسے با حوصلہ اور فراخ دل لوگ اب کہاں۔

خاک میں کیا صورتیں ہونگی کہ پنہاں ہو گئیں

جناب ایم۔اے۔ شاہد صدیقی مرحوم بڑے ہی دلیر جج بھی تھے۔ ایک واقعہ اُن کی دلیری بیان کرنے کے لیے کافی ہے۔ ہمارے ایک بڑے ہی نیک نام ایڈیشنل سیشن جج میاں عبدالطیف مرحوم کے تبادلہ پر ساہیوال بار نے الوداعی پارٹی کا اہتمام بار ہال میں کیا۔ میاں صاحب کے ذرا سخت رویّہ کی وجہ سے بار کا ایک گروپ اس الوداعی تقریب کے خلاف تھا۔ کچھ نوجوان وکلاء سیشن جج صاحب کے پاس تقریب والے روز گئے اور کہا کہ آپ بار میں نہ آئیں وہاں نہ صرف بد مزگی ہو گی بلکہ ہاتھا پائی اور کھینچا تانی کے امکانات بھی ہیں۔ صدیقی صاحب نے فوراً تمام سول ججوں کو اپنے چیمبر میں طلب کر لیا اور پورے طمطراق سے فرمایا کہ چونکہ تقریب ہمارے کولیگ کی عزت افزائی کے لیے ہو رہی ہے اس لیے جب تک بار کے صدر اور سیکرٹری اس تقریب کو منسوخ نہیں کرتے ہم بار میں جائیں گے۔ لہٰذا اُس روز ہم سیشن جج صاحب کے ارد گرد محافظوں کی طرح چپکے ہوئے بار روم میں گئے۔ ساہیوال بار ایک بڑی عظیم روایات کی امین بار ہے۔ جس نے نہ صرف بڑے بڑے قانون دان پیدا کیے بلکہ ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی میں ہمیشہ ہراول دستہ کا کام بھی کیا۔ چنانچہ اُس روز بھی بار کا یہ رنگ نمایاں تھا۔ کافی سینئر وکلاء باہر گیٹ پر پہرا دے رہے تھے اور اُن میں سب سے نمایاں بار کے نہایت ہی قابل احترام بزرگ اور غیر متنازعہ لیڈر چوہدری نور الٰہی مرحوم ہاتھ میں ڈنڈا لیے کھڑے تھے۔ اُنہیں وہاں کھڑا دیکھ کر کسی کی جرات ہی نہ ہوئی کہ تقریب کو خراب کرتا۔

جناب شاہد صدیقی کے بعد تھوڑا عرصہ کے لیے بڑی سیدھی اور کھری بات کرنے والے عبادت گزار جناب چوہدری مسعود اختر خان صاحب ساہیوال کے سیشن جج رہے۔

وہاں اُن دنوں قابل ذکر سول ججوں میں بڑے ہی ذہین و متین منظور مرزا، کم گو اور سنجیدہ مزاج مسٹر عبدالستار، ادیب و مفکّر مہر مظفر، بڑے ہی بُردبار اور خوش مزاج غضنفر پاشا، بڑے صاف ستھرے مگر فقرے اور جملے بازی میں تاک رانا آفتاب، بڑے وضع دار، ملنسار دوست شفیق الرحمٰن خان اور جوڈیشل سروس کا آغاز کرنے والے زبان و بیان میں منفرد اویس گیلانی اور چار بڑے ہی نایاب، سمارٹ، ہر دلعزیز اور دلکش نوجوان کلیم اللہ خان، رانا زاہد اقبال، صادق مسعود صابر اور ظفر اقبال شامل تھے۔ یہ سب ایک فیملی کے ممبر تھے۔

نیلی بار کا مردم خیز خطّہ منٹگمری جسے بعد میں ساہیوال کا نام دیا گیا۔ جو نیلام گھر فیم کے طارق عزیز اور اُردو غزل اور نظم کے منفرد شاعر مجید امجد کا شہر بھی ہے۔ ساہیوال نہروں اور خوبصورت درختوں میں گھرا ایک دلفریب صاف ستھرا شہر ہے۔ جس میں وہاں کے ساہیوال کلب اور جمخانہ کلب خوبصورتی میں چار چاند لگا دیتے ہیں۔ جمخانہ کلب ہماری جوڈیشل کالونی کی قربت کی وجہ سے تقریباً تین سال تک ہماری خوبصورت شاموں کا مسکن رہا۔ اعلٰی ٹینس، دلچسپ کمپنی، بلند آہنگ قہقہے، زندگی سے بھرپور لمحات اس سے بہتر شام کے دو تین گھنٹے گزارنا کہیں اور ممکن نہ تھا۔ اور پھر شاہد بٹ، امجد اور چوہدری ریاض طاہر کی خوش گپیاں اور افتخار بھا جو کہ ایک سینئر وکیل ہونے کے ساتھ کلب کے سیکرٹری بھی تھے اور نہایت وضع دار اور بُردبار انسان ہیں کے ساتھ معنی خیز جملوں کا تبادلہ ایسا ماحول کم ہی میسّر آیا۔

پھر رات کو قریبی کامرس کالج کے ہال میں بیڈمنٹن جہاں سارے جج صاحبان بھی اکٹھے ہوتے اور ہفتہ میں ایک دو بار رات گئے بیڈ منٹن کھیلنے کے بعد پسینہ سے شرابور پہلے سردار سویٹ والوں کی پیڑوں والی لسّی اور پھر شدید سردی کی دُھند زدہ راتوں میں پیدل چلتے ہوئے اقبال سویٹ ہاؤس کا گرما گرم گاجر کا حلوہ۔ کیا کہنے۔ اب اسکے بعد گھر آنے پر ہمارے ساتھ کیا ہوتا تھا نہ ہی پوچھیں تو بہتر ہے۔ ہماری کوشش ہوتی کہ جس کولیگ کا گھر پہلے آ جائے اُسکے دروازے پر کھڑا رہ کر گرما گرم مکالموں سے لطف اندوز ہوا جائے۔ ایک دفعہ ایک دوست کولیگ نے کہا کہ آپ لوگ جائیں تو رانا آفتاب نے کہا کہ یار ہمیں بے عزّتی live دیکھنے دو۔ کیا عزت شکن مناظر ہوتے تھے۔ بیان سے باہر ہیں

——
عابد حسین قریشی