5 جولائی1977

5جولائی1977کو مارشل لاء لگانے سے پہلے جنرل ضیاء الحق نے قریبی رفقا کے ذریعے یہ معلومات حاصل کرنا شروع کر دی تھیں کہ کہیں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو اور اپوزیشن کے قومی اتحاد کے درمیان معاملات طے تو نہیں پا رہے۔

دوسری طرف یہ فکر بھی لاحق تھی کہ اگر وہ کوئی انتہائی اقدام اٹھاتے ہیں تو اعلیٰ عدلیہ کا ممکنہ ردعمل کیا ہو سکتا ہے کیونکہ ’عاصمہ جیلانی‘ کیس کے بعد سب سمجھ بیٹھے تھے کہ مارشل لاء اب کبھی نہیں لگے گا اور ’نظریہ ضرورت‘ دفن ہو چکا ہے۔ یہ دونوں غلط فہمیاں جلد دور ہو گئیں اور ہم نے اُس شام ایک بار پھر سنا، میرے عزیز ہم وطنو۔

اس بات کو اب 43برس بیت گئے ہیں۔ جمہوریت کا سفر، غیرجمہوری انداز میں زور و شور سے جاری ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے طرز سیاست سے بہت اختلافات کے باوجود اس وقت یہ نظر آ رہا تھا کہ وہ الیکشن جیت رہے ہیں مگر اس جاگیردارانہ سوچ کا کیا کریں جس میں مخالف امیدوار کا کھڑا رہنا بھی گوارہ نہیں۔ جماعت اسلامی کے جان محمد عباسی مرحوم، اگر ’اغوا‘ نہیں کروائے جاتے تو شاید انکی ضمانت ضبط ہو جاتی مگر ڈپٹی کمشنر خالد کھرل نے بھی تو آگے جا کے سیاست کرنی تھی۔

یہی انداز وزیراعلیٰ نے اپنایا، پھر کیا تھا اپوزیشن کو موقع مل گیا۔ کچھ اندرونی اور بیرونی قوتیں پہلے ہی تیار تھیں۔ تحریک چلی تو مال ودولت بےدریغ استعمال ہوا، امریکی ڈالرز کی فراوانی بھی نظر آئی اور پھر اس وقت کے امریکی سفیر نے وائٹ ہائوس کو غالباً یکم جولائی کو میسج کیا ’’The Party is over‘‘۔

یہاں جنرل ضیاء الحق نے اعلان کیا وہاں اپوزیشن جماعتوں اور انکے حامیوں نے شہروں میں مٹھائیاں تقسیم کرنی شروع کر دیں، انہیں لگا کہ یہ جنرل اسلام اور پاکستان کا سچا سپاہی ہے۔ 90روز میں الیکشن کروا کر واپس چلا جائے گا۔ 16اکتوبر 1977کو الیکشن ہو جاتے تو آج پاکستان کی جمہوری تاریخ مختلف ہوتی۔ الیکشن سے چند روز پہلے نامعلوم وجوہات کی بنیاد پر نہ صرف انتخابات ملتوی ہوئے بلکہ، جمہوریت بھی التوا میں ڈال دی گئی۔

ایک بار پھر عدالت کا رخ کیا گیا۔ مقاصد دو تھے (1)بھٹو کو راستے سے ہٹانا (2) نظریہ ضرورت کے تحت مارشل لاء کا تحفظ۔ عدلیہ نے بھی مایو س نہیں کیا۔ پہلے ایک جوڈیشل مرڈر کے ذریعہ بھٹو پھانسی چڑھا اور پھر نصرت بھٹو کیس کے ذریعہ جمہوریت پھانسی چڑھی۔

5جولائی1977، سے لے کر 25جولائی، 2018تک اس ملک میں جمہوریت کے نام پر تماشا لگایا جاتا رہا ہے۔ اب تو شاید مداخلت کی ضرورت بھی باقی نہیں رہی۔ بہت کچھ بدل چکا ہے۔ سیاست نظریاتی لوگوں کے ہاتھ سے نکل کر مفاد پرستوں کے ہاتھوں میں چلی گئی ہے اس لئے جمہوریت کو گالی دینا آسان ہو گیا ہے۔ مقابلے کا اصل مزہ ہی اس وقت آتا ہے جب مدِ مقابل تگڑا ہو۔ اندازہ کریں، 70کی اسمبلی کا۔

ایک طرف بھٹو، ڈاکٹر مبشرحسن، محمود قصوری، عبدالحفیظ پیرزادہ، بابائے سوشلزم شیخ رشید، معراج خالد، غلام مصطفیٰ کھر تو دوسری طرف خان عبدالولی خان، عطاء اللہ مینگل، غوث بخش بزنجو، مولانا مفتی محمود، مولانا شاہ احمد نورانی، پروفیسر غفور۔ اس وقت کے لوگوں کو آج ایئر مارشل (ر) اصغر خان اور بھٹو کے کراچی کے جلوس یاد ہوں گے۔

پھر الیکشن میں دھاندلی کا الزام لگا تو تاریخی تحریک نظام مصطفیٰ چلی، شہروں میں ایسا پہیہ جام کیا کہ آج کا، لاک ڈائون ہوگا۔ مولانا نورانی زبردست انسان تھے۔ ایک بار میں نے انٹرویو میں پوچھا مولانا الیکشن میں کیا ہوا۔ کہنے لگے ’’انتخابی مہم ختم ہوئی تو رات کو PNAکے اجلاس میں میں نے کہا، ہم نشستیں تو اچھی خاصی لے رہے ہیں مگر بھٹو نے ہم سے بہتر مہم چلائی ہے اور سادہ اکثریت لے جائے گا، کاش کچھ نشستوں پر دھاندلی نہ ہوتی‘‘۔

پروفیسر غفور مرحوم سے پوچھا تو بولے اگر بھٹو فوراً دوبارہ الیکشن کا اعلان کر دیتا تو وہ زیادہ نشستیں جیت سکتا تھا۔ بہرحال مارشل لاء کا جواز نہیں تھا کیونکہ نئے انتخابات اور نگران حکومت پر اتفاق ہو گیا تھا۔ اب تو ہر الیکشن نگران حکومت کراتی ہے، الیکشن کمیشن بھی اتفاقِ رائے سے بنتا ہے پھر بھی نتائج قبول نہیں کیے جاتے کیونکہ اب معاملات الیکشن سے پہلے ہی بگاڑ دیے جاتے ہیں۔

خدارا بس کر دیں، کب تک گروپس بناتے رہیں گے، پارٹیاں توڑتے رہیں گے، اگر آج حکومت سے معاملات نہیں چل رہے تو ضروری ہےکہ اسے کمزور کیا جائے؟ اگر 2018میں حکومت نہیں بن رہی تو کیا ضروری تھا کہ بیساکھیاں دی جائیں۔

ایک آخری بات سیاست دانوں سے بھی کرنی ہے۔ رہنما بنتے ہیں، بنائے نہیں جاتے، کب اپنی اپنی جماعتوں میں جمہوریت لائو گے؟ کب اپنا احتساب خود کرو گے، کیا ضروری ہے کہ ہر بار کسی کو گرانے میں اپنی اپنی خدمات پیش کریں۔ ذرا سوچو بھٹو کا سخت ترین مخالف شیخ رشید احمد جیسا سیاست دان بھی کہتاہے کہ وہ سب کچھ تھا کرپٹ نہیں تھا۔

خاندانی المرتضیٰ لاڑکانہ اور 70کلفٹن کراچی کے علاوہ گھر نہیں تھا۔ یہاں ایک ایک شہر میں محلات تعمیر ہو رہے ہیں، یہ بات صرف کسی ایک کی نہیں ہر طرف سیاست کے نام پر کاروبار ہو رہا ہے۔

5 جولائی 1977کا سبق یہی ہے کہ سیاست میں نظریات کو واپس لایا جائے، برداشت کے کلچر کو فروغ دیں، جمہوریت کا سفر اپنے گھر مطلب ا پنی جماعتوں سے شروع کریں۔

ایک سبق ان کے لئے بھی جو سب کو سبق پڑھاتے ہیں۔ 43برسوں میں آپ نے نہیں دیکھا کہ جمہوریت کی ٹرین کو جب بھی آمریت کی پٹری پر چلانے کی کوشش کی جائے گی تو وہ کسی بھی وقت حادثہ کا شکار ہو سکتی ہے۔

لہٰذا بہتر ہے جمہوریت کی ٹرین اپنی ہی پٹری پر چلے۔ ایک بار اصل جمہوریت لا کر دیکھیں تو کبھی ہم کو 5جولائی یاد نہیں آئے گا اور کسی کو کبھی ’نظریہ ضرورت‘ کی ضرورت نہیں پڑے گی

Mazhar-Abbas-Jang