روزویلٹ ہوٹل کی نج کاری کے بجائے لیز پر یا ایکسپورٹ پروموشن بیورو کو دے دیا جائے۔ عمارتیں قوموں کا غرور اور فخر ہوا کرتی ہیں

۔
تحریر:- حبیب جان

زندہ قومیں ہمیشہ اپنے قائم کردہ ورثہ پر زندہ رہتی ہیں۔ انسان کی اپنی حیات جاوداں مختصر لیکن اس کی تعمیر کردہ عمارتیں صدیوں تاریخ کا حصہ بن کر ملکوں کا غرور بن کر چمکتی دمکتی رہتی ہیں۔

فنانشل حب نیویارک میں ماضی میں خریدی گئی روزویلٹ ہوٹل Roosevelt Hotel اس وقت ہمارے لئے ایک قومی غرور اور فخر ہے کہ دنیا کے معاشی اور سفارتی ہیڈ کوارٹر میں ہم پاکستانیوں کی بھی کوئی جائیداد ہے۔

کوئی عام سی سوجھ بوجھ رکھنے والا انسان بھی جانتا ہے کہ ٹورازم اور ہوٹل انڈسٹری دنیا اور بالخصوص امریکہ اور وہ بھی نیویارک میں کس قدر منفعت بخش کاروبار ہے۔

بدقسمتی سے ہمارے یہاں کرپشن اور اقربا پروری نے پاکستان کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح کے سودوں اور تجارتی معاہدوں میں بھی جھنڈے گاڑے ہیں۔

نیویارک کے دل مین ہٹن میں روزویلٹ ہوٹل اور وہ بھی 1000 سے زائد کمروں پر مشتمل ساتھ میں ریسٹورنٹس، بارز، جم فٹنس کلب، کانفرنسز ہال اور نمائش ہال گویا ایک مکمل ورلڈ کلاس 5 اسٹارز ہوٹل لیکن بدقسمتی سے ہماری کرپٹ مینجمنٹ نے اس کا بیڑہ غرق کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

مصدقہ اطلاعات کے مطابق ابھی چند سال قبل ہی PIA کی انتظامیہ نے ملئینز ڈالرز خرچ کر کے ہوٹل کی تزئین وآرائش کی تھی۔ یوں کہیے کہ ہوٹل کیا ہے ایک خوبصورت محل ہے۔ دنیا میں چھوٹے چھوٹے گروپ ہوٹل انڈسٹری کے کاروبار میں ترقی کرتے ہوئے آج آسمان کی بلندیوں کو چھو رہیں ہیں۔

بہرحال مختصر یہ کہ یکم جولائی کو تحریک انصاف کی حکومت نے فیصلہ کیا کہ نیویارک میں قائم Roosevelt Hotel کی نج کاری کردی جائے۔ اور یہ ایسے وقت میں ہورہا ہے جب چند روز قبل وزیر ہوا بازی غلام سرور کے بیان کے بعد یورپ اور دیگر ممالک نے PIA کے فضائی آپریشن کو چھہ ماہ کیلئے معطل کردیا تھا۔

وزیر موصوف کے بیان اور پھر پابندی اور اس کے فورآ بعد روزویلٹ کی نج کاری کے اعلان نے حکمران جماعت کی نیک نامی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ یہ بات اب زبان زدعام ہے کہ حکمران جماعت کے کاروباری ذہنیت رکھنے والے وزراء اور مشیران نج کاری کے نام پر اپنے احبابِ یار غار کو نوازنا چاہتے ہیں۔

جیسا کہ ہم نے اوپر ذکر کیا کہ شاندار روایات اور عمارتیں قوم کا غرور اور فخر ہوا کرتی ہے۔ غرور اور فخر کو سنبھالنے کیلئے قومیں سالانہ سبسیڈی دیا کرتی ہے ہر کام منافع کمانے کیلئے نہیں کیا جاتا۔ زندہ قومیں عزت وناموس کیلئے بھوکے رہ کر بھی وقار کو ملحوظ خاطر رکھتے ہیں۔

حکومت جماعت اور بالخصوص وزیراعظم عمران خان صاحب سے مؤدبانہ عرضِ خدمت ہے کہ جناب سوشل میڈیائی دور اور بہت ساری ٹورازم ایپس APPs کی موجودگی میں ہوٹل انڈسٹریز کے کاروبار اور وہ بھی نیویارک میں کامیابی سے چلانا مشکل نہیں تھا۔

لیکن ہمارے جزبہ ذاتی مفادات کے سبب پاکستان کا ہر ادارہ زبوں حالی کی طرف گامزن ہے۔ لہذا ایسی صورت میں پارلیمنٹ اور کابینہ سے منظوری لیتے ہوئے مذکورہ ہوٹل یعنی روزویلٹ کسی بڑے منظم گروپ کو 30 سالہ لیز یعنی ٹھیکہ پر دے دیا جائے۔

یا دوسری صورت میں مزکورہ ہوٹل ایکسپورٹ پروموشن بیورو یا پھر سیالکوٹ اور کراچی چیمبر کو مشترکہ طور پر حوالہ کیا جائے جہاں وہ مستقل طور پر تجارتی نمائش ہال میں پاکستانی مصنوعات کی نمائش کرتے ہوئے پاکستانی برآمدات بڑھانے کی کوشش کریں۔

اسی طرح پاکستان سے جانے والے تجارتی اور سیاحتی وفود کو رعایتی قیمتوں پر کمرے دئیے جائیں اور نیویارک میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کیلئے تقریبات وغیرہ کیلئے کانفرنسز ہال رعایتی بنیادوں پر دے کر کمیونٹی کو بھی احساس دلایا جائے کہ ہم سب کا غرور یہ عمارت ہے۔

اگر خدانخواستہ حکومت یہ نہیں کر سکتی تو کم از کم صدر الدین ہاشوانی سے ہنگامی مشورہ طلب کرتے ہوئے حل مانگے۔۔۔۔۔ خان صاحب آپ ایمانداری اور صادق و امین ہونے کے دعویدار ہیں یاد رکھیں قوم ہر چیز پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ذرا سی غلطی صدیوں کا خمیازہ ہوگی۔