وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے برساتی نالوں کی صفائی مہم کا آغاز کردیا

کراچی (2 جولائی 2020)وزیر اطلاعات و بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے مون سون کی آمد سے قبل شہر کے برساتی نالوں کی صفائی مہم کا آغاز کردیا گیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ سیکرٹری لوکل گورنمنٹ روشن علی شیخ،میئر کراچی وسیم اختر،ایم ڈی واٹر بورڈ اسد اللہ خان، پراجیکٹ ڈائریکٹر CLICKزبیر چنہ سمیت اہم افسران موجود تھے۔ وزیر بلدیات سندھ نے نالہ صفائی مہم کا باقاعدہ آغازکرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ نے عالمی بینک کے تعاون سے مون سون کی آمد سے قبل تمام برساتی نالوں کو صاف کرنے کا بیڑہ اٹھایا ہے جس میں انشاللہ کامیابی حاصل کریں گے۔ صوبائی وزیر کے مطابق نالوں کی صفائی کے لئے ایک ارب بیس کڑوڑ کی رقم خرچ کی جائے گی،کے ایم سی،تمام ڈی ایم سیز، واٹر بورڈ، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ سمیت تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو آن بورڈ رکھا گیا ہے اور اس بات کا خصوصی طور پر خیال رکھا گیا ہے کہ تمام مہم کے دوران شفافیت کو بنیادی اہمیت حاصل رہے، تمام ٹھیکیدار جن سے صفائی کا کام لیا جائے گا ان کو ادائیگی کام کی تکمیل کے بعد، کارکردگی کے مطابق کی جائے گی۔اس بات کو یقینی بنایا جارہا ہے کہ کسی بھی صورت نالوں سے نکلنے والا کچرا عوامی مقامات پر نہ پھینکا جائے بلکہ مختص کردہ مقامات پر ہی ڈالا جائے۔اڑتیس بڑے نالوں کے علاوہ ڈی ایم سیز کے زیر اہتمام نالوں کی بھی صفائی کی جائے گی جن کے لئے وزیر اعلیٰ سندھ نے بجٹ مختص کردیا ہے،میڈیا سے درخواست ہے کہ ہماری معاونت فرمائیں اور جہاں نشاندھی کی ضرورت ہو ہم کو بتائیں۔میئر کراچی وسیم اختر نے سندھ حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی بہتری کے لئے عالمی بینک کے تعاون سے ایک بہترین اقدام اٹھایا گیا ہے،کے ایم سی شانہ بشانہ حکومت سندھ کا ساتھ دے گی۔ ناصر حسین شاہ نے کہا کہ آج کا دن اس لحاظ سے خصوصی اہمیت کا حامل ہے کہ تمام صوبائی و بلدیاتی قیادت اتفاق رائے کے ساتھ ایک پیچ پر آکر اس منصوبے کا آغاز کررہی ہے جو کہ شہر کے باسیوں کے لئے نہایت ہی ضروری تھا کیونکہ پچھلے سال کی بارشوں سے جو تباہ کاری اور نقصان ہوا تھا اس کو ہم کسی بھی قیمت پر دوبارہ برداشت نہیں کرنا چاہتے لہذا یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ تمام مرکزی اور ذیلی نالوں کو مکمل طور سے صاف کیا جائے گا اور ممکنہ چوکنگ پوائنٹس اور حساس مقامات پر پہلے سے ہی حفاظتی انتظامات کا بندوبست کرلیا جائے گا۔ صوبائی وزیر کے مطابق رین ایمرجنسی کے حوالے سے مرکزی مانیٹرنگ یونٹ کا قیام محکمہ بلدیات سندھ کے دفتر میں کردیا گیا ہے جس سے تمام ضلعی ایمرجنسی مراکز مستقل رابطے میں رہیں گے۔ NDMAاور واٹر بورڈ کی مدد سے ڈی واٹرنگ مشینیں مخصوص مقامات پر پہلے ہی نصب کردی جائیں گی تاکہ ہر صورت نکاسی آب کا عمل یقینی بنایا جاسکے۔ناصر حسین نے کہا کہ کراچی کی تعمیر وترقی کے لئے پانچ سو ارب سے زیادہ کے پراجیکٹ استعمال کئے جائیں گے، اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ نالوں کی صفائی عمل بار بار نہ کرنا پڑے،ہم نے انجینئرنگ فرم ں نیسپاک کو بھی شامل کیا ہے، سوئپ کے تحت رقوم کی ادائیگی کی جائے گی،ہر صورت عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے گا۔
محمد شبیہ صدیقی
ڈائریکٹر میڈیا مینجمنٹ و تعلقات عامہ
وزیر اطلاعات، بلدیات، جنگلات سندھ
0300-2294020