بجٹ منظوری کے بعد

نئے مالی سال کے بجٹ کی منظوری سے پہلے میڈیا میں ایک سنسی خیزی کا ماحول تھا۔ قیاس آرائیاں زوروں پر تھیں کہ حکومت کو قومی اسمبلی میں بجٹ پاس کرانے کے لیے مطلوبہ ووٹ ملنا مشکل ہونگے۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ عمران خان بطور وزیراعظم اپنے عہدہ پر قائم نہیں رہ سکیں گے کیونکہ بجٹ مسترد ہونے کو پارلیمانی طرز حکومت میں وزیر اعظم پر عدم اعتماد تصور کیا جاتا ہے۔ اپوزیشن اور حکومتی اتحادیوں دونوں نے حکومت کے خلاف ماحول بنانے میں اپنا اپنا کردار ادا کیا گو بجٹ منظور ہونے کے بعد پتہ چل گیا کہ شور شرابا زیادہ تھا‘حقیقت میںمعاملہ کچھ خاص نہ تھا۔ یہ بات صحیح ہے کہ اپوزیشن نے بجٹ کے موقع کو اپنے حق میں بہت مہارت سے استعمال کیا۔ ایک تو حزب اختلاف کی تمام جماعتیں ایک دوسرے کے قریب آگئیں۔ سب نے مل کربجٹ کے خلاف ایک اعلامیہ جاری کردیا۔ یوں اپوزیشن جو گزشتہ بیس ماہ سے اکٹھی نہیں ہورہی تھی پہلی بار متحد ہوکر کھیلی۔ حکومت کو اسکا دباؤ محسوس ہوا۔ پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول زرداری نے اس صورتحال کا سب سے زیادہ فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے اپوزیشن رہنماؤں کو ٹیلی فون کرکے اور بعد میں انکا مشترکہ اجلاس بُلاکر خود کو سب سے اہم اپوزیشن لیڈر کے طور پرپیش کیا‘ پارلیمان میں حکومت اور وزیراعظم کے خلاف دھواں دھار تقریریں کیں۔چونکہ موجودہ دورِ حکومت میں پارلیمان کی کارروائی پارلیمنٹ کے لیے مختص سرکاری ٹی وی پر براہ راست نشر ہوتی ہے اس لیے دونوں طرف کے ارکانِ اسمبلی خوب تیاری کرکے آتے ہیں‘ایک دوسرے پر گرجتے برستے ہیں تاکہ عوام میں انکا اِمیج بنے‘ انکی واہ واہ ہو۔ پرائیویٹ ٹیلی ویژن چینل بھی اپوزیشن اور حکومت کے اہم رہنماوں کی تقریریں براہِ راست نشر کرتے ہیں۔ یہ پاکستان میں جمہوری کلچر کی پختگی کی علامت ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے دور میں حال یہ تھا کہ اپوزیشن رہنما خورشید شاہ کی تقریر بھی کسی ٹیلی ویژن چینل پر براہِ راست نہیںدکھائی جاتی تھی۔ اگراپوزیشن کو ٹیلی ویژن پر کوریج دینے کی روایت جڑ پکڑ جائے تو ملک میں ایک دوسرے کے مخالف نقطہ نظر کو سمجھنے اور برداشت کرنے کا ماحول بننے لگے گا۔ اچھا ہے کہ اپوزیشن اپنی بھڑاس پارلیمان میںنکالے نہ کہ سڑکوں پرفساد پھیلائے۔ پارلیمانی جمہوریت میں اپوزیشن کا یہی کام ہوتا ہے کہ وہ عوام تک اپنا نقطہ نگاہ موثر طریقے سے پہنچائے ‘ اپنے موقف کے لیے نئے الیکشن تک رائے عامہ ہموار کرتی رہے۔ اپوزیشن کی سخت تنقید کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ حکومت کی چھٹی ہونے والی ہے۔ البتہ ہمارے میڈیا کو ایک چسکا پڑا ہُوا ہے کہ پیشین گوئیاں کرتا رہے کہ حکومت اب گئی یا تب گئی۔ اپوزیشن کی موجودہ تیز رفتاریوں کے پیچھے بیرونی عوامل کا بھی عمل دخل ہے۔پاکستان کے اندرونی معاملات میں امریکہ بھی دخیل رہتا ہے۔ امریکی لابی ہمارے ملک میں خاصی مضبوط ہے۔ ان دنوں امریکہ افغانستان سے اپنی فوجیں نکالنے میں مصروف ہے۔ پاکستانی ریاست امریکی انخلا میں اسکی مدد کررہی ہے۔ امریکہ پاکستان کی حکومت کو دباؤ میں رکھنا چاہتا ہے تاکہ وہ افغانستان میں امریکہ کی شرائط پر اسکی مدد کرتی رہے۔ امریکہ کو پاکستان اور چین کے تزویراتی (اسٹریٹجک) اتحاد پر بھی شدید اعتراض ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان سی پیک کو ختم کرے اور امریکہ کے انڈو پیسیفک اتحاد میں شریک ہوجس میں جنوبی ایشیا میںبھارت کا قائدانہ کردار ہوگا۔امریکہ اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے پاکستان کی سیاسی جماعتوں میں اپنی لابی کو استعمال کررہا ہے۔ ہماری سیاسی پارٹیوں میں ایسے عناصر موجودہیں جن کے امریکی اداروں سے گہرے روابط ہیں۔ کچھ اپوزیشن لیڈرزامریکہ کے ساتھ تعاون کررہے ہیں تاکہ پاکستانی ریاست کو بلیک میل کیا جاسکے ۔ چھپا ہوا پیغام یہ ہے کہ انکی پارٹی کے لیڈروں کے خلاف کرپشن کے مقدمات ختم کیے جائیں یا کم سے کم انہیں کولڈ اسٹوریج میں ڈال دیا جائے ورنہ وہ ریاست کے لیے مسائل پیدا کریں گے۔ اپنی ناجائز دولت کو بچانے اور اقتدار کی ہوس میں ہمارے بعض سیاستدان کسی حد تک بھی جاسکتے ہیں۔ ان کا نہ کوئی نظریہ ہے نہ اُصول۔ اسکا اندازہ تو اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ ماضی میں ایک دوسرے پر سنگین الزامات لگانے والی مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی آج ایک دوسرے کی حلیف بن چکی ہیں۔ حکومت کے خلاف ماحول بنانے میں اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ ساتھ حکومت کے کچھ ناراض اتحادیوں کا بھی ہاتھ تھا۔ بجٹ پیش ہونے کے موقع پراختر مینگل کی بلوچستان نیشنل پارٹی حکومتی اتحاد سے الگ ہوگئی جو تحریک انصاف کی مخلوط حکومت کے لیے ایک دھچکا تھا۔ رہی سہی کسرمسلم لیگ(ق) نے پوری کردی جس نے وزیر اعظم کی دعوت میں شرکت سے صاف انکار کردیا۔ حکومت کی بچت یہ ہوئی کہ ق لیگ نے اعلان کیا کہ وہ بجٹ میں حکومت کے حق میں ووٹ دے گی۔سرکاری ارکانِ اسمبلی کا کہنا ہے کہ ق لیگ کے چار ارکان قومی اسمبلی کے لیے نئے مالی سال میں سترہ ارب روپے کے ترقیاتی منصوبے رکھے گئے ہیں لیکن وہ پھر بھی خوش نہیں۔ دراصل جب بھی مخلوط حکومت بنتی ہے چھوٹی جماعتیںوزیراعظم کو دباؤمیں رکھتی ہیں۔ وہ اپنے زیادہ سے زیادہ مطالبے منوانا چاہتی ہیں کیونکہ انہیں علم ہوتا ہے کہ اگر وہ حمایت سے ہاتھ کھینچیں گے تو حکومت گِرجائے گی۔ مونس الہی چودھری برادران کے سیاسی جانشین ہیں ۔ چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الہٰی اپنے سیاسی وارث کو قومی سطح پراہم کردار ادا کرتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔ بجٹ پاس ہونے سے حکومت کے خلاف مہم کمزور تو پڑ گئی ہے لیکن کرپشن مقدمات سے تنگ اپوزیشن آنے والے دنوں میں اپنا دباؤ پھر بڑھائے گی۔ بلاول زرداری جلد ہی اپوزیشن کی کل جماعتی کانفرنس بلانے کا اعلان کرچکے ہیں۔ جب تک عمران خان احتساب کے معاملہ پر حزب اختلاف کا موقف تسلیم نہیں کرتے اُنکے مخالفین انہیں سکون کا سانس نہیں لینے دیں گے۔ عمران خان کی مشکل یہ ہے کہ وہ کرپشن کے خلاف اتنا سخت بیانیہ اختیار کرچکے ہیں کہ اگر وہ اس سے پیچھے ہٹیں گے‘ کوئی سمجھوتہ کریں گے تو انکی ساکھ اور سیاست کو بہت نقصان ہوگا۔ ان حالات میںقومی سیاست ہچکولے کھاتی رہے گی۔جب تک وزیر اعظم عمران خان کوچھوٹی اتحادی جماعتوں خصوصاً ایم کیو ایم (پاکستان) اور ق لیگ کا تعاون حاصل ہے انکی حکومت چلتی رہے گی ۔

Courtesy roznama 92 daily