آصف زرداری کےوارنٹ گرفتاری جاری،نواز شریف کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی شروع

احتساب عدالت اسلام آباد میں سابق وزیراعظم نواز شریف اور سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس پر سماعت ہوئی۔کیس کی سماعت احتساب عدالت کے جج اعظم خان نے کی۔اس موقع پر جج اعظم خان نے استفسار کیا کہ رپورٹ کہاں ہے۔جس پر وارنٹ گرفتاری کی تعمیل سےمتعلق رپورٹ عدالت میں جمع کرادی گئی۔نیب پراسیکیوٹر نے مؤقف اپنایا کہ انور مجید کے وارنٹ کی تعمیل اے ایس آئی سے کروائی۔جج اعظم خان نے کہا کہ آصف علی زرداری پرائیویٹ ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ فاروق ایچ نائیک نے جواب دیا کہ جی زرداری صاحب پرائیویٹ ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔جج اعظم خان نے کہا کہ کرمنل پروسیڈنگ ہیں آنا تو پڑے گا۔ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ گیلانی صاحب کو بھی استثنیٰ دیا ہوا ہے، جج اعظم خان نے کہا کہ وہ دیگر کے پیش نہ ہونے تک کا دیا ہے،ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کی رپورٹ پیش کر دی گئی ہے،وارنٹ جاری کر دیتے ہیں۔
فاروق ایچ نائیک نے مؤقف اپنایا کہ میں عدالت سے درخواست کرتا ہوں کہ آصف زرداری کے وارنٹ جاری نہ کریں،میں بیان دے رہا ہوں کہ آصف زرداری آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش ہونگے،میں سینئر وکیل عدالت میں بیان حلفی دے رہا ہوں، یہ بڑی بات ہوتی ہے،آصف زرداری سابق صدر پاکستان ہیں وہ کہیں بھاگ نہیں رہے۔جس پر جج اصغر علی نے ریمارکس دیے کہ میں نے اب آرڈر کر دیا ہے وہ اب واپس نہیں ہو گا،عدالت نے آپ سے ایڈریس مانگ کر اس پر سمن جاری کیا تھا لیکن وہ پھر بھی پیش نہیں ہوئے۔
فاروق ایچ نائیک نے مؤقف اپنایا کہ سمجھ نہیں آتا ابھی چارج فریم نہیں ہوا تو کیسے یہ بات کر سکتے ہیں،اہم اسمبلی کا اجلاس تھا زرداری صاحب وہا نہیں جا سکے،آپ حکم کریں گے زرداری صاحب پہنچ جائیں گے،ناقابل ضمانت وارنٹ اس وقت جاری کیے جاتے ہیں جب ہم تعاون نہ کر رہے ہوں،اگر زرداری صاحب کا آنا ضروری ہے تو وہ ضرور آئیں گے۔ جج اصغر علی نے ریمارکس دیے کہ ٹرائل چل رہا ہے آنا تو پڑے گا،قابل ضمانت وارنٹ جاری کر دیتا ہوں اگر آئندہ سماعت پر نہیں آتے تو ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کر دیں گے۔جس پر عدالت نے آصف علی زرداری کی حاضری سے استثنی کی درخواست مسترد کر دی۔اور ان کےقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔
دوسری جانب احتساب عدالت نے نواز شریف کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی شروع کر دی اور جج محمد اصغر علی نے نواز شریف کے اشتہار جاری کر دیے۔ جج محمد اصغر علی نے ریمارکس دیے کہ نواز شریف کے ناقابل ضمانت وارنٹس پر کوئی عملدرآمد نہ ہو سکا،نواز شریف دانستہ طور پر عدالتی کارروائی کا حصہ نہیں بن رہے۔
بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت 17 اگست تک ملتوی کر دی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ گزشتہ سماعت پر میں نے آصف زرداری کی طرف سے وکالت نامہ جمع کرایا تھا،آصف زرداری بیمار ہیں میں نے انکی طرف سے حاضری سے استثنی کی درخواست دی تھی، آصف زرداری نے علالت کی وجہ سے بجٹ سیشن میں بھی شرکت نہیں کی،عدالتوں میں رش ہوتا ہے تو آصف زرداری کو بھی کورونا ہو سکتا ہے،اگر آصف زرداری پیش ہوتے ہیں تو عدالت میں رش ہو جاتا ہے،گزشتہ سماعت پر عدالت نے آصف زرداری کو حاضری سے استثنی دیا تھا،میں نے عدالت سے استدعا کی کہ اگر آصف زرداری کا پیش ہونا ضروری ہے تو آئندہ سماعت پر پیش ہو جائیں گے،عدالت نے میری استدعا نہیں مانی اور آصف زرداری کے وارنٹس جاری کر دیے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ آصف زرداری نے ہمیشہ عدالتوں کا سامنا کیا ہے اور وہ تمام کیسز میں بری ہوئے ہیں،ان کیسز میں بھی آصف علی زرداری انشاء اللہ بری ہونگے،ہم عدالتوں کا احترام کرتے ہیں۔

Courtesy Gnn news