راضی ہونا۔۔۔

پتہ ہے یہ رضا بڑی عطا ہے۔۔ کہنا آسان ہے۔۔ مانگنا آسان ہے۔۔ لیکن اس سے گزارا جاتا ہے۔۔
من پسند پر تو سب راضی ہو جاتے ہیں، رب پسند پر راضی ہونا اصل عطا ہے، اور یہ ہی رضا ہے۔۔
پتہ ہے آگے بڑھنے والے کون ہوتے ہیں۔۔۔؟؟
یہ ہی رضا کو مانگنے والے، رضا کو حاصل کرنے والے، قربانی سے قرب کو سینچ کر مقرب کا درجہ پانے والے۔۔۔
رضا سے گزرنا سمجھ لو جیسے کسی مخملی کپڑے کو کانٹوں میں گھسیٹا جائے۔۔۔
مخملی کپڑا خواہش زدہ نفسانی وجود ہے، اور کانٹے حقیقت ہیں۔۔!! بھلا کون سی حقیقت۔۔؟؟ وہ ہی جو انسان کو رب سے قریب کرے۔۔
سارے زنگ اتارے جائیں گے، پاک کیا جائے گا، پے درپے حالات کی بھٹی میں جلا کرکندن بنایا جائے گا، اور پھر روح کا اصل رنگ جلوہ پذیر ہو گا۔۔۔
جو جسم اس پرکھ سے نوازا جائے گا تو یہ حقیقت آشکار ہو گی کہ یہ دنیا، یہ خواہشات، یہ حسن سب کچھ دھوکہ ہے، نگاہوں کا اندھا پن ہے۔۔ اصل حقیقت تو کچھ اور ہی ہے۔۔۔
جو رضا میں راضی رہنے کی دعا مانگتا ہے وہ کوئی معمولی شے نہیں مانگ رہا ہوتا ہے۔۔ وہ الله کو مانگ رہا ہوتا ہے۔۔ الله کی خوشی مانگ رہا ہوتا ہے۔
الله کو مانگنا سب کے نصیب میں نہیں ہوتا۔۔ کوئی اسکا نام بھی اسکی توفیق کے بغیر نہیں لے سکتا۔
تو جان لو کہ تمہیں الله نے چُنا ہے اور پھر اس نے تم سے اپنا آپ منگوا لیا۔۔ ورنہ ہم کیا اور ہماری اوقات کیا۔۔

حنا بٹ۔۔