سب سے پہلے پاکستان یا غیر ملکی شہریت ؟

پاکستان کے 22500 سرکاری افسران دوہری شہریت کے حامل نکلے ۔۔۔۔۔۔۔

پاکستان کے 22500 سرکاری افسران دوہری شہریت کے حامل نکلے ۔۔۔۔۔۔۔

افسران کے نام اور عہدے دیکھ کر آپ دنگ رہ جائیں گے ۔۔۔۔۔

ہمارے ملک میں عوام کے ٹیکسوں کے پیسے پر ٹھاٹھ کرنے والے یہ بے تاج بادشاہ دراصل غیر ملکیوں کے وفادار ہیں ۔۔۔۔۔

جو افسران دوسرے ملکوں کے مفادات کے امین اور حلف یافتہ ہیں اگر ہمارے مفادات ان ملکوں کے مفادات سے متصادم ہوئے تو یہ کن کے وفادار ثابت ہوں گے ؟لمحہ فکریہ ۔۔۔۔۔

پاکستان کے 22500 بیوروکریٹس غیر ملکی شہریت کے حامل ہیں ۔ فہرست دیکھ لیں تو آپ کے چاروں طبق روشن ہو جاٸیں گے۔ پاکستان ماں کی حیثیت رکھتا ہے اور پاکستان کے اصل حکمران بیوروکریٹ، اکثریت غیر ملکی شہریت رکھتے ہیں ہمارے نظام کے یہ بے تاج بادشاہ بہت سے ممالک کے وفادار شہری ہیں اور ان ممالک کے حلف کے مطابق ان کے مفادات کے امین بھی (جو دوسرے ممالک کے مفادات کے امین ہیں اگر ہمارے مفادات ان ممالک کے مفادات سے متصادم ہوئے تو یہ کن کے وفادار ہونگے؟ ) پاکستان میں دوہری شہریت والے افسران کی تعداد 22 ہزار 380 ہے ایک طویل فہرست ہے آپ نے سی ٹی ڈی والے واقعے میں لگاتار ایک سے ایک پریس ریلیز تو دیکھی ہو گی اور اس پہ ڈی پی آر پنجاب پولیس نبیلہ غضنفر کا نام بھی پڑھا ہو گا یہ گریڈ 19کی محکمہ پریس انفارمیشن پنجاب میں ترجمان پنجاب پولیس ہیں اور کینیڈا کی شہری ہیں اور اتفاق سے گریڈ21 کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس اور ساہیوال سانحہ کی تحقیق کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ سید اعجاز حسین شاہ بھی کینیڈا کے شہری ہیں پاکستان میں دوہری شہریت والے افسران کی تعداد بائیس ہزار 380 ہے اس میں 1100 کا تعلق صرف پولیس اور بیوروکریسی سے ہیں اور ان میں سے 540 کینیڈین , 240 برطانوی 190 کے قریب امریکہ کے بھی شہری ، درجنوں سرکاری ملازمین نے آسٹریلیا ،نیوزی لینڈ،ملائیشیا اورآئرلینڈ جیسے ملکوں کی بھی شہریت لے رکھی ہے110 سرکاری افسروں میں اہم حکومتی عہدوں پر بھی براجمان ہیں۔ گریڈ 22 کے 6 جبکہ ایم پی ون سکیل کے 11 ، گریڈ 21 کے 40، گریڈ 20 کے 90، گریڈ 19 کے 160، گریڈ 18کے 220 اور گریڈ 17کے کم وبیش 160 افسران ہیں اسی طرح داخلہ ڈویژن کے 20 ، پاور ڈویژن 44، ایوی ایشن ڈویژن 92، خزانہ ڈویژن 64، پٹرولیم ڈویژن 96، کامرس ڈویژن 10، آمدن ڈویژن 26، اطلاعات و نشریات 25، اسٹیبلشمنٹ 22، نیشنل فوڈ سکیورٹی 7، کیپیٹل ایڈمنسٹریشن11، مواصلات ڈویژن 16، ریلوے ڈویژن 8، کیبنٹ ڈویژن کے 6 افسر دہری شہریت کے حامل ہیں سب سے زیادہ دہری شہریت کے حامل افراد کا تعلق محکمہ تعلیم سے ہے اور ان کی تعداد 140 سے زیادہ ہے ۔ اسی طرح قومی ایئر لائن کے 80 سے زیادہ ، لوکل گورنمنٹ 55، سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر 55، نیشنل بینک 30، سائنس اور ٹیکنالوجی 60، زراعت 40سے زیادہ، سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن 20، آبپاشی 20، سوئی سدرن 30، سوئی ناردرن 20، پی ایم ایس 17، پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس 14، نادرا کے 15ملازمین دہری شہریت کے حامل ہیں۔ دوہری شہریت کی حامل اہم شخصیات میں پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے گریڈ 22کے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوانوید کامران بلوچ کینیڈا، (پی اے ایس)کی پہلی خاتون صدراور گریڈ22کی وفاقی سیکرٹری انسانی حقوق ڈویژن رابعہ آغا برطانیہ گریڈ 22کے سیکرٹری بورڈ آف انویسٹمنٹ سردار احمد نواز سکھیرا امریکہ ، گریڈ21کے موجودہ ڈی جی پاسپورٹ و امیگریشن عشرت علی برطانیہ ، گریڈ22کی سابق سیکرٹری سرمایہ کاری بورڈ سمیرا نذیر صدیقی نیوزی لینڈ گریڈ 20 کے سیکرٹری اوقاف پنجاب ذوالفقار احمد گھمن امریکہ، مراکو میں سابق سفیر نادر چودھری برطانیہ قطر میں سابق سفیر شہزاد احمد برطانیہ، کسٹم کے گریڈ 21 کے ایڈیشنل وفاقی سیکرٹری خزانہ احمد مجتبیٰ میمن کینیڈا گریڈ 21 کی چیف کلیکٹر کسٹم زیبا حئی اظہرکینیڈا، پولیس سروس کے گریڈ 22 کے اقبال محمود (ر)، گریڈ21کے اکاؤنٹنٹ جنرل پنجاب میاں شجاع الدین ذکا کینیڈا، چیئرمین پنجاب کمیشن برائے حقوق خواتین فوزیہ وقار کینیڈا، پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ کے سابق منیجنگ ڈائریکٹر سید ومیق بخاری امریکہ، موجودہ ایم ڈی معین رضا خان، نیشنل بینک کے سابق صدر سعید احمد برطانیہ، ڈائریکٹرجنرل پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کے سربراہ ڈاکٹر محمد اشرف طاہر امریکہ ، گریڈ 20کے پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ /پریس انفارمیشن آفیسرجہانگیر اقبال کینیڈا، سابق پنجاب حکومت کے ساتھ اہم قانونی معاملات پہ کام کرنے والے نامور قانون دان سلمان صوفی امریکہ کے شہری ہیں۔اسی طرح گریڈ 20 کے ہیلتھ کیئر کمیشن کے چیف آپریٹنگ آفیسر ڈاکٹر محمد اجمل کینیڈا، گریڈ21کے وزارت داخلہ میں ایڈیشنل سیکرٹری شیر افگن خان امریکہ، گریڈ 20 کے جوائنٹ سیکرٹری وزیر اعظم آفس احسن علی منگی برطانیہ، گریڈ20 کے راشد منصور کینیڈا، گریڈ 20کے علی سرفراز حسین برطانیہ، گریڈ 18کے محمد اسلم راؤبرطانیہ، گریڈ 20 کی سارہ سعید برطانیہ،گریڈ18کے عدنان قادر خان برطانیہ،گریڈ 18کی رابعہ اورنگزیب کینیڈا، گریڈ 18 کی صائمہ علی برطانیہ، گریڈ 20 کے سپیشل برانچ کے ڈی آئی جی زعیم اقبال شیخ برطانیہ، گریڈ 20 کے لاہور پولیس ٹریننگ کالج کے کمانڈنٹ ڈی آئی جی مرزا فاران بیگ برطانیہ، گریڈ20 کے ڈی آئی جی مواصلات شاہد جاوید کینیڈا،گریڈ 20 کے ڈاکٹر محمد شفیق (ریٹائرڈ) کینیڈا،گریڈ 19کے ایس ایس پی گوادر برکت حسین کھوسہ کینیڈا، گریڈ 19 کے ایس ایس پی ندیم حسن کینیڈا، گریڈ 18 کے ایس پی عادل میمن امریکہ،گریڈ 18کے عقیل احمد خان امریکہ، گریڈ18کے ارشد محمود کینیڈا، گریڈ 19کے سہیل شہزاد برطانیہ، تنویر جبار کینیڈا، گریڈ19کے محمد جاوید نسیم کینیڈا، گریڈ19کے محمد محسن رفیق کینیڈا، گریڈ19کے راشد احمد خان کینیڈا، گریڈ 19کے طفیل خان یوسفزئی آسٹریلیا، گریڈ19کے محمد شاہد نذیر کینیڈا، گریڈ19کے محسن فاروق کینیڈا، گریڈ18کے محمد ابراہیم کینیڈا، گریڈ17کے محمد افتخار امریکہ، گریڈ 17کے نواز گوندل کینیڈا، گریڈ 19کے اعجازعلی شاہ امریکہ، گریڈ19کے امجد علی لغاری کینیڈا،سٹیٹ بینک کے عبد الرؤف امریکہ، صبا عابد امریکہ ، سید سہیل جاویدکینیڈا، راحت سعیدامریکہ ، ٹیپو سلطان امریکہ، عرفان الٰہی مغل امریکہ ، محمد علی چودھری برطانیہ، حسن جیواجی کینیڈا، زہرہ رضوی برطانیہ، امجد مقصود کینیڈا، عنایت حسین آسٹریلیا، شازیہ ارم کینیڈا

اپنا تبصرہ بھیجیں