اسٹاک ایکسچینج حملے میں استعمال ہونے والی کار جیو ٹی وی کے ڈرامے میں کیوں؟

اسٹاک ایکسچینج حملے میں استعمال ہونے والی کار جیو ٹی وی کے ڈرامے میں کیوں؟

کراچی میں اسٹاک ایکسچیج پر حملے میں استعمال ہونے والی کار اتفاقاً جیو کے ڈرامے ‘دیوانگی’ کے ایک منظر میں نظر آ رہی ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر 29 جون 2020 کو ہونے والے دہشت گرد حملے میں استعمال ہونے والی کار 10 ماہ پہلے ہل پارک میں کھڑی نظر آرہی ہے اور یہ منظر ہے جیو کے ڈرامے ‘دیوانگی’ کا ہے۔
ڈرامے کی یکم جولائی 2020 کو نشر ہونے والی قسط نمبر 33 میں ڈرامے کے 2 کردار گفتگو کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں تو پارکنگ ایریا میں کھڑی ایک کار پر یہی نمبر نظر آتا ہے۔

جیو انتظامیہ نے تفتیش میں مدد کے جذبے کے تحت ڈرامے کی متعلقہ قسط کی مکمل ریکارڈنگ تفتیشی حکام کے حوالے کردی ہے اور ساتھ ہی انہیں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈرامے کی یہ قسط 30 اگست 2019 کو ہل پارک میں شوٹ کی گئی تھی۔
دوسری جانب اب تک کی تفتیش میں یہ پتہ چلا ہے کہ 29 جون کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر حملے سے صرف 4 دن پہلے یعنی 24 جون کو یہ کار ایک دہشت گرد نے سبزی منڈی پر واقع ایک شوروم سے خریدی تھی۔
—-

کراچی: اسٹاک ایکسچینج حملے میں استعمال ہونے والی گاڑی سے ملتی جلتی گاڑی (رنگ اور رجسٹریشن نمبر ایک جیسا ہے) ہل پارک کی پارکنگ میں کھڑی تھی۔
ہل پارک کی پارکنگ میں جیو ٹی وی مشہور ڈرامہ دیوانگی کی شوٹنگ ہوئی تھی گاڑی کیمرے میں آگئی۔
قسط نمبر 32 اور 32 منٹ پر گاڑی کو دیکھا جا سکتا ہے
دیوانگی ڈرامے میں ایک الگ اتفاق ہوگیا۔
تصویر سوشل میڈیا پر وائرل۔ اور تحقیقات شروع کر دی گئی