تاریخ صرف قوموں کے نجات دہندہ کو یاد رکھتی ہے

تاریخ صرف قوموں کے نجات دہندہ کو یاد رکھتی ہے۔
کچھ باتیں اور کچھ پرانی یادیں
سہیل دانش
——–

جب معراج خالد کو نگراں وزیر اعظم مقرر کیا گیا تو مجھے بڑی مسرت ہوئی۔ اس لئے نہیں کہ شناسائی سے بڑھ کر ان سے محبت و عقیدت کا رشتہ تھا اس لئے بھی نہیں کہ میں کئی بار انکا انٹرویو کر چکا تھا بلکہ اس لئے کہ میں انہیں بہت اچھی طرح جانتا تھا۔ یہ بھٹو کے قریب ترین ساتھی تھے۔ بھٹو کے جو ساتھی مجھے پسند تھے، ان میں مبشر حسن، معراج محمد خان، شیخ رشید احمد، میر رسول بخش تالپور شامل تھے۔ ان سب کی ایک ادا مجھے سب سے ذیادہ پسند تھی کہ یہ سب ”کمپلیکس فری“ لوگ تھے۔یہ ہمارے کالج کا دور تھا، رسول بخش تالپور کا تعلق حیدر آباد سے تھا اور پھلیلی پاور ہاؤس کے پاس ان کی رہائش گاہ تھی۔ ہم ان سے ملنے کبھی کبھار وہاں جایا کرتے تھے۔ ان کے حوالے سے ایک بڑی دلچسپ یاد آج بھی ذہن سے محو نہیں ہوتی۔ جب 1972ء؁ میں سندھ اسمبلی نے لینگوئج بل پاس کیا اور اس کے نتیجے میں سندھ شہری علاقوں میں ہنگامے پھوٹ پڑے اور ہڑتال کی اپیل کی گئی تو میر رسول بخش تالپور نے بحیثیت گورنر یہ بیان داغ دیا کہ چھٹی کے دن تو ہڑتال ویسے ہی ہوتی ہے اور کاروبار وغیرہ بند رہتا ہے۔ ورکنگ ڈے میں ہڑتال کے شدت اور اثرات کا پتہ چلتا ہے، ورکنگ ڈے میں ہڑتال کرو تو پتہ چلے۔ میر صاحب کا یہ بیان آگ پر پٹرول ڈالنے کے مترادف ثابت ہوا۔ کراچی، حیدر آباد اور دیگر شہری علاقوں میں اگلے دس دن تک مکمل ہڑتال رہی۔ ہم نے بعد میں ایک دن تالپور صاحب سے پوچھا کہ آپ نے وہ بیان خواہ مخواہ کیوں دیا۔ اپنی بڑی بڑی مونچھوں پر انگلیاں پھیرتے ہوئے تالپور صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا کہ چھوڑو یار بھٹو صاحب سے پہلے ہی بہت ڈانٹ پڑ چکی ہے۔ لیکن میں ایک بات پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ میر رسول بخش تالپور محبت کرنے والے انسان تھے اور حیدر آباد کے اردو، سندھی بولنے والے دونوں طبقات میں میر رسول بخش تالپور عزت اور قدر کی نظر سے دیکھے جاتے تھے۔ تالپور صاحب کا ایک گھر حیدر آباد کے پوش علاقے سول لائنز میں بھی تھا۔ ہمارا گھر بھی اس کے قریب تھا۔ 1970ء؁ میں یہ علاقہ پریم پارک کے نام سے جانا جاتا تھا۔
ایک دن شام کو تالپور صاحب کے گھر پر کافی رش لگا ہوا تھا، معلوم ہوا کہ بھٹو صاحب آئے ہوئے ہیں۔ پھر کیا تھا بھٹو صاحب کو دیکھنے کے اشتیاق میں ہم بھی وہاں پہنچ گئے۔مجھے یاد ہے اس وقت بھٹو صاحب کافی جلال میں دکھائی دے رہے تھے، انکے بال مٹی سے میلے ہو رہے تھے اور وہ شلوار قمیض میں ملبوس تھے۔ اخباری نمائندے بھی وہاں پہنچ چکے تھے۔ بھٹو صاحب پیر پگاڑا پر برس رہے تھے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ پیر صاحب کے حروں نے آج سانگھڑ میں ان پر قاتلانہ حملہ کیا ہے۔جس سے وہ معجزاتی طور پر بچ گئے لیکن پیر صاحب سن لیں میں ڈرنے والا نہیں ہوں۔ ان کے لہجے میں بڑی تلخی تھی جسے ہر کوئی
محسوس کر سکتا تھا۔ رسول بخش تالپور کا تذکرہ ہوا تو بات کسی اور طرف نکل گئی، یہی سوچا کہ کچھ پرانی باتیں شیئر کرتا چلوں۔
جب معراج خالد کو وزیر اعظم بنایا گیا تو اس بات کا تو علم تھا کہ وہ بہت قلیل مدت کے لئے اس عہدے پر فائز ہوتے ہیں کوئی خاص کارنامہ تو انجام نہیں دے پائیں گے لیکن ہاں کچھ نئی روایات ضرور قائم کر دینگے۔ کیونکہ میں جانتا تھا کہ جس شخص نے اپنی زندگی کا آغار کلرکی سے کیا اور آدھی سے ذیادہ زندگی سائکل چلاتے گزری، ہمیشہ کرائے کے مکانوں میں رہے، سگریٹ کا عوامی برانڈ پیتے رہے، پنجابی میں لطیفہ گوئی کرتے رہے اور ریڑھیوں سے چنے خرید کر کھاتے رہے۔ وہ شخص جو وزیر اعلیٰ بننے کے بعد بھی اپنا پرانا گھر نہیں چھوڑاتھا، وہ گھر جس کی کال بیل بھی بجتی نہیں تھی۔ وہی تنگ و تاریک گلی جہاں سے لوگ وزیر اعلیٰ پنجاب کو فائلیں بغل میں دبائے پیدل آتے اور جاتے دیکھتے تھے۔اس وقت بھی اس مکان میں نہ کوئی نوکر،نہ باروچی اور نہ ہی کوئی آیا تھی۔ ان کی اہلیہ چونکہ ٹیچر تھیں اس لئے پنجاب کے حکمران کی خاتون اول کو روز رکشہ میں اسکول سے آنا جانا پڑتا تھا۔
جب معراج خالد وزیر اعظم بنے اور کراچی آئے تو انہوں نے مجھ نا چیز کو یاد کیا۔ ان کا قیام اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس میں تھا۔ میں مقررہ وقت پر پہنچا تو وہ کسی اہم میٹنگ میں مصروف تھے۔ تھوڑی سے گپ شپ کے بعد کہنے لگے اگر کل صبح سویرے آ سکو تو تمہارے ساتھ ایک جگہ چلنا ہے۔ میں نے دوسرے دن آنے کا وعدہ کر کے ان سے رخصت لی۔ میں نے اپنے دوست اور آفس کے ساتھی سید صفدر علی کو خبر دی کہ کل صبح وزیر اعظم کے ساتھ جانا ہے، آپ بھی چلیں، انہوں نے حامی بھر لی۔ ہم خلاف توقع علی الصبح اٹھ گئے۔ ساڑھے سات بجے مقررہ وقت پر اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس پہنچے تو جناب معراج خالد کو پہلے سے تیار پایا۔ انہوں نے اپنے پرسنل سیکریٹری کو بلا کر کہا کہ یار ناشتہ کرنے جانا ہے لیکن کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو۔ یہ بات سن کر پتہ چلا کہ ان کی منزل کیا ہے۔ ایک پرانے ماڈل کی ٹویوٹا کار پچھلے دروازے پر آئی، جس کے شیشے بلیک تھے اس میں سوار ہو کر ڈرائیور سمیت ہم پانچ افراد بخیر و عافیت اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس کے گیٹ سے باہر نکل گئے۔ شاید کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ پاکستان کا وزیر اعظم اس گاڑی میں سفر کر سکتا ہے۔میں نے معراج صاحب سے پوچھا سر کہاں کی تیاری ہے، کہنے لگے یار بولٹن مارکیٹ پر ایک حلوہ پوری کی دکان ہے، وہاں ناشتہ کرنا ہے اور لسی بھی پئیں گے۔ ابھی یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ تبت سینٹر کے سامنے سگنل پر ہماری کھڑی گاڑی کو چاروں طرف سے پولیس کی گاڑیوں نے گھیر لیا۔ایس ایس پی اسپیشل برانچ نے وزیر اعظم کو سلیوٹ کیا اور کہا۔ سر آپ جہاں بھی جانا چاہتے ہیں ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ معراج خالد صاحب نے کہا چلیں آپ لوگ بھی ناشتہ کرلیجئے، خیر ناشتہ کرکے ہم سب واپس آ گئے۔جس نے بھی دیکھا اور سنا سب حیرانرہ گئے۔ صرف یہ واقعہ تفصیل سے سنانے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ سب کو علم ہو کہ سادگی اور بچت کا ڈھنڈورا کوئی نہ پیٹے۔ پاکستان میں اس قلندرانہ طبیعت کے وزیر اعظم بھی گزر چکے ہیں۔
محترم معراج خالد صاحب نے بھی ہمیں ایک واقعہ سنایا تھا وہ کہتے ہیں کہ وہ اس وفد میں شامل تھے، جو بھٹو صاحب کے ساتھ شملہ گئے تھے۔انہوں نے بتایا کہ دو دن کے مذاکرات کے بعد بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی اور صدر پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کسی نتیجے پر نہیں پہنچ پائے تھے۔ بظاہر شملہ کی حسین وادی میں یہ مذاکرات ناکام ہو چکے تھے۔پاکستان کا وفد اسلام آباد اور اندرا گاندھی کا وفد دہلی واپس جانے کی تیاریاں مکمل ہو چکی تھیں۔ اسی اہم دورے میں محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ بھی اپنے والد کے ساتھ تھیں۔ پھر اچانک بھٹو صاحب اپنے کمرے میں گئے اور انہوں نے ہاٹ لائن پر بھارتی وزیر اعظم کو فون کیا۔ بھٹو صاحب نے کہا میڈم پرائم منسٹر مذاکرات میں کامیابی اور ناکامی کوئی انہونی بات نہیں لیکن پاکستان اور بھارت تاریخ کے ایک نازک موڑ پر کھڑے ہیں۔ تاریخ یہ نہیں لکھی گی کہ شملہ کے مذاکرات ناکام ہو گئے بلکہ مستقبل کاتاریخ یہ لکھے گا کہ پاکستان اور بھارت کے لیڈر اس بصیرت، دور اندیشی اوردانش مندی کا ثبوت نہیں دے سکے کہ وہ ایک مفاہمانہ فارمولا تلاش کر سکیں۔تاریخ اس ناکامی کا الزام ہم دونوں پر لگا ئے گی اور سب سے بڑھ کر ہم اپنے عوام کو مایوس کر دینگے جو ہم پر اعتماد کرتے ہیں۔اندرا گاندھی نے بھٹو کی پوری بات سن کر بلا تذبذب کہا یہ معاہدہ ضرور ہو گا، آج ہی ہو گا اور ابھی ہو گا۔ یہ واقعہ دہرانے کی ضرورت بھی اس لئے پیش آئی کہ یاد رہے کہ قوموں کی تاریخ میں لیڈروں کی بصیرت اور فیصلے کتنے اہم ہوتے ہیں۔
میں ذولفقار علی بھٹو کا اہم اور حساس معاملات پر رد عمل دیکھتا ہوں تو لگتا ہے کہ اپنی کئی کمزوریوں کے با وجود جس میں ضد، تکبر اور اپنے موقف پر ڈٹ جانے کی عادت جو انہیں بعض اوقات مہنگی بھی پڑی۔ مگر اس کے با وجود بھٹو ایک حساس طبیعت کے مالک تھے۔مجھے یاد ہے یہ شاید 1972ء؁کا واقعہ ہے کہ کراچی میں ”ہاکس بے“کے ساحلی مقام پرگرلز کالج کی دو بسوں میں سوار طالبات پکنک منانے پہنچیں۔ اسی اثناء میں کچھ نو جوان طالب علم بھی وہاں پہنچ گئے۔بعد میں ان منچلے نوجوانوں نے گرلز کالج کے ان طالبات کے ساتھ کچھ نازیبا حرکات کرنے کی کوشش کیں۔ بھٹو صاحب نے اسی رات اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان نوجوانوں کی حرکت سے پوری قوم کے سر شرم سے جھک گئے ہیں۔دوسرے دن بھٹو صاحب کراچی تشریف لائے اور گورنر ہاؤس میں آئی جی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آفیسر! ان نوجوانو کو ایسی سزا ضرور دی جائے کہ آئیندہ کوئی ایسی بے ہودہ حرکت کرنے کی جرات نہ کر سکے۔
ماضی کا ایک قصہ کچھ یوں بھی ہے کہ جب سندھ اسمبلی نے لینگوئج بل پاس کیا تو اس پر سندھ کے شہری علاقوں میں ہنگامے پھوٹ پڑے۔ اس پر بھی بھٹو صاحب نے بڑی سرعت سے رد عمل کا اظہار کیا،وہ کراچی تشریف لائے اور سندھ میں رہنے والی دونوں اکائیوں کی قیادت کو اسلام آباد مدعو کیا اور ان سے کہا کہ وہ اس وقت تک اسلام آباد سے نہیں جا سکتے جب تک کسی مشترکہ مفاہمانہ معاہدہ پر نہیں پہنچ جاتے۔ یہ الگ بحث ہے کہ کوٹہ سسٹم دس سال کے لئے تھا، اس پر کتنی نیک نیتی سے عمل کیا گیا۔
گذشتہ تین دہائیوں میں سندھ کی سیاست میں ”ایم کیو ایم“ کا کیا کردار رہا، انہوں نے شہری علاقوں کے عوام کے حقوق کے لئے کتنی کوششیں کیں۔ مجھے یہ بات جاوید ہاشمی نے بتائی تھی کہ جب1990ء؁ میں نواز شریف نے پہلی بار وزیر اعظم کی حیثیت سے حلف اٹھایا تو اس میں الطاف حسین بھی شریک تھے۔اس دن نواز شریف نے الطاف حسین سے کہا کہ میں اپنے ساتھیوں کو بلاتا ہوں۔ آپ کل صبح تشریف لائیں اور اپنے تمام مطالبات اور معاملات بتائیں۔ہم کوشش کرینگے کہ ”ون گو“میں آپکے تمام مسائل حل کئے جائیں۔ بقول جاوید ہاشمی اس وقت نواز شریف کو بڑی حیرانگی ہوئی، جب الطاف حسین صاحب کراچی اور حیدر آباد کے لوگوں کے مطالبات منوانے کے بجائے ایک انگریزی رسالہ ہیرا لڈ کے کچھ شمارے لے آئے اور انہوں نے وزیر اعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ اخبار میری کردار کشی میں مصروف ہے آپ اس کو رکوائیں۔
جب کراچی میں طیارے کا حادثہ ہوا تو مجھے توقع نہیں بلکہ یقین تھا کہ عمران خان کراچی ضرور تشریف لائینگے اور کچھ فیمیلیز کے گھر جا کر ان سے اظہار تعزیت بھی کرینگے، مگر اس معاملے میں لوگوں کو عمران خان سے بڑی مایوسی ہوئی۔ ساہیوال کے معاملے پر بھی وزیر اعظم کا حتمی رد عمل بڑا مایوس کن تھا۔اس حوالے سے متعدد مثالیں دی جا سکتی ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ جناب عمران خان صاحب کا عوامی مسائل کے معاملات میں رد عمل بروقت اور موثر نہیں ہوتا۔
کسی بھی قوم کے لیڈر کے لئے عام لوگوں کو یہ احساس دلانا ضروری ہوتا ہے کہ وہ ان کے دکھ درد میں انکے ساتھ ہے، مگر معذرت کے ساتھ میری یہ ناقص رائے ہے کہ موجودہ وزیر اعظم اس خاصیت سے نا بلد ہیں۔اس بات پر مجھے ایک واقعہ یاد آ رہا ہے اور یہ واقعہ بھی 70(ستر)کی دہائی کا ہے۔ سٹی کالج حیدر آباد کے طلباء جو چھٹیاں منانے مری اور نتھیا گلی وغیرہ گئے تھے، انکی بس تیز رفتاری کے باعث موڑ کاٹتے ہوئے الٹ گئی۔ جس میں 60(ساٹھ)طلباء جان کی بازی ہار گئے۔ اتفاق تھا کہ اس حادثے کے چند منٹ بعد غلام مصطفےٰ کھر وہاں سے گزررہے تھے۔ کھر صاحب اس وقت پنجاب کے حکمران تھے، انہوں نے نہ صرف اپنی گاڑی رکوائی بلکہ تمام امدادی کاروائیوں کی نگرانی بھی خود کی۔ انہوں نے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو فون کرکے ان سے درخواست کی کہ میّتوں کو حیدر آباد پہنچانے کے لئے C-130طیارہ فراہم کیا جائے۔ مجھے یاد ہے کہ جب یہ طیارہ حیدر آباد پہنچا تو پورا حیدر آباد ائیر پورٹ کے باہر موجود تھا، ایک کہرام برپا تھا۔ اس واقعہ کے کچھ دن بعد مصطفےٰ کھر خودحیدر آباد تشریف لائے اور متاثرہ خاندانوں سے اظہار تعزیت کی۔وہ جہاں بھی گئے ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔ پرانے لوگ آج تک مصطفےٰ کھر کی اس انسان دوستی کے مظاہرے کا تذکرہ کرتے ہیں۔
یہ چھوٹے چھوٹے واقعات لکھنے کا مقصد صرف یہ تھا کہ تاریخ ان لوگوں کو کبھی یاد نہیں رکھتی،جو انسانی جذبات اور احساسات سے عاری ہوتے ہیں۔ جنکے کھاتے میں ذاتی ایمانداری اورقوم کی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کا کوئی کارنامہ نہیں ہوتا۔ایسے لوگ جنہوں نے کبھی قوم کی تعمیر نہیں کی، قوم کو کوئی اچھا نظام نہیں دیا،کسی سسٹم کی اصلاح نہیں کی۔جنہوں نے کبھی اپنے قوم کو انصاف، تعلیم اور صحت کا کوئی اچھا نظام نہیں دیا۔ نہ تو طبقاتی تفریق کو ختم کیا اور نہ ہی کوئی معاشی اور معاشرتی عدل قائم کیا۔تاریخ کے نزدیک حکمرانوں کی انفرادی ایمانداری اور شخصی شرافت کی اتنی اہمیت نہیں ہوتی اور یہ بات ہماری 73(تہتر) سالہ تاریخ کے ہر حکمران پر منطبق ہوتی ہے۔ تاریخ صرف اور صرف ان قبروں پر رکتی ہے جہاں انسانوں کے نجات دہندہ سوئے ہوتے ہیں۔
اگرانفرادی حیثیت سے دیکھا جائے تو حضرت عمر ؓکی دوپہریں صحرا میں گزریں اور راتیں مدینہ کی چوکیداری میں تو تاریخ اسے ایک صفحے سے ذیادہ اہمیت نہیں دیتی لیکن جب اجتماعی حیثیت سے دیکھا جائے تو امیر المومنین حضرت عمر ؓ کے کارناموں سے کتابیں بھری پڑی ہیں۔حضرت عمر ؓ نے مخلوق خدا کی خدمت اور انصاف کے لئے اپنے دور میں انفرادی اور اجتماعی لحاظ سے جو نظام رائج کیا، آج بھی پوری دنیا اس سسٹم سے استفادہ حاصل کر رہی ہے۔ تو جناب یہ تھی! مدینہ کی ریاست