پیٹرول کی کہانی عمران مرزا کا تجزیہ

خرابی پیٹرول سستا کرنے سے نہی بلکہ پیٹرول کی امپورٹ کا ٹھیکہ پی ایس او سے لے کر ندیم بابر (شئیر ہولڈر) کی کمپنی ہیسکول کو دینے سے ہوئی.
جس نے مارکیٹ میں صرف 25 فیصد پیٹرول دیا اور باقی 75 فیصد سٹاک کر لیا۔ اور پھر 32% ریٹ بڑها دیا گیا ، راتوں رات… کیبنٹ اور اوگرا کو بائی پاس کر کے…

سوال یہ ہے کہ سرکاری کمپنی سے امپورٹ کا حق چھین کر پرائیویٹ اور غیر ملکی کمپنی کو ٹهیکہ دینے کی کیا منطق تھی؟

کیا یہ کھلے اشارے نہی کہ گھپلے کا پروگرام طے شدہ تھا؟

جولائی کے لئے اوگرا کی سمری اور تجویز مزید 7 روپے کی کمی کی بھی موجود ہے! اوپر بتائے گئے تمام فیصلے وزیراعظم کی صوابدید کے بنا ممکن ہی نہیں، رولز آف بزنس یا ایس او پیز کو بار بار توڑا گیا ، چاہے ہیسکول کو ٹھیکہ دینے کی بات ہو یا پیٹرول کی قیمت میں اوگرا کو بائی پاس کرنے کی، اور یہ سوائے وزیراعظم کی صوابدید کے بغیر ممکن ہی نہی ہیں۔ یہ وزیراعظم کے ذاتی اختیارات سے بھی تجاوز ہے مگر کیا گیا۔

اب ہمیں کوئی یہ تو بتلائے کہ کیا یہ ممکن ہے کہ وزیراعظم نے اس سب گھٹالے میں اپنا حصہ نہ لیا ہو؟

کیوں مان لیا جائے کہ وزیراعظم بغیر کسی لالچ کے اتنے بڑے دھوکے / گھٹالے کو لے کے چلا؟ کیا وزیراعظم دودھ پیتا بچہ ہے کہ جو نہی جانتا کہ سرکاری کمپنی ملکی مفاد سے ہٹ کر کبھی کوئی بڑا فراڈ نہی کر سکتی کہ باالآخر وہ سرکار کے سامنے جوابدہ ہے، اور ایسے میں غیر ملکی کمپنی کو اتنا حساس معاملہ سونپنا!

میں یہ سوالات آپ لوگوں پہ چھوڑتا ہوں کہ فیصلہ آپ کریں کہ اصل مجرم کون ہے!
بشکریہ: عمران مرزا