تمھیں جانے کی جلدی تھی

تمھیں جانے کی جلدی تھی
تمھاری جلد بازی نے
بہت سے کام نا مکمل چھوڑے ہیں بہت یار غمزدہ کرکے
روانہ ہوگئے ہو
سہیل یار تم بازی مار گئے
(میاں طارق جاوید )

سہیل انور شورکوٹ کینٹ اور چک نمبر 327 کا وہ خوبصورت چہرے تھا جس صحافت برائے خدمت اپنا کر عوامی فلاح و بہبود کا جو بیڑا نہ صرف اٹھایا بلکہ اسے بخوبی نبھایا بھی ۔اسے ہر کام کی جلدی ہوتی تھی ۔
یار اتنی بھی کیا جلدی کہ دنیا سے ہی چل دیئے۔ شہر رفیقی اداس ہو گیا بازار تمھارے بغیر ویران ہے
ابھی تو شورکوٹ کینٹ کے مسائل حل نہیں ہوئے تھے ۔

ابھی کرونا کے آغاز پر جب لاک ڈون شروع ہوا تو سہیل بھائی بہت پرشان تھے غریب اور نادار عوام تک راشن پہچانے کیلئے ۔اور پھر سہیل بھائی کی محنت رنگ لائی ۔عوام کی خدمت کیلئے دن رات ایک کرنے والا میرا بچپن کا کلاس فیلو دوستوں جیسا بھائی اور بھائیوں جیسا دوست آج اپنے دکھ درد سمیٹ کر اس دنیا سے چلا گیا
واقعی تمھیں جانے کی جلدی تھی؟؟

شورکوٹ جانے پر اکثر ملاقات میں شہر اور گاوں کے مسائل پر کڑھتا تھا فون پر بھی بات کرتے ہوئے عوام کے مسائل ہی اس کا رونا ہوتا تھا کبھی اس کی اپنی زندگی اور طبیعت کا پوچھتا تو بس کرم ہے اللہ کا کہہ کر ٹال دیتا
شورکوٹ کا نوجوانی میں بابائے خدمت بن گیا اور ہر وقت کبھی کسی کے علاج کیلئے پرشان تو کبھی کسی کو راشن فراہم کرنے کی وجہ سے بے چین چند دن پہلے ہی تو ایک بے سہارا شخص کو آپریشن کراکے اپنے گھر لے آیا دس بارہ دن اس بے سہارا شخص کی اپنوں سے بڑھ کر خدمت کی اور جب وہ مکمل طور پر صحتمند ہو گیا تو واپس اسے اس کے کام پر چھوڑ آیا
ڈان یار تم بہت با ہمت بہادر اور بڑے دل کے مالک ہو دل کا عارضہ سنبھالنا دل گردے کا کام ہے مگرسہیل یار تو بہت بہادر نکلا دل اور گردے کی بیماری ایک ساتھ لے کر گھومتا رہا اور بتایا بھی نہیں ۔شوگر سیمت اور بیماریوں سے بھی دل لگی کرتا رہا ۔یار یہ تیرے ہی ” دل گردے” کا کام تھا


یار تو اپنے حصے کا کام کر گیا تجھے جو جلدی ہوتی تھی اس کا آج پتہ چلا ہے کہ تو اتنا بے چین کیوں ہوتا تھا
سہیل انور شورکوٹ کینٹ میں اےآروائی نیوز کے نمائندہ کے ساتھ شورکوٹ کینٹ میں ہم دوستوں کےرابط کار بھی تھا جس پرانے دوست کا پتہ کرنا ہو تا وہ سہیل بھائی کے زمے لگ جاتا اور پھر وہ اس کا نمبر ڈھونڈ کر ہی دم لیتے تھے
دنیا میں مشکل ترین گھڑیاں وہ ہوتی ہیں جب والدین جواں اولاد کو کاندھوں پر لیجا کر دفن کرتے ہیں آج سہیل بھائی کے والدین کے دکھ کرب اور غم کا سوچ کر کانپ رہا ہوں ۔ہمت نہیں تھی کچھ بھی لکھنے کی مگر جب سہیل کی مسکراتی ہوئی تصویر دیکھی کہ کس طرح وہ کل تک عوام کے دکھ درد میں شریک رہا اپنی بیماریوں سے خاموشی کے ساتھ مسکراتے ہو لڑتا رہا اور خاموشی کے ساتھ عوام کی خدمت کرتے کرتے چلا گیا

موت سے کس کو رستگاری ہے
آج تمھاری تو کل ہماری باری ہے
اب کون مجھے سینکڑوں میل دور شورکوٹ کی خبریں دے گا کون دوستوں کے بارے میں آپ ڈیٹ کرئے گا یار ابھی تو بہت سے پلان تھے ہمارے ۔تم سب چوپٹ کر کے اگلے سفر اور اگلی منزل کو چل نکلے
اللہ رب العزت سے دعا ہےکہ کہ وہ تمھاری اگلی منزلیں آسان فرمائے