ظلم و بر بریت کی بولتی تصویر

میڈیا پر ایک دلخراش منظر کہ جس میں ایک ننھا معصوم بچہ سڑک کنارے اپنے دادا کی خون آلود لاش کے قریب بےکس و لا چار بیٹھا ہے جسے بھارتی قابض افواج نی کشمیر میں گولیوں سے بھون ڈالا۔ تصویر کیا ہے قلب و نظر پر ایک بوجھ ہے۔ جو انسانی ضمیر پر ایک طمانچہ ہے۔ بے بسی اور بے کسے کی ایک بھیانک کہانی ہے۔ ہر ذی روح اس تصویر کو دیکھ کر تڑپ اٹھا۔ مرنے والا تو مر گیا۔ شہید ہو کر امر ہو گیا۔ مگر وہ تین چار سال کا معصوم بچہ کتنی تلخ اور اذیت ناک یادوں کے سہارے بقیہ زندگی گزارے گا اور یہ اندوہناک اور کربناک واقعہ کبھی بھی بھلا نہ پائے گا۔ یہ تصویر صرف ایک المناک واقعہ کی تصویر کشی نہیں کر رہی بلکہ ایک مستقل ظالمانہ اور بہیمانہ رویّہ کی عکاّس بھی ہے۔ یہ وہ بھارتی گھمنڈ، ظلم، بربریت، جارحیت، زیادتی اور بھارتی حکمرانوں کی انا پرستی، ہٹ دھرمی، ذہنی خلفشار، مسلم دشمنی، انانیت اور نازی ازم کے پرچار اور اس پر عمل درآمد کی نشاندہی بھی کرتی ہے۔

بطور پاکستانی کشمیریوں کے ساتھ گہری نظریاتی، ذہنی، قلبی اور خونی رشتہ ہے۔ کشمیری مسلمانوں کو پہنچنے والی تکلیف ہم یہاں بیٹھ کر محسوس کرتے ہیں۔ ہمارے دل اپنے کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں جو عرصہ دراز سے نہ صرف اپنے خون سے بلکہ اپنی عزتوں اور عصمتوں کی قربانیوں کی انمٹ داستان رقم کر رہے ہیں۔ انسانی تاریخ میں شاید فلسطین اور کشمیری مسلمان ہی قابل ذکر ہیں۔ جو مسلسل گولیوں کی زد میں ہونے کے باوجود اپنے اصولی موقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ بڑے سے بڑا ظلم، زیادتی اور بربریت بھی اُنہیں اپنی عظیم جدوجہد آزادی سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں دھکیل سکی۔ سلامتی کونسل کی بے شمار قراردادیں، اقوام متحدہ کی وقتاً فوقتاً تشویش سب ڈھکوسلے ثابت ہوئے۔ کوئی عملی قدم، کوئی طاقتور ہاتھ آگے نہ بڑھا کہ ان انسانیت سوز مظالم کو بند کراسکے۔ اسطرح کے ظالمانہ واقعات عرصہ دراز سے مظلوم کشمیری عوام کے مقدر کا حصّہ بن چکے ہیں۔ دنیا عافیت کی نیند میں ہے۔ عالم اسلام کے سرکردہ ممالک اپنے تجارتی مقاصد کی تکمیل میں سرگرم ہیں جبکہ پاکستان اپنی ہی قائم کردہ مجبوریوں اور مصلحتوں کی نذر ہو چکا ہے۔ بقول اقبال

افسوس صد افسوس کہ شاہیں نہ بنا تو
دیکھے نہ تیری آنکھ نے فطرت کے اشارات
تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات

عابد حسین قریشی