راجہ تری دیو رائے… انوکھا راجہ جیسا کبھی نہ دیکھا

راجہ تری دیو رائے… انوکھا راجہ جیسا کبھی نہ دیکھا
1970 کے الیکشن میں مشرقی پاکستان (مجودہ بنگلہ دیش) میں شیخ مجیب کی عوامی لیگ تمام سیٹیں لے گئی ماساوے دو کے جس مے واحد آزاد امیدوار جو کامیاب ہوا وہ راجہ تری دیو رائے تھے . آپ بدھ مت مذهب سے تھے اور چٹا گونگ کی پہاڑیوں مے بسنے والے قدیم قبیلے چکمہ کے راجہ . یہ لوگ اپنے آپ کو بنگالی نہی مانتے جو بعد میں آباد ہووے. جیسے ہی بنگالیوں نے پاکستان سے علحدگی کی تحریک چلای راجہ صاحب نے متحدہ پاکستان کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا اور بنگلہ دیش بننے سے پہلے ہی پاکستان چلے انے جس کے بعد وو پھر کبھی واپس نہیں گے اور ٢٠١٢ مے اسلام آباد فوت ہو گے.

1972 مے بھٹو نے انکو نیویورک جانے والے پاکستانی وفد کا لیڈر بنا کر بھیجا تو شیخ مجیب نے جواباً انکی والدہ کو بنگلہ دیش وفد کا لیڈر بنا کر نیویورک بھیجا کے کسی ترا بیٹے کو منا کر واپس لایں .. مگر راجہ تری دیو رائے نے ماں کو صاف انکار کر دیا کے پاکستان کو نہیں چھوڑ سکتا ..خاندان, قبیلہ, آبائی وطن سبھ اس پر قربان. واپس اسلام آباد پوھنچے تو پوری قوم نے انکی رہ مے آنکھے بچھائیں. بھٹو دور آپ وفاقی وزیر رہے.
جنرل ضیاء نے انکو ارجنٹائن مے پاکستان کا سفیر متعین کیا جہاں آپ 15 سال رہے. میں ان دنوں برازیل مے فرسٹ سیکرٹری کمرشل کے فرائض انجام دے رہا تھا. ارجنٹائن سرکاری فرائض کی ادائیگی کے سلسلہ میں جانا ہوا تو راجہ صاحب نے اپنا مہمان بنا لیا. نہہائیٹ نرم گو اور مہمان نواز تھے اور ایک پیدائشی راجہ کی تمام خوبیاں … پاکستان کے لیے کسی راجہ نے وہ نہیں کیا جو اس بدھ متی راجہ نے کر کے دکھا دیا.
وفا داری ہو تو ایسے
مرے بوت خانے میں تو کعبے میں گھاڑو براہمن کو

Ex CS Sindh Hotiyana write up