قبائلی عوام کو وکیل، دلیل اور اپیل کا حق ملا ہے، اجمل وزیر

مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا اجمل وزیرکا کہنا ہے کہ پہلی مرتبہ قبائلی عوام کی محرومیوں کا ازالہ کیا جارہا ہے، قبائلی اضلاع کا انضمام مشکل تھا لیکن وزیراعظم کی قیادت میں اسے مکمل کیا، جس کے بعد سے قبائلی عوام کو وکیل، دلیل اور اپیل کا حق ملا ہے۔

پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اجمل وزیر نے کہا کہ ہماری حکومت نے 5 سال کا کام 15 ماہ میں کیا، پہلی مرتبہ نئے ضم اضلاع میں شفاف انتخابات کرائے گئے۔

اجمل وزیر نے کہا کہ قبائلی اضلاع میں صحت انصاف کارڈ کے ذریعے لوگوں کو صحت کی سہولت دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خاصہ دار فورس کو پولیس میں ضم کیا، کسی کو بے روزگار نہیں ہونے دیا، جبکہ ہم موجودہ اداروں کو مزید فعال اور مضبوط بنا رہے ہیں۔

اجمل وزیر نے کہا کہ سندھ حکومت ضم اضلاع کی ترقی کے لیے این ایف سی ایوارڈ کے تحت 3 فیصد حصہ نہیں دے رہی ہے۔

صوبائی مشیر اطلاعات نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں کورونا کے سدباب کے لیے حکومتی اقدامات جاری ہیں، صوبے کے 214 متاثرہ علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن لگایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 2 ہزار 410 ہے، اسمارٹ لاک ڈاؤن کی وجہ سے 8 لاکھ 5 ہزار877 افراد گھروں تک محدود ہیں۔

اجمل وزیر نے کہا کہ 89 متاثرہ علاقوں سے اسمارٹ لاک ڈاؤن ہٹا دیا گیا ہے، ان علاقوں میں 677 افراد کورونا سے متاثر تھے۔

مشیر اطلاعات نے کہا کہ خصوصی بچوں کے امتحانات منعقد کرنے کے حوالے سے کمیٹی بنا دی گئی ہے، سرکاری اسکولوں کے اساتذہ کو سائیکلوجیکل ٹریننگ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ 34 ہزار اسکولوں کے اساتذہ کو محکمہ صحت کے تعاون سے سائیکلو جیکل ٹریننگ دی جائی گی، جس کے بعد تربیت حاصل کرنے والے اساتذہ کو بچوں کی نفسیات سمجھنے میں آسانی ہوگی۔

Courtesy JANG News