یکساں قومی نصاب/وزیراعلیٰ سندھ کی قومی نصاب یا صرف بنیادی مضامین پر عملدرآمد سے متعلق وفاقی حکومت سے وضاحت طلب

کراچی (2 جولائی): وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے وفاقی حکومت کی وزارت تعلیم اینڈ پروفیشنل ٹریننگ پر زور دیا ہے کہ وہ ضروری وضاحت فراہم کریں کہ پورے قومی نصاب کو اپنانا ہے یا واحد قومی نصاب کے صرف بنیادی مضامین کو اپنانا ہے۔ حکومت سندھ یکساں نصاب کو اپنا سکتی ہے جس میں کم سے کم معیارات کے ساتھ صرف بنیادی نصابی مضامین ہوں اور اس کو مزید تقویت دی جاسکتی ہے جس کے بعد باقی مضامین جیسے صوبائی نصاب ، زبانیں، معاشرتی علوم وغیرہ کو ترقی دی جاسکے۔ یہ بات انہوں نے یہاں وزیراعلیٰ ہاؤس میں وفاقی حکومت کے ’’ یکساں قومی نصاب منصوبہ ‘‘ کے بارے میں تبادلہ خیال کیلئے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں وزیر تعلیم سعید غنی ، مشیر قانون مرتضیٰ وہاب ، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری ساجد جمال ابڑو ، سیکرٹریز ، اسکول ایجوکیشن اینڈ کالجز ، قانون، ڈاکٹر فوزیہ اور دیگر متعلقہ افسران اور ماہرین نے شرکت کی۔ وزیر تعلیم سعید غنی نے وزیر اعلیٰ سندھ کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ستمبر 2019 میں وفاقی وزیر کے تحت قومی نصاب کونسل (این سی سی) کے ذریعہ سنگل قومی نصاب (ایس این سی) پر ایک اجلاس ہوا تھا۔ سنگل قومی نصاب کو عملی جامہ پہنانے کے لئے یہ فیصلہ کیا گیا کہ وزارت تعلیم کے ذریعہ تیار کردہ ایس این سی کو صوبائی سطح پر ریویوورکشاپس کے ذریعے اسے صوبوں کے ساتھ ملحوظ خاطر رکھا جائے۔ سعید غنی نے وزیراعلیٰ کو بتایا کہ جب ایک بار صوبوں سے منظوری مل جاتی ہے تو یہ ایس این سی قومی سطح پر نافذ ہوگی ۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ 18 ویں ترمیم کے پیش نظر تعلیم کے قلمدان کو صوبائی سبجیکٹ کی حیثیت سے تفویض کیا گیا تھا اور تب سے سندھ حکومت نے اپنے صوبائی مینڈیٹ کے حصے کے طور پر نصاب پر کام کیا ہے اور قومی نصاب 2006 کو اپنالیا ہے اور بین الاقوامی ماڈل پر نصاب میں ترمیم کی ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ 2015 میں سندھ حکومت نے سندھ اسمبلی کے ذریعہ منظور کردہ تاریخی قانون ’’دی سندھ اسکول ایجوکیشن کریکیولم ایکٹ‘‘ نافذ کیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ قانون کے تحت سندھ نصاب کونسل کا قیام عمل میں لایا گیا تھا اور بیورو آف نصاب کی تشکیل نو ڈائریکٹوریٹ آف کریکیولم اسسمنٹ اینڈ ریسرچ (ڈی سی اے آر) کی حیثیت سے کی گئی تھی۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ معیار ، نصاب ، درسی کتب اور وسائل کی جائزہ ، ڈیزائن ، اور ترقی کے لئے محکمہ کے ذریعہ استعمال کردہ نقطہ نظر اور حکمت عملی کے سخت معیار کے اصولوں کی مدد سے ہیں جو اس کی پالیسی کا سنگ بنیاد ہیں ۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ نصاب تعلیم اور درسی کتب کے میدان میں 18 ویں ترمیم کی کامیابیوں کو محکمہ تعلیم کے ذریعہ شامل کیا گیا ، اس میں قومی نصاب شامل ہیں ، ان کا جائزہ لے کر تدارک کیا جائے گا اور امتحان کی تشخیص کی پالیسی اور طریقہ کار کو تیار کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی سندھ ایجوکیشن اسٹوڈنٹ لرننگ آؤٹ ایمٹ اینڈ اسسمنٹ فریم ورک (سی ای ایس ایل او ایف) کی ہے جسے 2015 میں نوٹیفائی کیا گیا تھا۔ ہشتم سے کلاس VI کیلئے سوشل اسٹڈیز کیلئے نصاب تعلیم چاروں پہلوؤں: تاریخ ، سِوکس، معاشیات ، جغرافیہ کیلئے مربوط نقطہ نظر کا استعمال کرتے ہوئے مندرجہ ذیل پر کام جاری ہے۔
ای سی سی ای معیار ، نصاب اور اس کے وسائل کی ترقی۔
پری اسکول سے گریڈ بارہویں میں انگریزی نصاب کی ازسر نو ڈیزائن اور اس میں ترمیم۔
سندھی اور اردو کو درجہ اول سے لے کر پانچویں تکزبانوں کے نصاب میں نظر ثانی اور دوبارہ ڈیزائن کیا گیا ۔
صوبہ نے جماعت اول سے ہشتم تک کی تمام نصابی کتب کو کامیابی کے ساتھ تبدیل کیا ہے ۔
صوبہ نے جماعت اول سے ہشتم تک کی تمام نصابی کتب کو کامیابی کے ساتھ تبدیل کیا ہے ۔
کلاس اول سے دسویں کے تمام مضامین کے قومی نصاب 2006 کا جائزہ لیا گیا ہے اور گیارویں اور بارہویں جماعت کے نصاب کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
محکمہ تعلیم نے غیر رسمی تعلیم کیلئے پیکیج اے، بی اور سی تیار کیا ہے ، جو کہ گریڈ ایک تا پانچ کے برابر ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی نے کہا کہ 18 ویں آئینی ترمیم کے تحت تعلیم صوبائی سبجیکٹ ہے اور صوبے اپنے اپنے نصاب سے متعلق فیصلہ کرسکتے ہیں۔ مذکورہ بالا کے پیش نظر ایک سمری وزیر اعلیٰ سندھ کو ارسال کردی گئی ہے۔
سندھ نصاب کونسل (ایس سی سی):
وزیر تعلیم سعید غنی نے کہا کہ انھوں نے مارچ 2020 میں سندھ نصاب کونسل (ایس سی سی) کا نواں اجلاس کیا تھا جس میں سنگل قومی نصاب کے نفاذ سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ اجلاس میں بتایا گیا تھا کہ 18 ویں آئینی ترمیم کے بعد نصاب اور اسکی ترقی صوبوں کی ذمہ داری بن گئی ہے لہٰذہ صوبائی خودمختاری پر کسی سمجھوتہ سے بچنے کیلئے18 ویں ترمیم کے پس منظر میں سنگل قومی نصاب کو اپنانے کیلئے وضاحت طلب کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ وفاقی وزارت تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت سے ضروری وضاحت فراہم کرنے کے لئے کہا جاسکتا ہے کہ آیا یہ پورے قومی نصاب کو اپنانا ہے یا سنگل قومی نصاب کے صرف بنیادی مضامین کو اپنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ سندھ کم سے کم معیار کے ساتھ صرف بنیادی نصابی مضامین پر مشتمل یکساں نصاب کو اپنا سکتا ہے اور اس سے زبان ، سماجی علوم وغیرہ جیسے بقیہ مضامین کے صوبائی نصاب کی ترقی کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے محکمہ تعلیم کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکومت کے تعلیمی نصاب کا مطالعہ کریں اور اس کا موازنہ سندھ حکومت کے نصاب سے کریں جس کو ’’21 ویں صدی کی لرننگ اسکلز‘‘ کے گائیڈلائینز کے تحت تیار کیا گیا ہے اور انہیں اپنی سفارشات ارسال کریں۔ انہوں نے کہا ہاں ! ہم اس حصہ کو اپناسکتے ہیں جو ہمارے نئے ڈیزائن کردہ نصاب میں نہیں ہے لیکن نیا نصاب اپنانے یا متعارف کروانے کوصوبائی حکومت نوٹیفائی کرے گی۔
عبدالرشید چنا
میڈیا کنسلٹنٹ وزیراعلیٰ سندھ