گل بہار میں 3 منزلہ عمارت کی خطرناک غیر قانونی تعمیر

گل بہار میں 3 منزلہ عمارت کی خطرناک غیر قانونی تعمیر

کراچی (پی پی آئی) وزیر اطلاعات و بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ کے حالیہ اعلان کے باوجود کہ حکومت سندھ غیر قانونی تعمیرات کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرے گی – انہیں گرفتار کرے گی اور ایف آئی آر درج کرے گی، میٹروپولیٹن شہر کراچی میں غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ غیر قانونی تعمیرات روکنے اور خلاف ورزی کرنے والوں پر سختی لانے کا فیصلہ مذکورہ وزیر نے اس وقت کیا جب وہ حال ہی میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) میں ایک اجلاس کی سربراہی کر رہے تھے۔

تاہم، شہر کے مختلف علاقوں میں غیر قانونی ڈھانچوں کی تعمیر سے مختلف علاقوں کے شہریوں کا خوف بڑھ گیا ہے، جہاں بلڈر مافیا ان قوانین کی خلاف ورزی کررہا ہے اور متعلقہ محکموں کی ملی بھگت سے غیر قانونی تعمیرات کررہا ہے۔


اسی سلسلے میں گل بہار کے علاقے وحید آباد میں ایک چھوٹے سے پلاٹ پر حالیہ تین منزلہ عمارت کی خطرناک غیر قانونی تعمیر علاقہ مکینوں کے لئے ڈراؤنا خواب بن گئی ہے۔ شہریوں نے شکایت کی ہے کہ عیدگاہ میڈیکل سنٹر کے قریب گل بہار نمبر 2 میں وحید آباد عیدگاہ میدان کے ای-100کے علاقے میں پلاٹ نمبر ڈی 20 پر مذکورہ غیر قانونی تعمیراتی ڈھانچہ بنایا جارہا ہے۔ تعمیرات کے قوانین کی خلاف ورزی کے علاوہ، بلڈر اس غیر قانونی عمارت میں غیر معیاری سامان کا استعمال بھی کررہا ہے، جو مستقبل میں نہ صرف اس عمارت کے مکینوں بلکہ محلے کے دیگر لوگوں کے لئے بھی سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔

مکینوں نے الزام لگایا کہ علاقے کا کرپٹ بلڈنگ انسپکٹر اس بلڈر مافیا کی سرپرستی کر رہا ہے جو اس غیر قانونی تعمیراتی ڈھانچے کی تعمیر کررہاہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے پہلے ہی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے)، کے ایم سی کے انسداد تجاوزات سیل، صوبائی محتسب سندھ اور دیگر حکام کو درخواستیں ارسال کردی ہیں تاکہ ان سے اس غیر قانونی تعمیر کو رکوایا جاسکے، لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا، اور اب تک کسی بھی متعلقہ دفتر نے کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔

انہوں نے وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ سے اپیل کی کہ وہ اس خطرناک غیر قانونی تعمیر کا فوری نوٹس لیں تاکہ اس کی وجہ سے پڑوسیوں کو مستقبل میں ہونے والے کسی بھی ممکنہ حادثے سے بچایا جاسکے۔