بلدیہ عظمیٰ کراچی کی کونسل نے آئندہ مالی سال 2020-21 کے لئے 24 ارب 84 کروڑ 59 لاکھ 86 ہزار روپے میزانیہ کی منظوری دے دی،

کراچی ( ) بلدیہ عظمیٰ کراچی کی کونسل نے آئندہ مالی سال 2020-21 کے لئے 24 ارب 84 کروڑ 59 لاکھ 86 ہزار روپے میزانیہ کی منظوری دے دی، میئر کراچی وسیم اختر نے

پیر کو میزانیہ منظوری کیلئے کے ایم سی کونسل میں پیش کیا، تقریباً 1 کروڑ روپے سے زائد کے فاضل میزانیہ میں اخراجات کا تخمینہ 24 ارب 83 کروڑ 54 لاکھ 22 ہزار روپے لگایا گیا ہے، اس موقع پر ڈپٹی میئر کراچی سید ارشد حسن اورمیٹروپولیٹن کمشنر ڈاکٹر سید سیف الرحمن بھی موجود تھے، بجٹ میں کل آمدن (Current Receipts) میں 20 ارب 67 کروڑ 60 لاکھ 60 ہزار روپے اور (Capital Receipts) 1ارب 66 کروڑ 94 لاکھ 26 ہزار روپے جبکہ فنڈز برائے ڈسٹرکٹ اے ڈی پی 2 ارب 50 کروڑ 5 لاکھ روپے ہے۔ اسی طرح اسٹیبلشمنٹ اخراجات 15 ارب 57 کروڑ 38 لاکھ 77 ہزار روپے اور Contingent،2 ارب 15 کروڑ 36 لاکھ 55 ہزار روپے ریپیئر اور مینٹی ننس 21 کروڑ 96 لاکھ 45 ہزار جبکہ ڈیویلپمنٹ پروجیکٹس / کاموں کا تخمینہ 4 ارب 38 کروڑ 77 لاکھ 45 ہزار روپے ہے،

ڈسٹرکٹ اے ڈی پی اخراجات کا تخمینہ 2 ارب 50 کروڑ 5 لاکھ روپے ہے۔مالی سال 2020-21 کے بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا۔بجٹ اجلاس کے آغاز پر مختلف اراکین کی طرف سے پیش کی گئی تعزیتی قراردادوں

میں سابق ناظم کراچی نعمت اللہ خان ایڈوکیٹ، جماعت اسلامی کے سابق امیر سید منور حسن، مفتی محمد نعیم، علامہ طالب جوہری، طارق عزیز، صبیحہ خانم، یوسی چیئرمین ارتضیٰ خان، شاہد خان،شاہنواز احمداور صوبائی وزیر مرتضیٰ بلوچ کے انتقال پر تعزیت کے علاوہ کراچی میں پی آئی اے کا طیارہ گرنے سے جاں بحق ہونے والے افراد اور ضلع وسطی اور جنوبی میں رہائشی عمارتوں کے گرنے سے جاں بحق ہونے والے افراد کے لئے دعائے مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لئے دعا کی گئی جبکہ سٹی کونسل نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر حملے کی شدید مذمت اور اس واقعہ میں شہادت پانے والے افراد کی مغفرت کے لئے بھی دعا کی، میئر کراچی وسیم اختر نے اپنے دور کا چوتھا بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہماری حتیٰ الامکان کوشش رہی ہے کہ بلدیاتی سطح پر شہریوں کوزیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جائیں۔ کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے پاکستان سمیت پوری دنیا کا نظام درہم برہم ہوگیا ہے ان حالات میں مستقبل کے لئے کسی بھی قسم کی منصوبہ بندی کرنا آسان نہیں ہے۔ پہلے سے جاری معاشی بحران اور محدود اختیارات نے ہمارے ہاتھ باندھ رکھے تھے جبکہ کورونا ایمرجنسی نے ہماری آمدنی کو انتہائی محدود کردیا تھا۔کے ایم سی کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ حکومت کی جانب سے ملنے والا شیئر ہوتا ہے۔ مالی سال 2020-21 کے بجٹ میں ترقیاتی کاموں کی مد میں مختص کی گئی رقم کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے ایوان کو بتایا کہ آئندہ مالی سال کے دوران کراچی کے تمام اضلاع میں سڑکوں، فٹ پاتھوں، سیوریج لائن، پلوں اور چورنگیوں کی مرمت وبحالی کے لئے680 ملین روپے جبکہ متفرق اسپیشل ڈیویلپمنٹ پروجیکٹ 120 ملین روپے، نہر خیام کلفٹن کے لئے 120 ملین روپے، مختلف یونین کونسلوں میں ترقیاتی کاموں پر 120 ملین روپے خرچ کئے جائیں گے، بڑے اسپتالوں کے لئے 100 ملین روپے کے وینٹی لیٹرز خریدے جائیں گے جبکہ اسپتالوں میں طبی اور برقی آلات کی خریداری کے لئے 100 ملین روپے مختص کئے ہیں، کڈنی ہل پارک کی ترقی کے لئے 100ملین روپے،شہاب الدین مارکیٹ کمرشل پارکنگ پلازہ کی ترقی کے لئے 300 ملین روپے، بڑی سڑکوں کی ترقی اور روشنی کے انتظام کے لئے 100 ملین روپے کے ایم سی کے بڑے پارکس کی ترقی کے لئے 100ملین روپے، برساتی نالوں کی صفائی کے لئے 100 ملین روپے بجٹ میں مختص کئے گئے ہیں جبکہ فلائی اوورز، انڈر پاسز اور پلوں کی بہتری، ذوالفقار آباد آئل ٹینکرز پارکنگ ٹرمینل (فیز II)، نئے فائراسٹیشن کی تعمیر، لینڈ فل سائٹس پر گاربیج کی بڑی مقدار میں منتقلی سمیت ہر مد میں 75 ملین روپے رکھے گئے ہیں، اسی طرح چڑیا گھر اور سفاری پارک کی ترقی و بہتری کے لئے 52 ملین روپے اور جانوروں اور پرندوں کی خریداری کے لئے 50 ملین روپے مختص کئے ہیں۔ مختلف محکموں کے لئے میزانیے میں مختص کی گئیں رقوم کی تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جیسا کہ میڈیکل اینڈ ہیلتھ سروسز کے لئے 5097.242 ملین روپے، پینشن فنڈ اور دیگر متفرق اخراجات کے لئے 5855.600 ملین روپے، میونسپل سروسز کے لئے 3499.033 ملین روپے، محکمہ انجینئرنگ کے لئے 2805.431 ملین روپے، ریونیو ڈپارٹمنٹس بشمول لینڈ انفورسمنٹ، اسٹیٹ، کچی آبادی، پی ڈی اورنگی اور چارجڈ پارکنگ کے لئے 1150.729 ملین روپے، پارکس ہارٹیکلچر 1134.226 ملین روپے، کلچرل اسپورٹس اینڈ ریکریشن 867.300 ملین روپے، ٹرانسپورٹ اینڈ کمیونیکشن 380.465 ملین روپے، فنائنس اینڈ اکاؤنٹس (ایم یو سی ٹی) کے لئے 368.921 ملین روپے، محکمہ قانون کے لئے 168.249 ملین روپے، انٹر پرائز اینڈ انویسٹمنٹ پروموشن کے لئے 80.496 ملین روپے، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے لئے 66.198 ملین روپے اور سیکریٹریٹ کے لئے 861.032 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ مالی سال 2020-21 ء کے دوران مختلف محکموں سے متوقع ریونیو کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے میئر کراچی نے کہا کہ متوقع ریونیو میں حکومت سے ملنے والی گرانٹ 13,188.437 ملین روپے جبکہ کے الیکٹرک پر کے ایم سی کے واجبات کی مد میں 4,409.040 ملین روپے اور ڈسٹرکٹ اے ڈی پی سے 2,500.500 ملین روپے متوقع ہیں، اسی طرح مختلف محکموں سے ہونے والی ریونیو ریکوری میں سب سے اہم ریونیو محکمے لینڈ انفورسمنٹ، اسٹیٹ، کچی آبادی، پی ڈی اورنگی اور چارجڈ پارکنگ سے 1523.126 ملین روپے، فنانس اینڈ اکاؤنٹس (MUCT) سے 1232.560 ملین روپے، ٹرانسپورٹ اینڈ کمیونیکیشن سے 661.500 ملین روپے، کے پی ٹی پر کے ایم سی کے واجبات کی مد میں 550 ملین روپے، ویٹرنری سروسز سے 205.763 ملین روپے، کلچر اسپورٹس اینڈ ریکریشن سے 195.850 ملین روپے، سندھ بلڈنگ اتھارٹی سے انکم ٹرانسفر کی مد میں 100 ملین روپے، محکمہ انجینئرنگ سے 81.500 ملین روپے، میڈیکل اینڈ ہیلتھ سروسز سے 72.500 ملین روپے، میونسپل سروسز سے 70.500 ملین روپے، پارکس اینڈ ہارٹیکلچر سے 37.900ملین روپے، انٹر پرائز اینڈ انویسٹمنٹ پروموشن سے 15.625 ملین روپے اور سیکریٹریٹ اور انفارمشین ٹیکنالوجی سے 1.185 ملین روپے ریونیو کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ کورونا وائرس کے حوالے سے بلدیہ عظمیٰ کراچی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عباسی شہید اسپتال میں شہریوں کی سہولت کے لئے مفت کورونا وائرس ٹیسٹ سروس کا آغاز کرتے ہوئے جدید لیبارٹری قائم کردی ہے جہاں روزانہ 65پی سی آرٹیسٹ کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ یہ پاکستان کے کسی بھی بلدیاتی ادارے کے تحت پہلا اسپتال ہے جہاں اس ٹیسٹ کی سہولت مہیا کی گئی ہے۔ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے زیر انتظام کراچی کے 5 قبرستان کورونا وائرس کے باعث انتقال کرنے جانے والوں کے لئے مختص کئے ہیں۔ قبرستانوں میں گورکنوں کو خصوصی حفاظتی لباس مہیا کئے گئے تاکہ ان قبرستانوں میں تدفین کا عمل بغیر کسی رکاوٹ جاری رہے۔ کورونا سے متاثرہ مریضوں کو بلدیہ عظمیٰ کراچی کے زیر انتظام کراچی انسٹیٹیوٹ آف کڈنی ڈیزیززمیں مفت ڈائیلاسز کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے جبکہ عنقریب یہاں خصوصی وارڈ‘ہائی ڈیپینڈینسی یونٹ (HDU)اور آئی سی یو بھی کام شروع کر دیں گے۔میئر کراچی نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی بھی کورونا ایمرجنسی کی وجہ سے کئے گئے اقدامات کے باعث ریونیو کی شدید کمی سے دو چار رہی ہے اور اس کی آمدنی انتہائی محدود ہو کر رہ گئی۔ مجبوراً ہمیں وزیراعلیٰ سندھ کو خط لکھ کر کے ایم سی کی گرانٹ ان ایڈ 165 ملین روپے تک بڑھانے کی درخواست کرنا پڑی کیونکہ کے ایم سی کو تنخواہوں، پینشن، ریٹائرڈ ملازمین کے واجبات کی ادائیگی اور فائررسک الاؤنس کی ادائیگی میں مسلسل شارٹ فال کا سامنا تھا جبکہ ماہانہ 15 فیصد تنخواہ اور پینشن میں اضافے کی وجہ سے 166.12 ملین اضافی درکار تھے گوکہ اس حوالے سے بلدیہ عظمیٰ کراچی کو بہت کم مدد مل سکی تاہم حاضر سروس اور ریٹائرڈ ملازمین کی مالی مشکلات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہم نے تنخواہوں میں 15 فیصد اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا اور مئی 2020ء کی تنخواہ میں یہ اضافہ شامل کردیا جس سے ملازمین کا ایک دیرینہ مطالبہ پورا ہوا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال سالانہ ترقیاتی پروگرام میں جو اسکیمیں رکھی گئی تھیں وہ فنڈز کی عدم فراہمی کے باعث مکمل نہیں کی جاسکیں۔آئندہ سال ان اسکیموں کے لئے بھی رقم مختص کی ہے جبکہ منتخب نمائندوں،یوسی چیئرمینوں اور محکمہ جاتی سربراہان نے نئی اسکیموں کے لئے بھی تجاویز دی ہیں جن میں مختلف علاقوں میں سڑکوں کی تعمیر، سیوریج اور پانی کی لائنوں، کے ایم سی کے لینڈ، مالیات، میونسپل یوٹیلیٹی سروسز، جنرل ایڈمنسٹریشن اور دیگر محکموں کی مکمل کمپیوٹرائزیشن، تفریحات کی سہولیات اور نئے پارکوں کی تعمیر شامل ہیں۔ گزشتہ 4 سالوں میں مختص کئے گئے فنڈز اور کے ایم سی کو ملنے والے فنڈز کی تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سالانہ ترقیاتی فنڈز کی مد میں حکومت سندھ کی جانب سے2016-17 میں 5000 ملین روپے مختص کئے گئے لیکن کے ایم سی کو 4100 ملین روپے دیئے گئے۔ 2017-18 میں 5000 ملین روپے مختص تھے لیکن 4100 ملین روپے دیئے گئے۔ 2018-19 میں 5000 ملین روپے مختص تھے لیکن 2500 ملین روپے دیئے گئے۔ 2019-20 میں تو انتہا کردی گئی 3333 ملین روپے مختص تھے لیکن صرف 625 ملین روپے جاری کئے گئے۔ جس کے باعث کراچی کی 400 ترقیاتی اسکیمیں بری طرح متاثر ہوئی۔ 300 اسکیموں پر کاموں کا باقاعدہ آغاز نہیں ہوسکا۔ میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ ہماری یہ خواہش رہی ہے کہ پورے شہر کو ایک ساتھ ترقی دی جائے لہٰذا اسی سوچ کے ساتھ ہم نے صرف متحدہ قومی موومنٹ سے تعلق رکھنے والے یوسیز چیئرمینز کے علاقوں میں ہی کام نہیں کئے بلکہ دیگر جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اراکین کونسل کے علاقوں میں بھی مساوی بنیادوں پر ترقیاتی کام کرائے ہیں اور متعدد ترقیاتی اسکیمیں مکمل کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے گزشتہ سال حزب اختلاف کی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اراکین کونسل کی طرف سے دی گئیں اسکیمیں بھی اپنے ترقیاتی پلان میں شامل کی تھیں تاہم حکومت کی طرف سے فنڈز کی عدم فراہمی کے باعث ان پر عملدرآمد ممکن نہ ہوسکا، ہم نے تمام جماعتوں سے رابطہ کیا اور خاص طور پر وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر مرتضیٰ وہاب سے ڈپٹی میئر کی سربراہی میں کے ایم سی کے ایک وفد نے جناب کرم اللہ وقاصی کے ہمراہ ملاقات بھی کی اور ان سے اپیل کی کہ کراچی کے مفاد میں کے ایم سی کو فنڈز فراہم کئے جائیں مگر افسوس کہ اس کا کوئی جواب نہ آیا اور نہ ہی ہمیں فنڈز فراہم کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی شہر میں سڑکوں کے انفرا اسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لئے ہم نے کئی اہم منصوبے بنائے اور ان میں سے بعض کو وزیر اعظم کے کراچی پیکیج میں شامل کرایا، جس کے نتیجے میں یہ منصوبے کراچی کو ملے اور اب یہ مکمل بھی ہوچکے ہیں۔ ان منصوبوں میں تین فلائی اوورز سخی حسن فلائی اوور، فائیو اسٹار چورنگی فلائی اوور اور کے ڈی اے چورنگی فلائی اوور کی تعمیر سب سے اہم ہے جس پر 2386 ملین روپے لاگت آئی ہے۔ جام چاکرو سے بنارس چوک تک 8.1 کلو میٹر طویل منگھو پیر روڈ کی تعمیر کی گئی جس پر 2440.50 روپے کی لاگت آئی ہے۔تین ہٹی سے نیپیئر روڈ تک اور بنارس چوک سے نشتر روڈ تک منگھو پیر روڈ کی تعمیر کا منصوبہ شامل تھا جس پر 1900 ملین روپے کی لاگت کا تخمینہ تھا۔محکمہ فائر بریگیڈ کی بحالی اور اپ گریڈیشن کے لئے 1876 ملین روپے کی رقم مختص ہے۔ملیر بند سے دادا بھائی ٹاؤن تک اور ایکسپریس وے سے پی این ایس مہران لمٹ تک سڑک کی تعمیر اور ڈسٹرکٹ ملیر میں لنک روڈ کی تعمیر پر کراچی پیکیج میں 499 ملین روپے فراہم کئے گئے۔اس کے علاوہ بنارس چوک سے مزار اور لو لین برج تک منگھوپیر روڈ کی بحالی اور فراہمی آب کی سپلائی لائن کی تبدیلی، نشتر روڈ سے گرو مندر تک جہانگیر روڈ اور گرومندر حسین شہید روڈ تک سولجربازار روڈ کی بحالی اور مرمت شامل ہیں۔ میئر کراچی نے کہا کہ میری ذاتی کوششوں سے پرائم منسٹر پیکیج میں کیبنٹ ڈویژن کے پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ سیل نے کراچی کے لئے سوا چھ ارب روپے لاگت کے منصوبوں کی منظوری دی ہے جس میں سے ایک ارب روپے ہمیں مل چکے ہیں اور بقایا رقم اگست 2020 تک مل جائے گی ان تمام منصوبوں کے ٹینڈر کئے جاچکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کے ایم سی کے پاس نالوں کی صفائی کے لئے فنڈز نہیں ہیں لہٰذا حکومت سندھ سے درخواست ہے کہ وہ اس سلسلے میں فوری فنڈز جاری کریں تاکہ کراچی کے شہری کسی بھی ممکنہ اربن فلڈ سے بچ سکیں۔