مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لئے وفاقی اور صوبائی سطح پر ٹاسک فورس قائم کی جائے

مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لئے وفاقی اور صوبائی سطح پر ٹاسک فورس قائم کی جائے- متوسط اور غریب طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کے لئے راشن کارڈ اسکیم کا اجراء کیا جائے- آٹے، دال، چینی، خوردنی آئل اور سبزیوں کی قیمتیں صارفین کی دسترس سے باہر ہیں –
کوکب اقبال، چیئرمین کنزیومر ایسوسی ایشن آف پاکستان

کراچی ( ) مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے عملی اقدامات کہیں نظر نہیں آتے- اشیائے صرف اور اشیائے ضرورت کی قیمتیں صارف کی دسترس سے باہر ہوگئی ہیں – سبزیاں، دالیں، مصالحہ جات، انڈوں اور مرغی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے-کورونا کے سبب بیروزگاری بڑھ رہی ہے- لوگوں کی آمدنی 60 فیصد سے بھی کم ہوگئی ہے- متوسط طبقہ سمیت غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے- یہ بات کنزیومر ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین کوکب اقبال نے ادارۂ شماریات کی حال ہی میں مہنگائی کی شرح میں اضافہ کی رپورٹ پر کیپ کے جائزہ اجلاس میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کی- انہوں نے کہا کہ کنزیومر ایسوسی ایشن آف پاکستان گزشتہ کئی مہینوں سے حکومت کی توجہ بڑھتی ہوئی مہنگائی پر دلانے کی کوششیں کرتی رہی ہے مگر افسوس نہ ہی وفاقی حکومت اور نہ ہی صوبائی حکومتوں نے صارفین کو ریلیف پہنچانے کے لئے کوئی عملی اقدامات کئے جس کے نتیجے میں ماہِ جون کے اختتام پر مہنگائی کی شرح پورے ملک میں 8.50 فیصد سے بڑھ کر 10.74 فیصد ہوگئی ہے- کوکب اقبال نے کہا کہ گزشتہ دنوں میں ملک کا بجٹ پاس ہوگیا جو یقینا ماہرینِ معیشت کا تیار کردہ تھا جو ملک کو چلانے کے لئے بجٹ بناتے ہیں – کیا وہ ایک چھوٹی فیملی جس کی آمدنی 20 سے 25 ہزار ہو، اس کو گھر کا بجٹ بھی بنا کر دکھائیں کہ وہ اپنے گھر کو چلانے کے لئے کس طرح کم پیسوں میں اپنی فیملی کو زندگی کی ضرورتیں فراہم کرے- انہوں نے تجویز دی کہ صوبائی حکومتوں کے زیرِ اہتمام راشن کارڈ اسکیم کا اجراء کیا جائے- حکومت بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناسب سے متوسط اور غریب طبقے کیلئے راشن کارڈ پر سبسڈی فراہم کرے تاکہ ان کے گھروں میں فاقے کے بجائے راشن مہیا ہوسکے- انہوں نے کہا کہ چینی، آٹا، دالیں، دودھ، دہی، انڈے، مرغی اور سبزیاں سستے نرخوں پر فراہم کرنے کی ذمہ داری وفاقی حکومت سمیت صوبائی حکومتوں پر عائد ہوتی ہے مگر ابھی تک چینی کمیشن کی رپورٹ پبلک ہونے کے باجود منافع خوری سابقہ نرخو پر چینی مارکیٹ میں فروخت کررہے ہیں – کنزیومر ایسوسی ایشن کے چیئرمین کوکب اقبال نے کہا کہ وفاقی حکومت کو یکے بعد دیگر کوئی بحرانوں کا سامنا ہے جس میں پیٹرول بحران، گندم بحران، چینی کا بحران خصوصی طور پر قابل ذکر ہیں جس کی وجہ سے صارفین کی جیبوں سے نہ صرف کروڑوں روپے نکل کر منافع خوروں کی جیبوں میں چلے گئے-
انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں 20 روپے فی کلو بکنے والا ٹماٹر 80 روپے فی کلو فروخت ہورہا ہے جبکہ آلو کی قیمت فروخت 100 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے- عالمی مارکیٹ میں خوردنی تیل کی قیمت 550 ڈالر سے لے کر 600 ڈالر پر آگئی ہے جو کہ انتہائی کم قیمت پر ہے- تین تین مہینے پہلے 810 ڈالر سے لے کر 890 ڈالر فی میٹرک ٹن تھی- جب سے کرونا شروع ہوا حکومت نے ایڈیشنل کسٹم ڈیوٹی 2 فیصد 30 ستمبر تک ریلیف فراہم کرنے کے لئے فی الحال ختم کردی ہے اور بجٹ میں خوردنی تیل اور خوردنی بیج کی امپورٹ پر ساڑھے پانچ فیصد سے کم کرکے 2 فیصد کردی ہے – اس کا مطلب یہ ہے کہ جو خوردنی تیل کے درآمد کنندگان کو 250 ٹن پر 11 لاکھ انکم کی مد میں بچت ہوگی مگر افسوس کی بات ہے کہ خوردنی تیل بیچنے والی کمپنیوں نے صارفین کو ریلیف فراہم کرنے کے بجائے اپنی قیمتوں میں اضافہ کردیا-
ادارۂ شماریات کی رپورٹ کے مطابق کوکنگ آئل کی قیمتوں میں 20 فیصد اصافہ ہوا- کوکب اقبال نے کہا کہ جب پیٹرولیم مصنوعات میں کمی ہوئی تھی اس کی وجہ سے قیمتوں میں بھی اسی تناسب سے کمی کی جاتی مگر منافع خوروں نے اس کمی کا فائدہ بھی صارفین کو نہیں دیا بالکل اسی طرح کوکنگ آئل فروخت کرنے والی کمپنیاں بھی اپنی اشیاء کی قیمتوں میں کمی کرنے کے لئے کسی طور تیار نظر نہیں آتیں – انہوں نے کہا کہ جب تک حکومت کا کوئی ادارہ اشیاء بنانے والوں سے ان کی لاگت اور منافع کا یقین نہیں کرلیتی- یہ سلسلہ چلتا رہے گا- کوکب اقبال نے کہا کہ کرونا کے سبب سب سے زیادہ فروخت ہونے والے صابن اور ڈیٹول کی قیمت کئی فیصد بڑھ چکی ہیں جبکہ بازار میں جعلی سینی ٹائزر سمیت ڈیٹول اور دیگر اشیاء کھلے عام فروخت کی جارہی ہیں – حکومت کو چاہئے کہ مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لئے وفاقی سطح پر ٹاسک فورس قائم کرے جس میں صارفین کی نمائندہ تنظیم کنزیومر ایسوسی ایشن آف پاکستان کو ممبربنایا جائے تاکہ پورے ملک میں گراں فروشوں کے خلاف بھرپور کارروائی کی جاسکے-