گفتگو احسن طریقے سے کریں

ایک دکاندار کہہ رہا تھا خون کی بوتلیں سو روپے کلو، خون کی بوتلیں سو روپے کلو ۔۔۔
میں نے حیرانگی سے دیکھا، تو پتہ چلا کہ وہ سرخ انار بیچ رہا تھا ۔۔۔
دوسرا کہہ رہا تھا میرا سیب کهانے سے مہینہ خوشبو نہیں جائے گی ۔۔۔
امرود والا کہہ رہا تھا مکهن کے پیڑے لے لو مکهن کے پیڑے ۔۔۔
آم والا ایک دن کہہ رہا تھا کہ آم دیکهیں جیسے ماکھی (شہد) ۔۔۔
جب کبھی گوشت خریدنے کے لئے جاؤں تو گوشت والا اکثر یہ کہتا ہے گوشت ایسے ہے جیسے کچی گری ۔۔۔

اگر یہ ان پڑھ فروٹ والے اپنی چیز پیش کرنے کے لئے زبان میں چاشنی لا سکتے ہیں ، اور گوشت والا لوگوں کو محظوظ کرنے کے لئے لسانی مٹهاس سے اپنے الفاظ میں ندرت پیدا کر کے قریب کر سکتا ہے ، تو ہم لوگوں کو دین کے قریب لانے کے لئے اور قرآن و سنت کی بات بتانے کے لئے اپنے انداز میں شیرینی کیوں نہیں پیدا کر سکتے ؟؟؟

گفتگو اتنے احسن طریقے سے ہو کہ سننے والے کے دل میں آپ کی بات بهی اتر جائے اور آپ کا لہجہ بهی نقش ہو جائے ۔
دین سے یہی تو ہمیں حکم ملا ہے ،
” وقولوا للناس حسناً ”
یعنی لوگوں سے احسن طریقے سے بات کیا کرو ۔۔۔
فهل من مدّکر … ہے کوئی جو نصیحت پکڑے ؟؟؟“
محمد منشاء ( دبئی )