سکیورٹی کونسل میں پاکستانی موقف کی پذیرائی

اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے کراچی میں پاکستان سٹاک ایکسچینج کی عمارت پر دہشت گردانہ حملے کی مذمت کی ہے۔مسلسل ایک عشرے سے دہشت گردی کے شکار پاکستان کے لیے یہ امر اطمینان کا باعث ہے کہ عالمی ادارے نے پاکستان سے اظہار یکجہتی کیا۔ سکیورٹی کونسل کے صدر کرسٹوف یوجین کی جانب سے جاری تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ سکیورٹی کونسل کے اراکین نے اس حملے کو بزدلانہ اور سفاک دہشت گردی قرار دیا ہے۔ سکیورٹی کونسل کی مذمتی قرارداد میں اراکین نے حکومت پاکستان اور شہید ہونے والے اہلکاروں کے خاندانوں سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے امید کی کہ سانحہ میں زخمی ہونے والے اہلکار جلد تندرست ہوں گے۔ سکیورٹی کونسل نے اپنے اس موقف کو دہرایا کہ دہشت گردی عالمی تحفظ اور امن کے لیے خطرہ بننے والا عمل ہے۔ سکیورٹی کونسل کے اراکین نے زور دیا کہ دہشت گردی کی تیاری کرنے والوں‘ اس کی منصوبہ بندی کرنے والوں‘ اس کے لیے مالی وسائل فراہم کرنے والوں اور مددگاروں کو قانون کی گرفت میں لایا جائے۔ قرارداد میں کہا گیا کہ اس حوالے سے حکومت پاکستان اور دیگر حکام کے ساتھ تعاون کیا جائے۔ بھارتی ذرائع ابلاغ نے سکیورٹی کونسل کی قرارداد کے حوالے سے امریکہ اور جرمنی کی تاخیر سے ملنے والی حمایت کو پاکستان کے لیے ان دونوں ممالک کا پیغام قرار دیا ہے۔ سکیورٹی کونسل میں مذمتی قرارداد دوست ملک چین نے پیش کی۔ سکیورٹی کونسل جیسے ادارے کا کراچی میں سٹاک ایکسچینج عمارت پر دہشت گردانہ حملے کی مذمت پاکستان کے لیے کئی حوالوں سے اہم ہے۔ قبل ازیں بھارت اپنے ہاں پارلیمنٹ پر حملے اور ممبئی واقعات پر اقوام متحدہ اور دنیا کے اہم ممالک سے مذمت کے بیانات جاری کروا کر انہیں پاکستان کے خلاف استعمال کرتا رہا ہے۔ بھارت نے اپنے ہاں علیحدگی پسند گروپوں کی کارروائیوں اور مقبوضہ کشمیر میں حریت پسندوں کی سرگرمیوں کو اپنی تجارتی طاقت کی بنیاد پر دہشت گردی کے واقعات بنا کر پیش کیا۔ حیرت اور افسوس اس بات پر کہ عالمی طاقتیں تجارتی مفادات کی خاطر اس قدر بے حس ہو چکی ہیں کہ وہ اپنی طاقت اور اثرورسوخ کو ظالموں کے ہاتھ فروخت کردیتی ہیں۔ اس روش کے باعث ایک کروڑ کے لگ بھگ کشمیری بھارت کی سکیورٹی فورسز کا جبر سہہ رہے ہیں۔ ہندوستان کے قانون آزادی‘ اقوام متحدہ کے چارٹر اور عالمی قانون کی رو سے کسی علاقے کی اکثریت اپنے مستقبل کے حوالے سے جو فیصلہ کرے وہ قبول کیا جائے گا۔ کشمیر اور فلسطین قابض طاقتوں سے آزادی کی جنگ کر رہے ہیں۔ دونوں جگہ قابضین نے پہلے حریت پسندوں کو مسلح جدوجہد ختم کر کے مذاکرات اور سیاسی سطح پر کام کرنے کا کہا‘ جب حریت پسند رہنما مذاکرات کے لیے آمادہ ہوئے تو اس عمل کو تاخیری حربوں سے خراب کیا گیا۔ اس دوران سیاسی سطح پر ان کے مخالفین کی حوصلہ افزائی کر کے انہیں کمزور کیا جاتا رہا۔ بین الاقوامی قانون اس بات کی ممانعت کرتا ہے کہ کسی دوسرے ملک میں مداخلت کی جائے لیکن دیکھا گیا کہ افغانستان اور دیگر ممالک میں بھارتی سفارتی عملہ مسلسل پاکستان میں بدامنی پھیلانے کی سازشوں کا حصہ رہا ہے۔ پاکستان میں گرفتار کلبھوشن جادیو اس کا ثبوت ہے۔ سب سے بڑھ کر بھارتی وزیراعظم اور بی جے پی کے بہت سے دیگر رہنما پاکستان میں دہشت گردی کی آئے روز دھمکیاں دیتے ہیں۔ ان دھمکیوں کو موجودہ حالات میں کسی طور نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ بی ایل اے پاکستان میں دہشت گردی کے منصوبوں میں بھارت کی شراکت دار تنظیم ہے۔ اس تنظیم کا نام قرارداد میں شامل ہونا چاہیے تھا۔ غالباً بھارتی لابی کے زیر اثر ایسا نہ ہو سکا۔ بھارت نے امریکہ اور جرمنی کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے حالیہ دنوں اسامہ بن لادن کو شہید کہنے کا مطلب ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے حوالے سے عالمی برادری کے موقف کا حامی نہیں۔ قرارداد میں کراچی سٹاک ایکسچینج پر حملہ کرنے والوں اور ان کے مدد گاروں کے حوالے سے جو کہا گیا ہے پاکستان کے لیے اس میں سے بھارت کے خلاف کیس بنانے کا مواد مل سکتا ہے۔ بھارت دنیا کے سامنے پاکستان کو ہمیشہ دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والی ریاست کے طور پر پیش کرتا رہا ہے۔ بلوچستان میں مداخلت کے ثبوت اور بی ایل اے کے ساتھ بھارت کے رابطوں کے ٹھوس شواہد جمع کر کے اس الزام کو بھارت پر الٹایا جا سکتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے قومی اسمبلی کے فلور پر کراچی حملے کو بھارتی مدد حاصل ہونے کا بیان دیا ہے تو یقینا خفیہ ایجنسیوں کے پاس اس سے متعلق معلومات ہوں گی۔ پاکستان کو خاموش نہیں بیٹھنا چاہیے۔ اگر حزب المجاہدین اور حافظ محمد سعید کو دہشت گرد قرار دیا جاسکتا ہے تو پھر بی ایل اے اور اس کی سرپرستی کرنے پر بھارت کے مشیر سلامتی اور خود وزیراعظم نریندر مودی کو کیوں دہشت گردوں کا سرپرست نہیں کہا جاسکتا جنہوں نے مقبوضہ کشمیر میں قتل عام شروع کر رکھا ہے‘ پورے بھارت میں اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کو امان حاصل نہیں۔ مسلمانوں کے لیے شہریت کا امتیازی قانون منظور کیا جاتا ہے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی باشندوں کو بسایا جارہا ہے۔ سکیورٹی کونسل میں کراچی میں ہونے والی دہشت گردی کی مذمت سے پاکستان کا یہ موقف تسلیم کیا جارہا ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کا حامی نہیں بلکہ خود دہشت گردی سے بری طرح متاثرہ ریاست ہے

Courtesy 92 roznama daily