اپنے رب کا شکر ادا کریں

آپ انسان ہیں۔۔!!
ایک فقیر،ایک موچی،ایک ریڑھی والا،ایک مزدور،ایک معذور کھوکھے والا یہ سب بھی انسان ہیں،بالکل آپ جیسے ہی۔۔!!
تو آپ ان مذکورہ بالا میں سے ایک کیوں نہیں؟ (اگر آج آپ صاحب استطاعت ہیں تو کیوں ہیں۔۔؟)

جسے آج دو وقت کی روٹی میسر نہیں،جو آج سر پر چھت کو ترس رہا،جس کے پاس موت کی دہلیز پر پڑے اپنے بچے کی دوا کے پیسے نہیں۔۔۔وہ آپ کیوں نہیں۔۔؟ کہ جو ان حالات میں گھرا ہوا وہ بھی تو آپ ہی جیسا انسان نا۔۔!
اور پیدا ہونے سے پہلے آپ نے ایسا کچھ نہیں کیا جو آپ کو اتنی نعمتیں عطاء کر دی جاتیں۔۔۔!
آپ اْن میں سے کوئی ایک بھی ہو سکتے تھے۔۔!
لیکن آپ نہیں ہیں۔۔!!
کیوں۔۔؟؟

کیونکہ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی عطاء ہے،تاکہ تم شکر کرنے والے بنو۔۔!
یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی عطاء ہے تاکہ تم آزمائے جاو اپنے رزق سے۔۔!

تو شکر کیجئے۔۔شکر کیجئے کہ جب ہر طرف ننگی بھوک ناچ رہی ہے لاکھوں لوگ فاقوں سے مر رہے ہیں۔۔!! اس وقت آپ کے پاس رزق کی فراوانی ہے،آپ اپنی مرضی کا کھا اور پہن رہے ہیں،آپکے بچے نکلی ہوئی پسلیوں کے ساتھ ایک ایک نوالے کو ترس نہیں رہے۔۔شکر ادا کیجئے،اور اس شکر میں اس خالق کی مخلوق کا احساس کیجئے جس نے آپکو عطاء کیا۔۔!!
اس عطاء کا شکر ادا کیجیئے آگے عطاء(بحکم خدا تعالیٰ) کر کے۔۔!!

آپ کی آزمائش یہ ہے کہ اس مالک کے بندوں کو بھوکا نہ مرنے دیں جس نے آپ کو بھوکا مرنے والوں میں نہیں رکھا۔۔۔!!

اس موجودہ صورتحال میں جب لوگ گھروں میں قید ہو گئے ہیں،جب غرباء ایک ایک نوالے کو ترس رہے ہیں۔۔
جب باہر بیماری اور گھر میں بھوک نظر آ رہی ہے۔۔
جب باہر موت اور گھر بھوکے بچوں کی مرجھائی ہوئی صورت نظر آتی ہے۔۔
جب بھوک سے تنگ آئی مخلوق خدا خود سوزی تک پہنچ چکی ہے۔۔
اپنی ذمہ داری کا احساس کیجئے،ان لوگوں کی حالت زار دیکھیے اور شکر کے آنسو بہایئے کہ مولا تو نے کرم کیا۔۔ مالک تو نے عطاء کیا۔۔اور ایک عزم لے کر اٹھ کھڑے ہوں اس عزم کے ساتھ کہ اے اللہ پاک تو نے اتنا عطاء کیا تیری توفیق سے میں اپنے ارد گرد تیرے کسی بندے کو بھوکا نہیں رہنے دوں گا۔۔!! یہ مصمم ارادہ کر لیں کہ کچھ چھوڑنا پڑے چاہے کچھ بیچنا پڑے آج خدا تعالیٰ کی عطاء کی گئی نعمتوں کا شکر ایسے ادا کرنا کہ ہر ہر بھوکے کے پیٹ میں نوالہ پہنچاوں گا،ہر ہر بیمار کی دوا کروں گا،ہر ہر سفید پوش کی سفید پوشی کا بھرم رکھنے کی کوشش کروں گا۔۔۔!!

اور دیکھیے، جب کبھی بانٹتے ہوئے دل تنگ پڑنے لگے۔۔دل میں بخل پیدا ہو تو ایک بار کراچی کشمیر کالونی میں فاقوں سے تنگ آکر خودسوزی کر لینے والے دو بچیوں کے باپ سرفراز کو یاد کر لیجیے گا۔۔اپنے بچوں کی بھوک سے مجبور ہو کر کسی سفید پوش کا دراز کیا ہوا دست سوال اور اس کے چہرے کی جھریوں سے چیختی چنگھاڑتی بے بسی او لاچاری کا تصور کر لیجیے گا۔۔اگر روح نہ کانپ جائے تو حالات سے تنگ آئی اس بیوہ کے دل کا حال چشم تصور سے دیکھنے کی کوشش کیجیے گا جو روتی آنکھوں اپنے بچوں کو زہر دے کر خود پنکھے سے لٹکنے جیسے خیالات بن رہی ہو۔۔۔!!!
اور سوچیے گا۔۔!!!
کہ ان سب کی جگہ آپ بھی تو ہو سکتے تھے۔۔!!
آپ۔۔، آپ کیوں ہیں۔۔؟ وہ(مذکورہ بالا) کیوں نہیں۔۔؟؟

خدارا اپنے رب کا اس کی عبادت سے شکر ادا کریں

اصغر علی (اسپین)