کمرشل امپورٹرز سے امتیازی سلوک ختم کیا جائے ،فکس ٹیکس بحال کیا جائے ۔ اسٹیل انڈسٹری ، فرٹیلائزر ڈسٹری بیوٹرزڈیلرز کو کاروباری سہولتیں فراہم کی جائیں ۔ پیٹرولیم قیمتوں میں اضا فے سےبرآمدات بری طرح متاثر ہو سکتی ہیں ۔ میاں زاہد حسین

پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ، ایف پی سی سی آئی میں بزنس مین پینل کے سینئر وائس چیئرمین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ دو سال سے جاری اقتصادی زوال اور وائرس کی تباہ کاریوں کے سبب معیشت کے دیگر شعبوں کی طرح کمرشل امپورٹرز بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں جنھیں ریلیف دیا جائے ۔ درآمدات میں مشکلات کی وجہ سے فارما ، ٹیکسٹا ئل ، کیمیکل، اسٹیل ،اسکریپ سمیت بہت سے شعبے خام مال کی کمی یا عدم دستیابی کی شکایت کر رہے ہیں جس کا نوٹس لیتے ہوئے ان کا مسئلہ حل کیا جائے ۔ صنعتی خام مال کے امپورٹرزکی امپورٹ کردہ خام اشیاء کوتیار شدہ اشیاء میں شمارکرنے کی وجہ سے کمرشل امپورٹرز مسائل کا شکار ہیں اور ان کی اشیاء اضا فی ٹیکس کی وجہ سے مہنگی ہو جانے کی وجہ سے کمرشل امپورٹرز کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جار ہا ہے ۔ کمرشل امپورٹرز کےلئے فکسڈ ٹیکس کا سابقہ نظام بحال کیا جائے ۔ میاں زاہد حسین نے بزنس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ سابقہ نظام کی بحالی ہی صنعت و تجارت کو بڑے پیمانے پر نقصان سے بچا سکتی ہے اس لئے اس پر سنجیدگی سے غور کیا جائے ۔ کمرشل امپورٹرز کی اکثریت کا کاروبار تباہ ہو چکا ہے اورپاکستان سمیت دنیا بھر میں کرونا وائرس کی وجہ سے کاروبار کی بندش اور لاک ڈاءون کی وجہ سے انکا سرمایہ پھنس گیا ہے جس کے جلد نکلنے کی کوئی امید بھی نہیں ہے ۔ اب کمرشل امپورٹرز کو سرمائے کی زبردست قلت کا سامنا ہے اس لئے انھیں فوری طور پر50لا کھ روپے تک بلا سود اور بلا ضمانت قرضے فراہم کئے جائیں ، ان کے ساتھ امتیازی سلوک ختم کیا جائے اور انھیں مسا وی کاروباری حقوق دئیے جائیں تاکہ وہ اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پال سکیں ۔ سرمائے کی کمی کے سبب درآمدکنندگان خام مال درآمد کرنے کے قابل نہیں رہے جسے ادویات کی صنعت میں محسوس کیا جا رہا ہے اور جلد ہی ٹیکسٹائل اور دیگر صنعتوں کو بھی خام مال کی کمی کا سامنا کرنا ہو گا جس سے بچنے کے لئے بروقت اقدامات کی ضرورت ہے ورنہ برآمدات بھی بری طرح متاثر ہونگی جو پہلے ہی مشکلات سے دوچار ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ شناختی کارڈ کی شرط نے معاشی سرگرمیوں کو توقعات سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے جسے فوری طور پر کمرشل امپورٹرز سمیت تمام شعبوں کے لئے ختم کیا جائے، ایک سال کے لئے آڈٹ ختم کئے جائیں ،فرٹیلائزر ڈسٹری بیوٹرز اور ڈیلرز کےلئے ٹیکس کا پرا نا نظام بحال کیا جائے ۔ اپیل دائر کرنے کےلئے 10فیصد پیشگی ادا ئیگی کی شرط ختم کی جائے ورنہ بہت سے کاروبار بند ہو جائیں گے جس سے حکومت کو محاصل کی کمی اور عوام کو بے روزگاری کا سامنا کرنا ہو گا ۔ پیٹرولیم کی قیمتوں میں حالیہ ذبردست اضا فے سے مہنگائی میں اضا فہ ہوگا جس سے لا گت میں اضا فہ ہونے برآمدات بھی بری طرح متا ثر ہونے کا اندیشہ ہے