قسمت کا کھیل

احمد امین عربی کے بہت بڑے ادیب تھے۔ میڈل کلاس گھرانے سے ان کا تعلق تھا اور دینی مزاج کے حامل تھے۔ جبہ وعمامہ کا استعمال کرتے تھے۔ گویا ہماری زبان میں ’’مولویانہ‘‘ لباس زیب تن کرتے تھے۔ اس وقت مصر کی طرز معاشرت مائل بہ انقلاب تھی۔ انگریزی تہذیب سے لوگ متاثر ہورہے تھے۔ عربیت میں غربیت کا امتزاج ہورہا تھا۔
جس طرح ہمارے معاشرے میں انگریزی تہذیب وتمدن سے متاثر گھرانے اس’’ مولویانہ لباس‘‘ کے نوجوانوں سے شادی بیاہ پسند نہیں کرتے ۔ اسی طرح احمد امین کے رشتے کے لیے کئی جگہ باتیں ہوئیں لیکن ہر جگہ ان کا جبہ وعمامہ ان کی شادی کی راہ میں حائل ہوگیا۔ احمد امین نے اپنی سرگزشت ’’حیاتی‘‘ میں لکھا ہے کہ ایک جگہ میرا رشتہ ہوا۔ انہوں نے مجھے پسند کرنے سے قبل مجھے دیکھنا چاہا۔ میں جب ان کے یہاں گیا تو میں نے ہاتھ میں انگریزی کی ایک کتاب لی۔ اور ان سے بات چیت کرتے وقت انگریزی کے کئی الفاظ بھی استعما ل کیے۔ جس سے معلوم ہوا کہ میں نرا ’’مولوی‘‘ نہیں ہوں بلکہ میں ایک’’ پڑھا لکھا‘‘ انسان ہوں۔ وہ کہتے ہیں کہ لڑکی کے گھر والوں سے بات چیت کے بعد ان کی گفتگو سے مجھے لگا کہ وہ میرے رشتے سے راضی ہیں۔ اتنے میں لڑکی نے کھڑکی سے میرا عمامہ دیکھا تو گھبرا گئی اور مجھ سے شادی کے لیے کسی صورت تیار نہ ہوئی۔ بعد میں اس لڑکی کی ایک ایسے نوجوان سے شادی ہوئی جو کسی منسٹری میں کلرک تھا مگر نشہ باز تھا۔ دونوں کی ان بن ہوگئی۔ اس نے لڑکی کو طلاق دے دیا۔ لڑکی نے اپنے نان ونفقہ کے لیے کورٹ میں مقدمہ کردیا۔ جس کورٹ میں وہ مقدمہ لے کر گئی اس کورٹ کا میں اس وقت جج تھا۔
رمیض رزاق