شہداءو غازیوںکے اعزاز میں منعقدہ تقریب میں گورنرسندھ نے انھیں نقد رقم دی وزیراعظم سے تمغہ شجاعت کی سفارش کروں گا ، پولیس کی کارکردگی میں نمایاں فرق آیا ہے ۔ گورنرسندھ کا تقریب سے خطاب

کراچی اسٹاک ایکسچینج پر دہشت گرد حملہ میں شہید اور نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے فورسز کے جوانوں کے اعزاز میںگورنرہاﺅس میں تقریب”پذیرائی برائے شہداءو غازی“ کے عنوان سے منعقد کی گئی جس میں گورنرسندھ عمران اسماعیل نے شہداءکے اہل خانہ اور جوانوں کو تعریفی اسناد اور نقد رقم دی ۔ تقریب میں اراکین صوبائی اسمبلی ، معروف بزنس مین عقیل کریم ڈھیڈی ، محمود مولوی ، میئر کراچی وسیم اختر ، چیف سیکریٹری سید ممتا ز علی شاہ ، ڈی جی رینجرز میجر جنرل عمر احمد بخاری ، آئی جی سندھ پولیس مشتاق مہر ، ایڈیشنل آئی جی ، کمشنر کراچی سمیت دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک تھے ۔ واضح رہے کہ گذشتہ روز کراچی اسٹاک ایکسچینج کے دورہ کے موقع پر گورنرسندھ نے اعلان کیا تھا کہ دہشت گرد حملہ کے شہداءاور نمایاں کاکردگی دکھانے والے فورسز کے اہلکاروں کے لئے گورنرہاﺅس میں تقریب منعقد کی جائے گی جس میں انھیں تعریفی اسناد اور رقم فراہم کی جائے گی ۔ تقریب میں کراچی اسٹاک ایکسچینج پر دہشت گرد حملہ میں شہید اور زخمی جوانوں کے اہل خانہ اور دہشت گردوں کے خلاف لڑنے والے فورسز کے اہلکاروں نے شرکت کی ۔تقریب میں شہید سب انسپکٹر شاہد علی کے بیٹے تنویر نے گورنرسندھ سے تعریفی اسناد اور نقد رقم حاصل کی اسی طرح سیکیورٹی گارڈ کے فرائض انجام دینے والے شہداءخدا یار خان کے بیٹے محمد عزیر ، شہید افتخار کے بیٹے ارسلان اور شہید حسن کے بیٹے شکیل نے گورنرسندھ سے تعریفی اسناد اورنقد رقم وصول کی ۔ تقریب میں زخمی سپاہی سعید اکرم کی طرف سے ان کی بیوی ، سپاہی امتیاز علی کے بھائی سجاد اور زخمی سپاہی شہزاد نے گورنرسندھ سے تعریفی اسناد اورنقد رقم وصول کی ۔تقریب میں گورنرسندھ نے 2 دہشت گردوں کو ہلاک کرنے والے آر آر ایف کے سپاہی محمد رفیق سومرو اور ایک ایک دہشت گرد کو ہلاک کرنے والے سپاہی محمد سلیم اور سپاہی خلیل الرحمن کو تعریفی اسناد اور نقد رقم دی جبکہ دہشت گردوں کو چاروں طرف سے گھیرنے اور ان کو آگے نہ بڑھنے دینے والے سپاہیوں ناصر عباس ، اسد احمد اور اعجاز علی کو بھی تعریفی اسناد اور نقد رقم دی گئی ۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنرسندھ نے کہا کہ اس تقریب کے انعقاد کا مقصد پولیس کے ان شہداءاور غازیوں کا اعتراف اور اس ضمن میں عوام کو آگاہ کرنا ہے جنھوں نے انتہائی بہادری کا مظاہرہ کیا ان کے لئے وزیراعظم پاکستان سے تمغہ شجاعت دینے کی سفارش کروں گا ۔ انہوں نے کہا کہ شہید کو کسی صلہ کی تمنا نہیں ہوتی ہے اس کا صلہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہی دے سکتی ہے ہم شہداءکے درجات کی بلندی اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا گو ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولیس کی تربیت آرمی اور رینجرز کررہی ہے ، میری آرمی چیف سے درخواست ہے کہ وہ پولیس کی تربیت کو نہ صرف جاری رکھیں بلکہ اس کا دائرہ مزید وسیع بھی کریں کیونکہ پولیس کو اس کی شدید ضرورت ہے اس سے پولیس کا امیج بھی بہتر ہورہاہے اوراس سے نوجوان میں بھی پولیس میں جانے کے رجحان میں اضافہ ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ 100 فیصد یقین سے کہ رہا ہوں کہ اس دہشت گردی کے اس واقعہ میں بھارت ملوث ہے ہمیں اپنی ایجنسیوں کا مشکور ہونا چاہئے جو کسی بھی واقعہ سے قبل اسی طرح کے 10 سے 15 دہشت گردی کے واقعات کو ناکام بنا دیتی ہے جس کا ہمیں معلوم تک نہیں ہوتا ہے اس ضمن میں آئی ایس آئی دنیا کی بہترین ایجنسی ہے جو دشمن کے آگے ڈھال بن کر کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہید جو چلا گیااس کو ہم کچھ نہیں دے سکتے لیکن ہم تمام شہداءکو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ، دہشت گردی کے واقعہ کے بعد مخیر حضرات بالخصوص معروف بزنس مین عقیل ڈھیڈی ،ملک ریاض ،حاجی غنی،آفتاب صدیقی اور محمود مولوی نے شہید شاہد کے لئے10 لاکھ روپے،خدا یار خان،محمد حسن،افتخارغازی،کانسٹیبل رفیق کو فی کس 15،15 لاکھ روپے،سلیم کو 10 لاکھ روپے ،خلیل الرحمان کو 10 لاکھ روپے،جاوید انور کو5 لاکھ روپے ،علی کے لئے بھی 5 لاکھ روپے انعام کی رقم دی ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے اس واقعہ میں پولیس کی کارکردگی سے ثابت ہو گیا ہے کہ اس ادارہ کی کارکردگی میں بہت فرق آیا ہے،آج پولیس کا امیج تبدیل ہو رہا ہے ،پولیس کو لوگ اب ہیرو کے طور پر دیکھیں گے ایڈیشنل آئی جی ادارہ میں میرٹ نافذ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ گورنرسندھ نے کہا کہ کراچی اسٹاک ایکسچینج پر دہشت گرد حملہ کا مقصد پاکستان کو نا قابل تلافی نقصان پہنچانا تھا لیکن ہمارے بہادر جوانوں نے دشمن کے تمام ارادے خاک میں ملادیئے ان جوانوں نے وہ کچھ کردکھایا جو آج کی ترقی یافتہ اقوام کی فورسز بھی نہیں کرسکتی ہیں ،وطن کے محافظ ،یہ جوان ہمارا فخر ہیں جنھوں نے اپنی جانوں پر کھیل کر دہشت گردی کے منصوبہ کو چند منٹوں کے اندر مٹا کر رکھ دیا، ان جوانوں کی جتنی تعریف کی جائے وہ کم ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف جام شہادت پانے والے پولیس افسر اور سپاہیوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دیگر وطن عزیز کو کسی بڑے سانحہ سے محفوظ رکھا ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ گورنرسندھ نے کہا کہ پوری قوم کو اپنی مسلح افواج ، رینجرز ،پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے پر فخر ہے جو وطن عزیز کی حفاظت کے لئے ہمہ تن تیار اور چوکس ہیں قوم کے ان سپوتوں کے ہوتے ہوئے کوئی بھی وطن عزیز کا بال بیکا نہیں کرسکتا ہے ۔ رکن سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ نے کہا کہ پوری قوم شہداءو غازی کو سلام پیش کرتی ہے دہشت گرد بھول جائیں کہ وہ ہمیں شکست دے سکتے ہیں ہم ان کے ناپاک عزائم کے سامنے کسی صورت ہار نہیں مانیں گے پوری قوم قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر ان کو شکست دے گی ۔ تقریب سے خطاب میں میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ کراچی کے شہری قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ہیں اور ملک کی سلامتی اور استحکام کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے سے بھی گریز نہیں کریں گے ۔ ڈائریکٹر جنرل رینجرز میجر جنرل عمر احمد بخاری نے دہشت گرد حملہ کو قومی معیشت اور کراچی کے امن پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیکورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے عزائم ناکام بنائے ، ہمیں فخر ہے کہ پوری قوم سیسہ پلائی دیوار کی طرح قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ہے۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے چیئر مین سلمان مہدی نے کہاکہ جن لوگوں نے اپنی جانیں قربان کی ہیں وہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی نہیں پورے پاکستان کی حفاظت کے لئے دی ہیں اس واقعہ کے دوران اسٹاک کی ٹریڈنگ ایک لمحہ بھی نہیں رکی ، ہم چار شہداءکے لئے ایک کروڑ روپے مختص کررہے ہیں اور ان کے لئے ہم ایک فکسڈ ڈپازٹ بھی قائم کریں گے ۔ آئی جی سندھ پولیس مشتاق مہر نے کہا کہ مجھے اپنے جوانوں کی شجاعت پر فخر ہے میں پوری قوم اور ادارہ کی طرف سے انھیں سیلوٹ پیش کرتاہوں ۔ انہوں نے مزید کہاکہ 30 برس کے دوران 2300 افسر و جوانوں شہید ہو چکے ہیں جبکہ کورونا وائرس سے 1300 افسر و جوان متاثر ہوئے جس میں سے 13 شہید بھی ہوئے ، محکمہ پولیس کی حوصلہ افزائی کے لئے تقریب منعقد کرنے پر گورنرسندھ کا مشکو رہوں ۔