صوبہ سندھ واحد صوبہ ہے، جس نے 18 ویں ترمیم کے بعد محکمہ محنت میں 16 نئے قوانین بنائیں ہیں – وزیر تعلیم و محنت سندھ سعید غنی

وزیر تعلیم و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ صوبہ سندھ واحد صوبہ ہے، جس نے 18 ویں ترمیم کے بعد محکمہ محنت میں 16 نئے قوانین بنائیں ہیں۔ صوبے میں جبری مزدوری کے حوالے سے 10 اضلاع میں وہاں کے ڈپٹی کمشنرز کی نگرانی میں ویجیلنس کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں جبکہ مزید اضلاع میں کمیٹیوں کی تشکیل کے لئے متعلقہ کمشنرز و ڈپٹی کمشنرز کو تحریری طور پر لکھ دیا گیا ہے، سکھر میں ورکرز ویلفئیر بورڈ کے تحت مزدوروں اور محنت کشوں کو فلیٹس اور مکانوں کی فراہم کرنے کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں تاہم کوویڈ19 کے باعث اس میں تاخیر ہورہی ہے۔ محکمہ محنت اور یونیسف کے درمیان معاہدے کے تحت صوبے میں بچوں سے مزدوری کے خاتمے کے لئے سروے کا کام شروع کیا جائے گا اور اس کے بعد 2017 کے قانون کے تحت اس پر عمل درآمد کرایا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز سندھ اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران مختلف ارکان اسمبلی کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کے تحریری اور ضمنی سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کیا۔ صوبائی وزیر محنت و تعلیم سعید غنی نے اپوزیشن خاتون رکن سدرا عمران کی جانب سے صوبہ سندھ میں جبری مزدوروں کے حوالے سے تحریری سوال کے جواب میں ایوان کو بتایا کہ صوبہ سندھ میں جبری مشقت کے متعلق کوئی رپورٹ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ صوبے میں جبری مشقت کے خاتمے کے لئے پرعزم ہے اور اس حوالے سے سندھ اسمبلی نے پہلے ہی سندھ جبری مشقت نظام (خاتمہ) کا بل 2015 اسمبلی سے منظور کرایا ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ صوبہ سندھ تمام صوبوں میں واحد صوبہ ہے، جس نے 18 ویں ترمیم کے بعد محکمہ محنت صوبے کے زیر انتظام آنے کے بعد اس کے 16 نئے قوانین بنائیں ہیں اور یہ تمام قوانین مزدوروں کی فلاح و بہبود اور ان کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے بنائیں گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج تک کسی صوبے نے اس حوالے سے کوئی قانون سازی نہیں کی ہے۔ ضمنی سوال پر انہوں نے کہا کہ اس قانون کے تحت 2 سے 5 سال تک کی سزا اور 1 لاکھ یا اس سے اوپر کا جرمانہ ہے یا دونوں سزائیں دی جاسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ صوبے میں جبری مشقت نہیں ہورہی ہے لیکن اس حوالے سے محکمہ یا متعلقہ کمیٹیوں کو کسی نے کوئی شکایات درج نہیں کی ہے۔ اپوزیشن رکن اسلم ابڑو کی جانب سے ورکرز ویلفیئر بورڈ سندھ کی جانب سے مزدوروں کو فلیٹس، مکانات اور پلاٹس کی رپورٹ طلب کرنے پر صوبائی وزیر سعید غنی نے ایوان کو بتایا کہ اس وقت تک صوبے کے 18725 مزدوروں کو یہ سہولیات فراہم کی گئی ہیں، جن میں 5813 مزدوروں کو مکانات، 7469 کو فلیٹس اور 5443 کو پلاٹس فراہم کئے گئے ہیں جبکہ سکھر اور دیگر اضلاع میں ہزاروں فلیٹس تیار ہیں اور اس حوالے سے تمام قواعد کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کو مزدوروں کے حوالے کئے جانے کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں تاہم بدقسمتی سے کوویڈ 19 کے باعث اس میں تاخیر ہوئی ہے۔ اپوزیشن رکن عبدالرشید کی جانب سے محکمہ محنت کے ورکرز ویلفیئر بورڈ کی جانب سے 2016-18 کے دوران مزدوروں کو دی جانے والی شادی گرانٹ، ڈیتھ گرانٹ اور اسکالرشپ کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیر محنت و تعلیم سندھ سعید غنی نے جواب میں بتایا کہ اس عرصہ میں شادی گرانٹ کی مد میں 1 لاکھ 5 ہزار 700 ملین کی رقم، ڈیتھ گرانٹ کی مد میں 2 لاکھ 9 ہزار 300 ملین رقم اور اسکالرشپ کی مد میں 43 ہزار 195 ملین روپے کی رقم مزدوروں اور محنت کشوں کو فراہم کی گئی ہے۔ انہوں نے ضمنی سوالات کے جوابات میں بتایا کہ صوبہ سندھ واحد صوبہ ہے، جس نے قوانین میں ترامیم کرکے اب مزدوروں کی 2 بچیوں کی بجائے اس کی تمام بچیوں کو شادی مددجس کی رقم 1 لاکھ روپے ہے فراہم کرنا شروع کیا ہے۔ اسی طرح اگر کسی رجسٹرڈ مزدور کی موت واقع ہوجائے تو اس کے وارث کو 5 لاکھ روپے جبکہ مزدور کے بچوں کو تین کیٹیگری میں اسکالرشپ کی فراہمی کی جاتی ہے، جس میں پوسٹ میٹرک کے بچے کو فی کس سالانہ 19200 روپے، پوسٹ انٹرمیڈیٹ بچے کے لئے سالانہ 30 ہزار روپے اور پوسٹ ڈگری بچے کے لئے سالانہ 42 ہزار روپے کی فراہمی کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ کسی مزدور کا بچہ بہت قابل ہو اور وہ ایچ ای سی سے منظورشدہ کسی بھی شعبہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا چاہے تو اسے تمام تعلیمی اخراجات بھی دئیے جاتے ہیں۔ بچوں سے مزدوری کے حوالے سے پوچھے گئے تحریری اور ضمنی سوالات کے جواب میں صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ ہم نے صوبے میں بچوں کی مزدوری کے حوالے سے سنجیدگی لیتے ہوئے 2017 میں قانون بنایا اور اس کے رولز بھی بنا لئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس قانون کے تحت کام کررہے ہیں اور اس سلسلے میں یونیسف کے اشتراک سروے کا کام بھی شروع کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے کچھ لوگوں کو رکھا بھی گیا ہے لیکن کرونا کے باعث یہ کام تعطل کا شکار ہوا ہے، جیسے ہی صورتحال بہتر ہوگی یہ کام شروع کردیا جائے گا اور اسے چند ماہ میں مکمل کرلیا جائے گا اور بعد ازاں قانون کے مطابق کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔ ایک اور رکن کی جانب سے محکمہ محنت کے تحت چلنے والی اسپتالوں کے سوال کے جواب میں وزیر محنت سندھ نے بتایا کہ صوبے میں 5 بڑے اسپتال اور 48 ڈسپنسریاں کام کررہی ہیں اور سکھر میں ایک مزید اسپتال کے حوالے سے کام کیا جارہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان اسپتالوں میں 1218 ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل اور نرسنگ اسٹاف کے مقابلے 738 ہیں جبکہ 480 اسامیاں خالی ہیں تاہم سندھ ہائی کورٹ میں ایک کیس کے باعث اسٹے کے باعث ان خالی اسامیوں کو پر نہیں کیا جاسکا ہے اور اس سلسلے میں ہم نے اینی قانونی ٹیم کو ہدایات دے دی ہیں کہ وہ معزز عدلیہ سے اس حوالے سے درخواست دیں کہ جس طرح معزز عدلیہ چاہیں ہم یہ اسامیاں پر کرلیں۔